بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
دنیا میں طاقت کے پرانے پیمانے بدل رہے ہیں۔ کبھی فوجی قوت، کبھی معیشت، کبھی نظریہ۔ اب ایک اور پیمانہ سامنے آ رہا ہے۔ ڈیجیٹل فراڈ کی سپر طاقت اور یہ اعزاز مودی کے بھارت کو ملا ہے کہ اسے’’ریپ
دنیا میں طاقت کے پرانے پیمانے بدل رہے ہیں۔ کبھی فوجی قوت، کبھی معیشت، کبھی نظریہ۔ اب ایک اور پیمانہ سامنے آ رہا ہے۔ ڈیجیٹل فراڈ کی سپر طاقت اور یہ اعزاز مودی کے بھارت کو ملا ہے کہ اسے’’ریپ
جب عالمی منظرنامہ آگ اور بارود سے بھرا ہوا ہو، جب امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملوں کی تیاریوں میں مصروف ہوں، جب میزائل اور ڈرونز کی دھمکیاں آسمان میں گونج رہی ہوں، اور پاکستان دوٹوک، نڈر اور
مزید خاموش رہنے کا وقت نہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ہمیں صاف صاف دیکھنا اور سچ کو سچ کہنا ہوگا۔ جو لوگ دہشت گردی کی بربریت دیکھ کر بھی سیاسی مفادات کی ڈگڈگی بجا رہے ہیں ، انہیں کم
افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے بڑے اہتمام سے ایک تصویر جاری کی گئی ہے ، جس میں بھارت کے لیے افغان طالبان کے پہلے ناظم الامور نور احمد نور کو نئی دہلی کے جوائنٹ سیکریٹری برائے پاکستان، افغانستان اور
سوشل میڈیا اب اظہار کا پلیٹ فارم نہیں رہا، یہ ایک میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ یہاں الفاظ ہتھیار ہیں، ویڈیوز گولیاں اور جھوٹ بارود۔ ریاستوں کو گرانے کے لیے اب ٹینکوں کی ضرورت نہیں، ٹرینڈز کافی ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل
بنگلہ دیش کے کوچہ وبازار سے ایک بار پھر وہی صدا گونجنے لگی ہے جو کبھی دریائے پدما کے کناروں سے دریائے راوی تک بلند ہوا کرتی تھی ، وہی شناسا ،شناسا درد ، وہی محبت کی چاشنی ، مشترکہ
توشہ خانہ ریاست کا وہ گوشہ ہے جہاں غیر ملکی سربراہان، بادشاہوں اور معزز شخصیات کی جانب سے حکمرانوں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو دیے گئے تحائف جمع کیے جاتے ہیں۔ قانون یہ اجازت دیتا رہا ہے کہ ان تحائف
وطن عزیز کے ساتھ بھی کوئی الگ ہی معاملہ ہے کہ پون صدی سے جب بھی معیشت اٹھنے لگتی ہے ، کوئی آسیبی ہاتھ بروئےکار آتا ہے اور سب کچھ ملیا میٹ کر دیتا ہے ۔ اس بار تو شائد
اگر کوئی سمجھتا ہے کہ بھارتی میڈیا پاکستان میں کسی کا ہمدرد ہے تو اس سے بڑا جاہل کوئی نہیں ، بھارت اور اس کے میڈیا کا پاکستان سے واحد تعلق دشمنی کا ہے ، اسے یہاں صرف افراتفری کی
سرینگر کے نوگام پولیس سٹیشن میں ہلاکت خیز دھماکہ مودی حکومت کا ایک نیا فالس فلیگ آپریشن دکھائی دیتا ہے ،جس کی بنیاد پر وہ پروپیگنڈے کا طوفان مچائے گا اورکشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلے گا، یہی چانکیہ کا اصول