Search
Close this search box.
منگل ,21 جولائی ,2026ء

مولانا کی تلخ نوائی کس امر کا شاخسانہ

سیاست کے بازار میں خاموشی ہمیشہ رضا مندی کی دلیل نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموشی وہ آخری چادر ہوتی ہے جسے ایک تجربہ کار مسافر اپنے کندھوں پر اس امید سے ڈالے رکھتا ہے کہ شاید قافلے کا سالار پلٹ کر اس کی طرف دیکھ لے۔،لیکن جب نگاہیں مسلسل دوسری سمت مرکوز ، جب فیصلوں کی میز پر بیٹھے لوگ اپنے ہی بنائے ہوئے دائروں میں اس قدر گم ہو جائیں کہ برسوں کے رفیق بھی انہیں اجنبی دکھائی دینے لگیں، تب خاموشی کی چادر اترتی ہے اور لفظوں کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تلخی، محض تلخی نہیں رہتی بلکہ ایک سیاسی اعلامیہ یا،بیانیہ بن جاتی ہے۔مولانا فضل الرحمن کی حالیہ گفتگو کو اگر صرف ایک ناراض اتحادی کے شکوے سے تعبیر کیا جائے تو شاید یہ پاکستانی سیاست کی سب سے پرانی کتاب کو سرسری نگاہ سے پڑھنے کے مترادف ہوگا۔ مولانا ان سیاست دانوں میں سے نہیں جو ہر صبح ایک نیا مقف اور ہر شام ایک نیا پرچم اٹھا لیتے ہیں۔ ان کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے فیصلوں پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں، مگر یہ انکار مشکل ہے کہ وہ اقتدار کی بساط پر بچھے مہروں کی چال پہچاننے والے چند آخری کھلاڑیوں میں سے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کس دروازے پر دستک دینا ہے، کس دروازے کو خاموش رہنے دینا ہے اور کس لمحے دستک کو ضرب میں بدل دینا ہے۔گزشتہ چند ہفتوں سے ان کے لہجے میں جو تلخی در آئی ہے، وہ کسی ایک وزارت، کسی ایک کمیٹی یا کسی ایک سیاسی رعایت کی محرومی کا ماتم نہیں۔ اس تلخی کے پیچھے ایک پرانا سوال کھڑا ہے ، کیا اقتدار اپنے رفقائے سفر کو منزل تک پہنچنے سے پہلے بھول جاتا ہے؟
پاکستانی سیاست کا المیہ یہ نہیں کہ یہاں اختلاف بہت ہے ، اصل المیہ یہ ہے کہ یہاں یادداشت بہت کمزور ہے۔ انتخابی موسم میں جن کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اعتماد کی قسمیں کھائی جاتی ہیں، اقتدار کے موسم میں وہی کندھے غیر ضروری بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اقتدار کی راہداریوں میں داخل ہوتے ہی وفاداری کا پیمانہ بدل جاتا ہے۔ اصول، مفاد کی الماری میں رکھ دیے جاتے ہیں اور رفاقت سرکاری فائلوں کی طرح کسی میز کے کونے میں دھول چاٹنے لگتی ہے۔شاید اسی لیے مولانا نے اپنے مخصوص انداز میں شکوہ کیا۔ انہوں نے نام کم لئے، اشارے زیادہ دیے۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاست میں کھلا تیر کبھی کبھی ہدف سے گزر جاتا ہے، مگر کنایے کا تیر دیر تک دل میں پیوست رہتا ہے۔یہ ملک عجیب ہے۔ یہاں اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والا اکثر یہ گمان کر لیتا ہے کہ موسم ہمیشہ اس کے موافق رہیں گے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ سیاست میں خزاں کبھی اطلاع دے کر نہیں آتی۔ کبھی ایک خاموش اتحادی، کبھی ایک ناراض دوست، کبھی ایک نظرانداز کیا گیا کردار پورے موسم کا رخ بدل دیتا ہے۔مولانا کی تلخ نوائی شاید اسی بدلتے ہوئے موسم کی پہلی ہوا ہے۔ اس ہوا میں شکوہ بھی ہے، تنبیہ بھی، اور ایک ایسا سوال بھی جس کا جواب صرف حکمرانوں کو نہیں بلکہ پوری سیاسی اشرافیہ کو دینا ہوگا۔آخر یہ کیسی سیاست ہے کہ انتخاب سے پہلے ہر دروازہ کھلا ہوتا ہے، مگر اقتدار ملتے ہی دربان بدل جاتے ہیں؟ یہ کیسا جمہوری مزاج ہے کہ رائے مانگی جاتی ہے، مگر رائے دینے والا بعد میں بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے؟کہتے ہیں کہ سیاست امکانات کا کھیل ہے۔ لیکن جب امکانات صرف چند ہاتھوں میں قید ہو جائیں تو باقی تمام کردار محض تماشائی رہ جاتے ہیں۔ مولانا شاید اسی تماشے پر برہم ہیں۔ ان کی تلخی دراصل اس احساس کی ترجمان ہے کہ شراکت صرف ضرورت کے وقت یاد کی جاتی ہے، عزت کے وقت نہیں۔سیاست کی تاریخ بتاتی ہے کہ سلطنتوں کو ہمیشہ مخالفین نے نقصان نہیں پہنچایا، کبھی کبھی وہ دوست بھی زوال کا سبب بنے جنہیں بروقت سنا نہیں گیا۔ بے اعتنائی، اختلاف سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہے، کیونکہ اختلاف بولتا ہے، بے اعتنائی خاموشی سے فاصلے پیدا کرتی ہے۔آج سوال یہ نہیں کہ مولانا کیوں ناراض ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار کے ایوان اس تلخی میں چھپی ہوئی آہٹ سن رہے ہیں، یا حسبِ روایت اسے بھی وقتی شور سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے؟کیونکہ سیاست میں ہر تلخ جملہ صرف شکوہ نہیں ہوتا، بعض اوقات وہ آنے والے سیاسی موسم کی پہلی آہٹ بھی ہوتا ہے۔ مگر سوال صرف مولانا کا نہیں۔ سوال اس سیاسی مزاج کا ہے جو ہر انتخاب کے بعد اپنا حافظہ کھو بیٹھتا ہے۔
اقتدار کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے جن ہاتھوں کو مضبوطی سے تھاما جاتا ہے، ایوانوں کے دروازے کھلتے ہی انہی ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی کر دی جاتی ہے۔ گویا رفاقت بھی ایک انتخابی منشور ہے مدتِ استعمال ختم ہوئی اور صفحہ پلٹ دیا گیا۔مولانا کی تلخ نوائی اسی فراموشی کے خلاف احتجاج معلوم ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاست میں خاموش رہنے والا اکثر تاریخ کے حاشیے پر لکھ دیا جاتا ہے، اس لئے انہوں نے اپنی موجودگی کا اعلان لفظوں سے نہیں، لہجے سے کیا ہے۔ یہ لہجہ کہتا ہے کہ ’’میں ابھی بساط پر موجود ہوں، مجھے مہرہ سمجھنے کی غلطی مت کرنا۔‘‘ پاکستانی سیاست میں ایک عجیب روایت چلی آ رہی ہے۔ یہاں اختلافات کبھی اصولوں پر نہیں، اکثر حصوں پر ہوتے ہیں۔ جب حصہ مل جائے تو اختلاف مفاہمت میں ڈھل جاتا ہے، اور جب حصہ کم محسوس ہونے لگے تو مفاہمت بھی نظریاتی اختلاف کا لباس زیب تن کر لیتی ہے۔ عوام حیران رہ جاتے ہیں کہ کل جو ایک دوسرے کو جمہوریت کا دشمن کہتے تھے، آج قومی مفاد کے نام پر دست شفقت ایک دوسرے کے کندھوں پر رکھے کھڑے ہیں۔اسی منظرنامے میں صدر آصف علی زرداری کا کردار بھی ایک الگ باب ہے۔ وہ شاید اس سیاسی لغت کے آخری مترجم ہیں جس میں دشمنی کو ملاقات اور ملاقات کو مفاہمت میں بدلنے کا ہنر محفوظ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاست میں ہر دروازہ بند نہیں کیا جاتا کچھ دروازے صرف اس لیے نیم وا رکھے جاتے ہیں کہ کل اگر ہوا کا رخ بدلے تو واپسی کا راستہ موجود رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مخالف بھی ان سے محتاط رہتے ہیں اور حلیف بھی۔دوسری طرف اقتدار کے کچھ مسافر ایسے بھی ہیں جو ہر بار یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ تاریخ کا آخری باب انہی کے ہاتھوں لکھا جائے گا۔ انہیں شاید خبر نہیں کہ پاکستان کی سیاست میں آخری باب کبھی لکھا ہی نہیں جاتا ، یہاں ہر اختتام ایک نئے آغاز کا دیباچہ بن جاتا ہے۔مولانا نے جو تیر چھوڑا ہے، وہ شاید کسی ایک شخصیت کے لئے نہیں، ایک پورے سیاسی رویے کے لیے ہے۔ وہ رویہ جس میں اقتدار کو دائمی سمجھ لیا جاتا ہے، اور رفاقت کو عارضی۔ حالانکہ سیاست کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اقتدار عارضی ہوتا ہے، تعلقات دیرپا۔ ایوانوں میں بیٹھے اہلِ اقتدار کو شاید یہ احساس نہیں کہ ناراض اتحادی ہمیشہ فوری خطرہ نہیں ہوتے، مگر وہ مستقبل کی سیاست کا رخ ضرور بدل سکتے ہیں۔ آندھیاں ہمیشہ شور سے نہیں اٹھتیں کبھی کبھی ایک آہ، ایک طنز اور ایک تلخ جملہ بھی موسم بدلنے کے لئے کافی ہوتا ہے ۔آج اگر مولانا کے الفاظ میں تندی ہے تو اس کی وجہ صرف ذاتی شکوہ نہیں۔ اس کے پس منظر میں وہ اضطراب بھی ہے جو ایک ایسے سیاسی نظام کو دیکھ کر جنم لیتا ہے جہاں اعتماد کا پیمانہ اقتدار کے ساتھ بدل جاتا ہے۔ کل کا محسن آج غیر ضروری قرار پاتا ہے اور آج کا رفیق کل کا مخالف بننے میں دیر نہیں لگاتا۔شاید اسی لیے ہماری سیاست میں مستقل مزاجی سے زیادہ مستقل مفاد زندہ رہتا ہے۔ نظریات جلسوں کی زینت بنتے ہیں، جبکہ فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں۔ عوام ہر بار سمجھتے ہیں کہ اس مرتبہ شاید کچھ بدل جائے، مگر بدلتا صرف چہرہ ہے، کردار نہیں؛ اسٹیج وہی رہتا ہے، صرف اداکار نئے لباس پہن لیتے ہیں۔مولانا کی تلخ نوائی کو اگر محض ایک ناراضگی سمجھ کر ٹال دیا گیا تو ممکن ہے اقتدار ایک بار پھر اس غلطی کو دہرائے جس کی قیمت ہماری سیاسی تاریخ کئی بار ادا کر چکی ہے۔ کیونکہ اقتدار کی سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں کہ اس کے مخالف زیادہ ہوتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے خیر خواہوں کی خاموش آہوں کو سن نہیں پاتا۔شاید اسی لئے یہ تلخ نوائی محض ایک بیان نہیں، ایک آئینہ ہے۔ اب فیصلہ ایوانوں نے کرنا ہے کہ وہ اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتے ہیں یا حسبِ روایت آئینہ ہی توڑ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں