جنگیں لڑنا بلاشبہ بڑے دل گردے کی بات ہوتی ہے، لیکن دو انتہائی سخت گیر ممالک کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کیلئے فریقین کو کسی ثاتفاق رائے پر لانا اس سے بھی زیادہ حوصلے، صبر و استقامت اور تحمل و بردباری کا کھیل ہے اور پاکستان نے یہ کھیل جیت لیا ہے، جہاں ایک طرف ایران امریکہ امن ڈیل پر بھارت اور اسرائیل میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے وہیں ایرانی میڈیا کا ایک بڑا حصہ پاکستان کو اور خاص طور پر پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک نجات دہندہ کے طور پر دیکھ رہا ہے کہ جس کی وجہ سے ان کے ملک کو 4 عشروں کی خوفناک عالمی تنہائی سے نجات ملنے جا رہی ہے، ایران میں اعتدال پسند ذرائع ابلاغ اور سفارتی حلقوں کے بعض تبصروں سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت (MOU)نے خطے میں ایک نئی امید پیدا کر دی ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اس پیش رفت میں پاکستان کی پس پردہ رابطہ کاری اور اعتماد سازی کا کردار ایک قابلِ ذکر سفارتی کامیابی ہے۔ ایسے تجزیہ کار پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی سفارتی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے دو متحارب طاقتوں کے درمیان مشترکہ نکات تلاش کرنے میں معاونت کی۔ اگر یہ ڈیل پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے تو پاکستان یقینا مبارک باد کا مستحق ہے، کیونکہ دشمنیوں کے ماحول میں مکالمے کے دروازے کھولنا جنگیں جیتنے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہوتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایرانی ذرائع ابلاغ کے ردِعمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران کے اندر اس معاہدے کے بارے میں مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ ایک طرف قدامت پسند اور سخت گیر حلقے اسے ایک قسم کی مجبوری یا وقتی پسپائی قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف اعتدال پسند اور اصلاح پسند میڈیا اسے ایران کے لیے ایک تاریخی موقع سمجھ رہا ہے۔ اور ایرانی عوام کی بڑی تعداد اس ڈیل سے بہت سی توقعات وابستہ کیئے ہوئے ہے، اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایرانی عوام کی بھاری اکثریت کا پاکستان اور خاص طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ممنون احسان ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ اصلاح پسند اخبار ’’شرق‘‘ نے اپنے ادارئیے میں اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ برسوں کے معاشی دبا، پابندیوں اور بین الاقوامی تنہائی نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اخبار کے مطابق ایران ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں محدود سفارتی لچک یا مکمل معاشی بحران میں سے کسی ایک کا انتخاب ناگزیر ہو گیا تھا۔ شرق نے اس معاہدے کو امریکی دبا کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے ایک سوچا سمجھا سفارتی اقدام قرار دیا ہے۔ اسی طرح ایران کے ایک اور روزنامہ ’’اعتماد‘‘ نے زور دیا ہے کہ یہ کسی ایک سیاسی دھڑے کا فیصلہ نہیں بلکہ پورے ریاستی نظام کی متفقہ حکمت عملی ہے۔ اخبار نے ان عناصر پر تنقید کی جو معاہدے کو متنازع بنا کر داخلی انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت اور اس کے حامی حلقے اس مفاہمت کو قومی مفاد کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اصلاح پسند رجحان رکھنے والے ’’آرمانِ ملی‘‘ نے اس معاہدے کے معاشی پہلوں پر توجہ مرکوز کی۔ اخبار کے مطابق اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پابندیوں میں نرمی، تیل کی برآمدات میں آسانی اور بحری تجارت پر عائد رکاوٹوں کے خاتمے کے عملی نتائج سامنے آئیں گے۔ گویا ایرانی عوام کی توجہ نظریاتی مباحث سے زیادہ معاشی بہتری پر مرکوز ہے۔دوسری جانب معتدل ویب سائٹ ’’خبر آن لائن‘‘نے اس معاہدے کو ’’اجتماعی دانش کی انتہاپسندی پر فتح‘‘ قرار دیا ہے۔ اس تجزئیے میں واضح طور پر یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سفارت کاری اور مذاکرات نے وہ راستہ کھولا ہے جو دہائیوں کی محاذ آرائی نہیں کھول سکی۔یہ تمام آرا ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
ایران کے اعتدال پسند اور اصلاح پسند حلقے اس معاہدے کو چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط معاشی و سفارتی تنہائی سے نکلنے کا ایک موقع سمجھ رہے ہیں۔ ان حلقوں کے نزدیک قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ ایران عالمی معیشت سے دوبارہ جڑے اور اپنے عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرے۔پاکستان نے اس مفاہمتی عمل میں جو کلیدی اور مثر سفارتی کردار ادا کیا ہے اس حوالے سے ایرانی اعتدال پسند میڈیا کے مجموعی تاثر سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس کردار کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ایرانی سخت گیر اور انقلابی حلقے اب بھی اس معاہدے کے ناقد ہیں اور اسے نظریاتی اصولوں سے انحراف تصور کرتے ہیں۔نتیجتا کہا جا سکتا ہے کہ ایرانی میڈیا دو واضح دھڑوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ سخت گیر حلقے معاہدے کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ اعتدال پسند اور اصلاح پسند ذرائع ابلاغ اسے ایک تاریخی موقع قرار دے رہے ہیں۔ ان میڈیا تبصروں کا مجموعی مطالعہ یہ تاثر دیتا ہے کہ ایران کے معتدل حلقے سفارتی حل، علاقائی استحکام اور ایسے ممالک کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جنہوں نے کشیدگی کم کرنے میں مدد دی۔ اسی تناظر میں پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی لمحہ ہے جسے مستقبل کی علاقائی سیاست میں ایک مثبت مثال کے طور پر تادیر یاد رکھا جائے گا۔