شراب خانہ خراب کو ام الخبائث کہا جاتا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اشرافیہ کو یہ محبوب بہت ہے۔ اس کی حمائت میں وہ کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے، یہاں تک کہ اپنی عزت و احترام اور سیاسی امیج کی بھی پرواہ نہیں۔ یہ منظر دیکھ کر تو قدیم یہود بھی شرما جائیں جنہیں تاریخ منافقت اور ضمیر فروشی کا امام مانتی ہے۔ ہمارے ہاں تو منافقت بھی ایک اعلیٰ درجے کا فن بن چکی ہے، زبانیں تو اسلامی احکام کی تلاوت کرتی ہیں، ہاتھ جام اٹھاتے ہیں جسے قرآن نے شیطان کا عمل قرار دیا، اور دل اطمینان سے کہتے ہیں کہ “یہ تو بس اس لئے کہ ایک طبقہ محروم نہ ہو جائے”۔ وہ اقبال نے کہا تھا کہ :
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
خبر ہے کہ ’’سندھ اسمبلی میں اقلیتی رکن کے مطالبے نے مسلمان اراکین کو مشکل میں ڈال دیا، ہندو رکن نے شراب کی خرید و فروخت پر پابندی کا مطالبہ کر دیا، لیکن مسلمان اراکین نے اس کی مخالفت کر دی، اور قرارداد مسترد کر دی۔ ایم کیو ایم کے اقلیتی رکن انیل کمار نے کہا کہ اقلیت کے نام پر سندھ میں شراب کے اسٹور کھلے ہیں، شراب ایک معاشرتی برائی ہے، تمام مذاہب میں اس کی ممانعت ہے۔ کراچی میں شراب کی خرید و فروخت کا تمام کاروبار غیرقانونی ہے، شراب کی فروخت کے نام پر اقلیتوں کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ عوام کے لیے میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ کراچی میں چھوٹے بڑے 57 مندر ہیں لیکن کراچی میں شراب کے 80 اسٹور ہیں۔ یہ اسٹور صرف مذہبی تہوار پر شراب فروخت کر سکتے ہیں لیکن ان پر خرید و فروخت 365 روز جاری رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منگل کو میری جانب سے قرارداد پیش کی گئی تو اپوزیشن نے اس کی حمایت کی لیکن افسوس حکومتی بینچوں نے اس کی مخالفت کی۔ انیل کمار نے بتایا کہ میں نے اپنی ایک نجی قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ شراب ایک معاشرتی برائی ہے، کسی مذہب میں اس کی اجازت نہیں، صوبے بھر میں شراب کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور شراب خانوں کے تمام لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ اس کے جواب میں وزیر قانون و داخلہ ضیا لنجار نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ آج میرے دوست تھوڑے سے جذباتی لگ رہے ہیں، اس سے ایک بہت بڑا طبقہ محروم ہو جائے گا۔ جس پر اسپیکر نے رائے لی تو حکومتی اراکین نے اس کی مخالفت کی اور ایوان نے قرارداد مسترد کر دی۔‘‘یہ منظر دیکھ کر حافظ کی آواز کانوں میں گونجتی ہے:
آن تلخ وش کہ صوفی ام الخبائثش خواند
اشہیٰ لنا وأحلی من قبلۃ العذاری
یعنی وہ کڑوی شراب جسے صوفی “ام الخبائث” کہتا ہے، ہمارے نزدیک بوسے سے بھی زیادہ شیریں ہے۔حافظ نے تو یہ طنز صرف ظاہری زاہدوں پر کیا تھا۔ آج معاملہ الٹ ہے، خود وزیر قانون اور مسلمان اراکین اسمبلی ہیں جو منہ سے اسلامی جمہوریہ کا نعرہ لگاتے ہیں،اس آئین کے تحفظ کا حلف لیتے ہیں جس کی شق 2-A کہتی ہے ، ’’ملک میں کوئی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بن سکتا ‘‘ اور یہ ، اسمبلی میں “ام الخبائث” کی حفاظت کرتے ہیں۔سعدی شیرازی تو صدیوں پہلے ہی فرماچکے کہ نشہ عقل کو بیچ دینے کے مترادف ہے۔
گر از مستیِّ می عقلِ تو رفت
ز عقلِ خویشتن بےخبر مشو
یعنی اگر مے کی مستی سے تیری عقل چلی گئی تو اپنی عقل سے ہی بے خبر نہ ہو جا۔مگر ہمارے ہاں تو عقل بیچنے کا معاملہ اب فرد کا نہیں، اجتماعی ہو چکا ہے۔ اسمبلی کے اندر عقل بیچ دی گئی، ضمیر بیچ دیا گیا، اور اب بس یہ باقی رہ گیا کہ: “جذباتی نہ ہو جاؤ، ایک طبقہ محروم ہو جائے گا”۔ اقبالؒ زندہ ہوتےتو اس منظر کو دیکھ کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیتے اور بلند آواز میں پکار اٹھتے
یہ ہے میکدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے
یہ حرم نہیں ہے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے
اقبال ؒنے مسلمانوں کو بار بار جھنجھوڑا تھا کہ تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا،مگر آج کے’’ شاہین ‘‘ اسمبلی میں بیٹھ کر شراب کےسٹورز کی حفاظت کر رہے ہیں، ایک سے دوسری جگہ شراب کے لائسنس کی تجدید کی پرواز۔ “جذباتی نہ ہو جاؤ، ایک طبقہ محروم ہو جائے گا”حکومتی بینچوں کی یہ ہفوات سن کر حافظ کی ایک اور آواز یاد آتی ہے:
زاہد ارادت مے وصلِ خدا میخواہد
ما را بہ جام بادۂ باقی خدا میخواہد
’’یعنی زاہد خدا کی رضا چاہتا ہے مگر مے کے ذریعے، ہم بھی وہی باقی جام مانگتے ہیں۔‘‘مگر فرق یہ ہے کہ حافظ کا نام نہاد زاہد کم ازکم شرماتا تھا، چھپاتا تھا۔ ہمارے ہاں تو اب شرم کا دروازہ ہی توڑ دیا گیا ہے۔ وزیرصاحب فرماتے ہیں:”اس سے ایک بہت بڑا طبقہ محروم ہو جائے گا۔” عجب جملہ ہے جی!وہ “بہت بڑا طبقہ” کون ہے صاحب؟۔۔کیا وہ لاکھوں لوگ ، جو راشن کی لائنوں میںکھڑےہیں؟، کیا وہ لاکھوں؟ بجلی کے بل دیکھ کر جن کی نیند اڑ جاتی ہے؟ نہیں جی نہیں ، یہ عوام کالانعام جائیں جہنم میں ، وزیر صاحب اس کی محرومی کی فکر کیوں کرنے لگے ، وہ تو ان ’’ہم نفسوں ‘‘ کے لئے پریشان ہیں ،جو راتوں کو “باقی جام” میں ڈوب کر صبح ہونے سے پہلے جنت کا مزہ لے لیتے ہیں۔99 فیصد عوام روٹی کیا زندگی سے بھی محروم ہوجائے ، ہمیں کیا ، کیا بگڑ جائے گا؟ کیا واقعی اتنا بڑا سانحہ ہو جائے گا؟ پھر حافظ اد آیا :
ز نقش پائے ساقی سجدہ گاہے کردہ ام پیدا
ز سر در کوچۂ میخانہ راہے کردہ ام پیدا
’’میں نے ساقی کے نقشِ پا کو اپنی سجدہ گاہ بنا لیا ہے اور میں نے میخانے کی گلی میں اپنے سر سے ایک راستہ بنا لیا ہے۔‘‘مگر ہمارے ہاں تو فرق مٹ گیا ہے۔میخانہ اب اسمبلی کے زیر سایہ آچکا ۔لائسنس کی تجدید معزز ارکان کی رائے سے ہوتی ہے ، قرارداد مسترد اسمبلی میں ہوتی ہے،اور سب سے بڑی بات — شراب کی حفاظت کا فریضہ بھی وہی مسلمان اراکین ادا کر رہے ہیں جن کے انتخابی نعرے “اسلام زندہ باد” اور “شریعت زندہ باد ” ہوتے ہیں۔ شرم واقعی ناپید ہو چکی ، ہندو رکن اسمبلی اسلامی اصول کی بات کر رہا ہے اور مسلمان اراکین جذباتی” ہو جانے کا طعنہ دے رہے ہیں۔
دوش از مسجد سوئے مے خانہ آمد پیر ما
چیست یاران طریقت بعد ازیں تدبیر ما
(کل ہمارا پیر، مسجد سے مے خانہ کی طرف آ گیا،یاران طریقت اس کے بعد ہماری کیا تدبیر ہے؟)
ما مریداں رو بہ سوئے کعبہ چوں آریم چوں
رو بہ سوئے خانۂ خمار دارد پیر ما
(ہم مرید، کعبہ کی طرف رخ کیسے کریں جب کہ،ہمارا پیر، بھٹی کی جانب رخ رکھتا ہے)
بر در مے خانہ خواہم گشت چوں حافظؔ مقیم
چوں خراباتی شد اے یار طریقت پیر ما
(میں بھی حافظؔ کی طرح شراب خانہ کے دروازہ پر مقیم ہو جاؤں گا،جب کہ اے یار طریقت ہمارا پیر خراباتی ہو گیا ہے)