(گزشتہ سے پیوستہ)
نشہ صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے خاندان کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایک نشے کا عادی شخص اپنی صحت، عزت، تعلیم، روزگار اور رشتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ بعض عناصر نوجوانوں کو آسان دولت کی خاطر اس دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔ اس ناسور کے خاتمے کے لیے صرف قانون نافذ کرنا کافی نہیں بلکہ گھر، اسکول، مسجد اور معاشرے کو مل کر نوجوانوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت کرنا ہوگی۔آج ہم وقت کی قدر بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ گھنٹوں بے مقصد موبائل فون، فضول ویڈیوز، غیر ضروری بحثوں اور سوشل میڈیا پر ضائع کر دیے جاتے ہیں، مگر علم حاصل کرنے، کتاب پڑھنے، والدین کے ساتھ بیٹھنے یا اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے لیے وقت نہیں نکالا جاتا۔ حالانکہ وقت وہ سرمایہ ہے جو ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو کبھی واپس نہیں آتا۔ کامیاب قومیں وقت کو دولت سے بھی زیادہ قیمتی سمجھتی ہیں، جبکہ زوال پذیر قومیں اسے معمولی چیز سمجھ کر ضائع کر دیتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں عدل و انصاف کی کمزوری بھی بے راہ روی کو جنم دیتی ہے۔ جب مجرم کو سزا نہ ملے اور بے گناہ انصاف کے لیے برسوں عدالتوں کے چکر لگاتا رہے تو لوگوں کا قانون پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ انصاف صرف عدالتوں کا نام نہیں بلکہ گھر، اسکول، دفتر، بازار اور حکومت ہر جگہ انصاف کا بول بالا ہونا ضروری ہے۔ اسلام نے عدل کو حکومت کی بنیاد قرار دیا ہے، کیونکہ انصاف ہی وہ ستون ہے جس پر مضبوط معاشرہ قائم ہوتا ہے۔افسوس یہ بھی ہے کہ ہم نے اجتماعی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ سڑک پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہو، صفائی کا خیال نہ رکھنا ہو، بجلی اور پانی کی چوری ہو یا قومی املاک کو نقصان پہنچانا، ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ اگر دوسرا کر رہا ہے تو ہم کیوں نہ کریں۔ یہی سوچ آہستہ آہستہ پوری قوم کو نقصان پہنچاتی ہے۔ قومیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرے۔قرآنِ کریم بار بار انسان کو سچائی، عدل، امانت، صبر، تقوی اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی پوری زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ، خیانت، ظلم، بدزبانی یا تکبر کو پسند نہیں فرمایا بلکہ محبت، معافی، رحم، برداشت اور خدمتِ خلق کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ اگر ہم واقعی اپنی معاشرتی برائیوں سے نجات چاہتے ہیں تو ہمیں محض نعروں سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے سنتِ نبوی ﷺ کو زندہ کرنا ہوگا۔اصلاح کی ابتدا ہمیشہ اپنے آپ سے ہوتی ہے۔ اگر ہر شخص یہ عہد کر لے کہ وہ رشوت نہیں لے گا، جھوٹ نہیں بولے گا، کسی کی حق تلفی نہیں کرے گا، والدین کا احترام کرے گا، بچوں کی اچھی تربیت کرے گا، سوشل میڈیا کو مثبت مقصد کے لیے استعمال کرے گا اور اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دے گا تو پورے معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔ قوموں کی تقدیر حکومتیں ضرور بدلتی ہیں، لیکن اس سے پہلے افراد اپنا کردار بدلتے ہیں۔پاکستان آج بھی بے شمار صلاحیتوں، قدرتی وسائل، ذہین نوجوانوں اور مضبوط نظریاتی بنیادوں کا حامل ملک ہے۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم مایوسی کے بجائے امید، نفرت کے بجائے محبت، کرپشن کے بجائے دیانت، ظلم کے بجائے انصاف اور خود غرضی کے بجائے خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔ اگر ہم نے اپنی اخلاقی بنیادوں کو مضبوط کر لیا تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان ترقی یافتہ، خوشحال اور باوقار ممالک کی صف میں کھڑا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔ لہذا وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنا احتساب کریں، اپنے گھروں سے اصلاح کا آغاز کریں اور ایک ایسے پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں جہاں دیانت داری عزت سمجھی جائے، انصاف طاقت بنے، علم روشنی پھیلائے اور اخلاق ہر انسان کی پہچان ہو۔ یہی راستہ ہماری بقا، ہماری عزت اور ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں برداشت کا دامن سکڑتا جا رہا ہے۔ معمولی اختلافات دشمنی میں بدل جاتے ہیں، سیاسی وابستگیاں رشتوں پر غالب آ جاتی ہیں، مسلکی اور لسانی تعصبات دلوں میں نفرت کے بیج بو دیتے ہیں، اور ذاتی انا اس قدر بڑھ چکی ہے کہ معاف کرنا کمزوری سمجھا جانے لگا ہے۔ حالانکہ مہذب معاشروں کی بنیاد برداشت، مکالمے اور باہمی احترام پر قائم ہوتی ہے۔ اختلافِ رائے فطری امر ہے، لیکن اختلاف کو نفرت اور انتقام میں تبدیل کر دینا معاشرتی تباہی کی علامت ہے۔
(جاری ہے )