پاکستان کی موجودہ سیاسی اور سفارتی صورتحال پر نظر ڈالیں تو ایسے عوامل بکثرت نظر آتے ہیں جو ملک کی داخلی سالمیت اور بین الاقوامی تعلقات دونوں کے لیے نازک موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔المیہ لیکن یہ ہے کہ اپوزیشن ہر مرحلہ پر یہ ثابت کرنے میں ہمیشہ کامیاب رہی ہے کہ اسے ملکی مفاد نام کی کسی چیز سے کوئی واسطہ نہیں ۔اپوزیشن لیڈر کے پاس ملکی سلامتی کے اجلاسوں میں شرکت کا وقت نہیں ، افغانستان سے ہونےو الی دہشت گردی کے سلسلہ میں بات کرنے کا یارا نہیں لیکن اپنی تمام تر مصروفیات کو ایک طرف رکھتے ہوئے وہ ریاستی پالیسی کے تحت وزارت خارجہ کی اجازت اور آگاہی کے بغیر غیر ملکی سفیر وںسے طویل ملاقاتیں ضرور کرتے ہیں ۔ اپوزیشن لیڈر کسی بھی جمہوری ملک میں متبادل قیادت سمجھا جاتا ہے، وہ بھی حکومتی فیصلوں سے اختلاف تو ضرور کرتے ہیں لیکن ملکی سلامتی اور ریاستی پالیسیوں کے خلاف کبھی نہیں جاتے ۔پاکستان میں بھی آج تک ہمیشہ یہی اصول اپنایا گیا ،1971میں سانحہ سقوط ڈھاکہ کے بعد اپوزیشن وزیرا عظم ذوالفقار علی بھٹو کو اس سانحہ کا مجرم قرار دیتے تھے ، لیکن جب ذوالفقار علی بھٹو بھارت سے مذاکرات کے لئے جانے لگے تو پوری اپوزیشن ایئر پورٹ پر کھڑی تھی ، بھٹو کی حمائت کرتے ہوئے ، رخصت کرنے کی خاطر ۔ ضیاءالحق کو بھٹو کا قاتل کہا جاتا ہے ، لیکن اسی ضیاء حکومت میں جب افغانستان کے معاملہ پر جنیوا مذاکرات کے سلسلہ میں سیاسی قیادت کا اجلاس بلایا گیا تو بے نظیر بھٹو تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیرا عظم ہائو س پہنچیں اور اجلاس میں شرکت کی ۔ مگر افسوس کہ ایک ایسی نسل پیدا ہو چکی ہے ، جسے روایات کا احساس ہے نہ جمہوری اقدار کی پروا ۔ حد تو یہ کہ ملکی سلامتی اور دفاع تک کے امور میں یہ لوگ ہر سازشی سر سے آواز ملانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں، وہ بھی جن کے بال سفید ہوگئے ، سیاست کے میدان میں جن کی عمریں گزر گئیں ،لیکن اب بھی بے شعور ہجوم کا حصہ بننے پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔ اپوزیشن لیڈرمحمود اچکزئی کے پاس ملکی سلامتی کے لئے کسی اجلاس میں شرکت کے لئے فرصت نہیں ، لیکن غیر ملکی سفیروں سے کسی شیڈیول کے بغیر ہنگامی ملاقاتوں کے لئے تیار ہیں ۔ وہ بھی ایک ایسے پس منظر میںجب خطے میں بد امنی عروج پر ہے اور پاکستان اپنی سلامتی اور امن کو بچانے کی خاطرانتہائی محتاط سفارت کاری کررہا ہے ۔ ایسے میں یہ ملاقات ملک کے سیاسی بحث و مباحثے اور سفارتی تعلقات کے نازک توازن کو خراب کرنے کی سوچی سمجھی سازش سے کم نہیں ۔
پاکستان کے برطانیہ سمیت تمام یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ ہمیشہ سے اچھے تعلقات ہیں ، برطانیہ کے ساتھ صرف اچھے ہی نہیں قابل اعتماد تعلقات ہیں ، مستقبل میں بھی پاکستان مثبت تعلقات چاہتا ہے۔ سفارتی آداب کا تقاضا یہ ہے کہ ریاستی معاملات میں رابطہ منتخب حکومت کے ذریعے ہو، اپوزیشن لیڈر کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ غیر ملکی نمائندوں سے ملاقاتوں کی شفافیت اور مقاصد واضح ہوں تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی یا شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں ۔ افغانستان کے حوالے سے اپوزیشن لیڈرکا مشکوک لب ولہجہ اورپاکستان کے خلاف سخت تنقید کے رجحان کو بھی پیش نظر رکھا جائے تو ان کی ان ملاقاتوں کے مقاصد سمجھ میں آنا مشکل نہیں ۔ ماضی میں ان کی تقریروں میں افغانستان سے ہونےو الی دہشت گردی پر تنقید کم اور پاکستان کے خلاف سخت بیانات زیادہ سننے کو ملے ہیں۔ اس رویے نے کئی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے، کیونکہ یہ پاکستان کے قومی مفادات اور خطے کی سیاسی استحکام کے تناظر میں حساس موضوع ہے۔یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ غیر ملکی سفارتکاروں سے ملاقاتیں محض رسمی یا اتفاقیہ ہیں یا کسی بڑے گیم پلان کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں ریاست مخالف سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ، اپوزیشن رہنمائوں کی غیر ملکی نمائندوں سے چوری چھپے ملاقاتیں، ممکنہ طور پر کسی داخلی یا بین الاقوامی حکمت عملی کے اشارے بھی ہو سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں، ریاستی اور قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے مکمل شفافیت اور رابطہ منتخب حکومت کے ذریعے ہونا نہایت ضروری ہے۔پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں، قائدِ حزبِ اختلاف کے کردار کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی اپوزیشن رہنما کی سرگرمیاں اور غیر ملکی ملاقاتیں اس حد تک محدود ہونی چاہئیں کہ وہ ملکی مفادات اور ریاستی سلامتی سے متصادم نہ ہوں۔ محمود خان اچکزئی کی حالیہ ملاقاتیں ایک پیچیدہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں، جس میں داخلی اور خارجی عناصر یکجا ہو کر کسی بڑے مقصد کے لیے کام کر رہے ہوں۔
خطے کے تناظر میں افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ افغانستان کے لیے نرم مؤقف اور پاکستان پر سخت تنقید کا ملا جلا تاثر نہ صرف سیاسی اختلافات کو بڑھاتا ہے بلکہ قومی سلامتی کے حلقوں میں بھی سوالات پیدا کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں، کسی بھی غیر ملکی ملاقات یا سیاسی سرگرمی کی مکمل نگرانی اور شفافیت نہ صرف ضروری بلکہ لازمی ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور اس کے معیشت پر اثرات پر تبادلۂ خیال بھی اہمیت رکھتا ہے۔ معاشی استحکام کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اور داخلی سیاست کے لیے بنیادی ستون ہے۔ اگر معاشی پالیسی اور سیاسی فیصلے غیر شفاف ہوں یا ان میں تضاد نظر آئے، تو اس کا اثر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اعتماد پر پڑتا ہے۔یہ تمام صورتحال پاکستان کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک نازک اور اہم موڑ ہے۔ داخلی سالمیت، قومی سلامتی، معاشی استحکام، اور بین الاقوامی تعلقات سبھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں، غیر ملکی ملاقاتوں کی شفافیت، ریاستی پالیسی میں اپوزیشن کا مناسب کردار، اور قومی مفاد کی ترجیح لازمی ہے۔