Search
Close this search box.
منگل ,21 جولائی ,2026ء

ماحولیاتی تبدیلیاں، موسم اور ہم

موسم اور انسان کا رشتہ بھی کیا رشتہ ہے ۔آتے جاتے موسموں کی بدلتی رتیں اپنے اندر کمال کا ہنر رکھتی ہیں۔ کبھی نت نئے پھول اپنی رنگین قبائوں سے خوشبو بکھیرتے انسان کو نئی تازگی اور شگفتگی بخشتے ہیں۔ کبھی گرم موسموں کی شام میں نیم خنک سی ہوائیں جانے کہاں سے چلتی او ر دل و دماغ کو اک خوشگوار پیغام دیتی جانے کہاں نکل جاتی ہیں۔ کبھی سرد موسموں میں نکلتی چمکتی دھوپ منجمند زندگی کو ایک نیا جوبن عطا کرتی ہے۔ موسم کی ان کروٹوں سے ایک ہی رت سے اکتائی زندگی بھی نئی کروٹیں لیتی ہے ۔بہاروں کی آمد کا نقارہ بجاتے سرسبز کھلیان جب گل و گلزار ہوتے ہیں تو کئی رنگ کی کونپلیں انسان کے اندر بھی کھلنا شروع ہو جاتی ہیں۔موسموں کی ان میٹھی میٹھی تھپکیوں سے انسان تو کیا چرند پرند بھی جھومنا شروع کر دیتے ہیں۔
نہ جانے انسان نے ان موسموں سے کیا چھیڑ چھاڑ کی کہ موسم بھی اب ہم سے روٹھے روٹھے لگتے ہیں۔ دریائوں کی روانی میں اضطراب ،موسموں کی پیشانی پر شکنیں اور بادلوں کی گھن گرج میں ایک بے چینی ہے۔ اب بادل کڑکتے نہیں، پھٹتے ہیں اور برستے ہی چلے جاتے ہیں۔دریا بھی اب بہتے نہیں، بپھرتے ہیں ۔ انسان مرتے ہیں، بستیاں اجڑتی ہیں، فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، مال مویشی بہہ جاتے ہیں۔ انسان اس نقصان سے ابھی نکلا نہیں ہوتا کہ پھر سے گھوم کر وہی افتاد دستک دینے لگتی ہے۔ پورا ماحول قدرت کے غصے اور قہر کی ایک تصویر پیش کرتا نظر آتا ہے۔ پاکستان ان تبدیلیوں کا صرف تماشائی نہیں، بلکہ اس کے متاثرین میں شامل ہے۔ پچھلے برسوں بادل پھٹنے کے واقعات میدانی علاقوں تک بھی دیکھے گئے ۔ بادل کہاں ، کتنا پھٹے گا ، اس کی پیش گوئی کرنا بھی ممکن نہیں۔ چکوال میں آیا حالیہ بارشی سیلاب اس کی بڑی مثال ہے ۔چند برس پہلے تک سیلاب ایک موسمی حادثہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب وہ قومی المیہ بن چکا ہے۔ کبھی سندھ ڈوبتا ہے، کبھی بلوچستان کی بستیاں ریلوں کی نذر ہو جاتی ہیں، کبھی خیبر پختونخوا کے پہاڑ پتھر گراتے اور کبھی پنجاب کی فصلیں بے موسم بارشوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ یہ صرف موسم کی بیوفائی نہیں، انسان کی بے احتیاطی کا انجام بھی ہے۔بقول قتیل شفائی
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا
قدرت نے زمین کو انسان کی جاگیر نہیں، امانت بنایا تھا۔ مگر ہم نے امانت کو ملکیت سمجھ لیا۔ جنگلات کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ جانا، دریاؤں کو کچرے اور تعمیرات کی نذر کیا، فضاؤں کو دھوئیں سے بھر دیا، پہاڑوں کا سینہ چیر دیا، اور پھر حیران ہیں کہ موسم ہم سے ناراض کیوں ہے۔ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ گندم، کپاس، چاول، گنا، پھل اور سبزیاں صرف خوراک نہیں، کروڑوں لوگوں کے روزگار کا وسیلہ بھی ہیں۔ جب موسم اپنی ترتیب کھو دیتا ہے تو صرف فصلیں تباہ نہیں ہوتیں، کسان کا حوصلہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک سال سیلاب، دوسرے سال خشک سالی، تیسرے سال شدید گرمی، چوتھے سال ژالہ باری۔ موسمیاتی تبدیلی صرف کھیتوں تک محدود نہیں۔ شہر بھی اس کی زد میں ہیں۔ کنکریٹ کے جنگل گرمی کو قید کر رہے ہیں۔ درخت کم ہوتے جا رہے ہیں، ہوا کا گزر رک رہا ہے اور شہروں کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بچے کھیل کے میدانوں سے محروم ہیں، بزرگ کھلی فضا کو ترس گئے ہیں، اور پرندے اپنے گھونسلوں سے بیدخل ہوتے جا رہے ہیں۔قدرت کا ایک عجیب اصول ہے۔ وہ انتقام نہیں لیتی، صرف توازن بحال کرتی ہے۔ جب انسان اس توازن کو بگاڑتا ہے تو قدرت خاموشی سے اپنا حساب برابر کرتی ہے۔پاکستان کے شمال میں واقع گلیشیٔر ہمارے دریاؤں کی امانت ہیں۔ آج وہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ یہ پگھلائو آج سیلاب تو کل کو خشک سالی لائے گا، جب پگھلنے کو گلیشیرز بھی نہیں بچیں گے۔
ان تمام آنے والی ماحولیاتی تبدیلیوںکی بنیادی وجہ کاربن کا اخراج بتایا جاتا ہے جس میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اس حوالے سے ہمارے وزیر اعظم نے بلاشبہ اقوام متحدہ کے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے اور ترقی پزیر ممالک کو ان آفات سے نمٹنے کے لئے ایک عالمی فنڈ کے قیام کے لئے بھی سفارت کاری کی گئی ہے ۔ قومی سطح پر برقی گاڑیوں کے فروغ کی پالیسی بھی قابل ستائش ہے۔ پنجاب کا کردار بھی بڑا نمایاں ہے جہاں سموگ سے خاتمے کی کاوشوں کو تمام دنیا نے سراہا ہے۔ ستھرا پنجاب ایک ایسا بے مثال اور کامیاب منصوبہ ہے کہ جس نے دنیا کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔صفائی ستھرائی کے اچھے نظام سے نکاسی آب کو بھی سہارا ملتا ہے کہ پلاسٹک اور دوسرے کچرے کا پانی کے راستوں میں جمع ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں پہلے ضلع اور اب تحصیل کی سطح پر ماحول دوست برقی بسوں کا ٹرانسپورٹ کا نظام لایا جا رہا ہے جو عوام کے لئے ایک سستی اور آرام دہ سہولت کے ساتھ ساتھ ماحول کے لئے بھی سازگار ہے۔
پاکستان کے متعلقہ اداروںنے اس سال بھی آنے والی سیلابی بارشوں سے خبردار کرتے ہوئے قومی و صوبائی حکومتوں اور اداروں سے کہا ہے کہ وہ آنے والی افتاد سے نمٹنے کی ہر ممکن تیاری کر لیں۔ مانا کہ یہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بننے والے کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ بہت ہی کم ہے۔ مگر جو نقصانات ہم ہر سال اٹھاتے ہیں ان کا سبب برسوں سے چلتی ہماری اپنی کوتاہیاں بھی ہیں۔ ہم بڑے بڑے ڈیمز نہیں بنا سکے جو اس پانی کو نہ صرف ذخیرہ کرتے بلکہ خشک سالی کے دنوں میں ہمارے کام بھی آتے۔ دریائوں کی روایتی گزر گاہوں کے کنارے آبادیاں اور ہوٹل بننے کے عمل کو ہم نہ جانے کب سے روک رہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر شجر کاری کر کے درختوں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے، جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کا روک تھام کرنا ہو گا مگر اس کے لئے مقامی آبادیوں کو ایندھن کا متبادل بھی دینا ہوگا کہ جنگلات کی لکڑی کے بنا تو ان کا چولہا بھی بجھ جائے گا۔ سڑکوں، ہائسنگ سوسائٹیوں اور دیگر تعمیرات کی زد میں آنے والے ایک ایک درخت کو وہاں سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی تکنیک کا استعمال کرنا ہو گا۔صنعتوں کی چمنیوں اور گاڑیوں سے نکلنے والے سیاہ دھوئیں کو روکنے کے لئے قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ شہروں میں بھی سبزے کے اضافے کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کو مزید موثر بنانا ہوگا۔ پلاسٹک کے بیگز کی سختی سے حوصلہ شکنی ہی نہیں، مکمل پابندی کی ضرورت ہے کہ یہ پانی کے بہائو کو روک کر صورت حال مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ان بیگز پر پابندی لگتی ہے مگر آہستہ آہستہ یہ پھر بازاروں میں عام ملنے لگتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سکولوں، کالجوں اور مدرسوں میں ماحولیاتی تعلیم کو فروغ دیا جائے اور عوامی آگہی کے لئے دیگر پلیٹ فارمز بھی استعمال کئے جائیں۔ یہ سب کام وقت کے ساتھ ساتھ ہو گئے ہوتے تو آج موسم کی ان غصیلی ادائوں کا مقابلہ کرنا کہیں آسان ہوتا۔وقت آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے ۔ آئیے سب مل کر جتنا جس کا کردار ہے ادا کریں تاکہ آتے جاتے موسموں کو ہم اپنی زندگی کا ساتھی بنا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں