اگر کوئی سمجھتا ہے کہ بھارتی میڈیا پاکستان میں کسی کا ہمدرد ہے تو اس سے بڑا جاہل کوئی نہیں ، بھارت اور اس کے میڈیا کا پاکستان سے واحد تعلق دشمنی کا ہے ، اسے یہاں صرف افراتفری کی ضرورت ہے ، جس کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ، وہ کبھی یہاں کے ہندوئوں کو حمائت کا یقین دلاتے اور پاکستان چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں ، تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جا سکے اور پھر انہیں لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے ، کتنے ہیں جو اب اس سراب کو بھگت کر واپس آچکے ہیں ، کتنے ہیں جو وہاں مارے گئے ا ور کتنے ہی ہیں جو کسی وجہ سے واپس تو نہیں آئے مگر وہاں روز مرتے ا ور روز جیتے ہیں ۔ دور کیوں جائیں کل تک مکتی باہنی بنا کر پاکستانیوں کا خون بہانے اور ملک دولخت کرنے والے بنگالیوں سے ہی پوچھ لیں کہ بھارت کی حمائت نے انہیں کیا دیا ؟ مکمل اور اذیت ناک غلامی ۔ ان دنوں بنگلہ دیشیوں کا پاکستان کے لئے محبت بھرا رشتہ اور ان کی آنکھوں میں وارفتگی اور محبت کی پیاس صرف دو طرفہ چاہت کا نتیجہ نہیں ، اسے بھارتیوں کی نفرت نے سہ آ تشہ کیا ہے اور انہیں سمجھ آگئی ہے کہ وہ کس راستے کا انتخاب کر چکے تھے ۔ ایسے ہی تعلق کی تلاش بھارت کو پھر سے ہے ،پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کی ٹرینڈنگ میں کردار ادا کرنے سے بانی کی بہن کے انٹرویو تک سب ایک نئی مکتی باہنی یا اس سے کچھ کم تر کی تلاش کے سوا کچھ نہیں تاکہ انتشاریوں کو سپورٹ فراہم کرکے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کیا جا سکے۔ یہ کوئی پہلی بار ایسانہیں ہو رہا، مشرف دور میں جب نواز شریف حکومت برطرف کردی گئی تھی ، اور کلثوم نواز احتجاج کر رہی تھیں، ان دنوں بھی ایسی ہی کوشش کی گئی تھی ، نواز شریف سے واجپائی کے تعلق کا حوالہ دے کر بھارتی میڈیا نے انٹر ویو کی درخواست کی انکار پر لابنگ بھی کی گئی ،لیکن چونکہ وہ ایک سیاسی خاندان تھا ‘ دوست دشمن کی شناخت انہیں تھی ، اس لئے انکار کردیا گیا ۔ انتشاریوں کا مسئلہ یہ ہے کہ بے دماغ ہیں ، حمائت اور استعمال ہونے کا مطلب انہیں معلوم ہے نا ،انہیں اس سے کوئی غرض ۔سچ تو یہ ہے کہ ان کی بنیا دہی استعمال کرنے کے لئے رکھی گئی تھی ، اپنی سرشت سے ہٹ کر سوچنے کا سوال ہی پید انہیں ہوتا ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ ایک سیاسی پارٹی کبھی تھی ہی نہیں۔ فیض حمید کے گرفتار ہونے کے بعد بے سمت بھی ہے، انہیں کئی بہترین مواقع ملے جو ضائع کردیئے گئے۔ اب صاحبان اختیا رمیں سے اگر کسی کے دل ودماغ میں تھوڑی بہت ہمدردی یا حمایت بھی تھی، وہ ان’’ غیر سیاسی‘‘ بہنوں کے انڈین میڈیا کو انٹرویو کے مواد سے ختم ہو رہی ہے۔ وقت یہ ثابت کر رہا ہے کہ یہ سیاسی جماعت نہیں ، انتشاری ٹولہ ہے جس نے ملک کو نقصان پہنچانے اور بدنام کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔اب یہ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔حالیہ روش کو دیکھیں تو کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ عقل، سیاسی بصیرت اور حالات کا ادراک ان کے قریب سے بھی نہیں گزرا۔
اس گروپ کے پالیسی ساز شائد سمجھتے ہوں کہ بھارتی میڈیا عمران خان کی بہنوں کے انٹرویو کر کے اور بھارتی سوشل میڈیا ان کے ٹرینڈ ز میں شامل ہو کر کوئی مدد کر رہا ہے یا حکومت کو کوئی نقصان پہنچا رہا ہے تو یہ ان کی نادانی ہے ۔ حقیقت بالکل مختلف ہے۔ وہ عمران خان کی بیڑیوں میں پہلے سے بندھی رسیوں میں ایک اور گانٹھ ڈال رہے ہیں۔ ہر نیا انٹرویو، ہر نئی ویڈیو، ہر نیا بیانیہ ان کے حالات کو مزید بوجھل بنا رہا ہے۔ اگر وزارت اطلاعات بھارتی چینلز کو شکریے کا خط بھیج دے تو غلط نہ ہوگا، کیوں کہ ہر وار الٹا پی ٹی آئی کے اپنے پائوں پر پڑ رہا ہے ۔ سوال یہی ہے کہ یہ سٹریٹجی آخر کون بناتا ہے؟ عام فہم بات ہے کہ جو بھی بنا رہا ہے وہ نہ سیاسی عقل رکھتا ہے، نہ ریاستی تقاضوں کا ادراک اورنہ تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے کی صلاحیت۔ کبھی آئی ایم ایف کو پاکستان کے خلاف خط لکھتے ہیں، کبھی نیویارک میں اقوام متحدہ کے سامنے مظاہرے کرتے ہیں، کبھی مسجد نبوی کے تقدس کو پامال کرتے ہیں، کبھی امریکی سینیٹرز کو خط لکھ کر اندرونی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کی دعوت دیتے ہیں، کبھی ٹرمپ کی منت سماجت کرتے ہیں کہ آ کر ان کی سیاست کو سہارا دے۔ یہی سلسلہ مئی میں جنگی ماحول میں بھی جاری رہا، جہاں بھارت کے بیانیے کی تائید کی گئی، پاکستانی موقف کی بار بار تردید کی گئی۔ پھر مودی سے امیدیں لگانے کا مرحلہ بھی آ گیا۔ اس سے پہلے کبھی مزاروں پر سجدے، کبھی جعلی روحانی ہتھکنڈوں کے ذریعے ایٹمی ریاست چلانے کی کوشش، کبھی فیض کے جرنیلی عصا سے سیاسی مستقبل تراشنے کی سعی لاحاصل ۔ ہر قدم بے ربط، غیر ذمہ دارانہ اور خود تباہی کا راستہ۔کیا انہیں احساس نہیں ہوتا کہ ان کی ساری کوششیں کیوں خاک ہو رہی ہیں؟ کہاں گئے وہ 92 فیصد فالوورز جو سوشل میڈیا پر شور مچاتے تھے؟ لیڈر کی موت کی سوفیصد جھوٹی خبر پر پرسہ دینے بھی نہیں نکلے۔ کم از کم خیبر پختونخوا سے ہی نکل آتے جہاں ان کی حکومت ہے۔
سیاست شعور، حکمت اور اصولوں کا کھیل ہوتا ہے، شور، جذبات اور ذہنی انتشار کا نہیں۔لیڈر کی سیاسی جانشینی کے لئے جو دوڑ لگی ہوئی ہے، اس میں بھی یہ لوگ اندھوں کی طرح بھاگ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی اپنی حرکتیں ان کی سیاست کی قبر کھود رہی ہیں۔ کسی سیاسی قوت کو دشمن کی ضرورت نہیں پڑتی، اگر وہ اپنے ہاتھوں سے خود کو تباہ کرنے پر تل جائے،یہ گروہ بھی اسی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ریاست کے اداروں کو کمزور کرنے، ملک کو نقصان پہنچانے، بیرونی طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کرنے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا جو بیانیہ یہ لے کر چل رہے تھے، وہ اب خود ان پر الٹ رہا ہے۔ اب انہیں کوئی سہارا نہیں ملے گا۔ سیاست الزامات، چیخ پکار اور بیرونی طاقتوں کے کندھوں پر چلنے کا نام نہیں۔ سیاست کا راستہ وہی ہے جو قوموں کو عزت دیتا ہے، انتشار نہیں۔یہ ساری مثالیں ایک ہی بات ثابت کرتی ہیں کہ جو گروہ اپنی سمت کھو دے، اپنی عقل سے عاری ہو جائے اور دشمن کی چال کو اپنی کامیابی سمجھ لے، اس کا انجام یہی ہوتا ہے جو آج ان کےسامنے کھڑا ہے۔