جب عالمی منظرنامہ آگ اور بارود سے بھرا ہوا ہو، جب امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملوں کی تیاریوں میں مصروف ہوں، جب میزائل اور ڈرونز کی دھمکیاں آسمان میں گونج رہی ہوں، اور پاکستان دوٹوک، نڈر اور بے باک الفاظ میں اپنے برادر ملک ایران کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کر رہا ہو۔ اسی نازک اور فیصلہ کن لمحے بلوچستان میں دشمن قوتوں کا پوری قوت سے حملہ آورہونا ، دہشت گردی کا کوئی عام واقعہ نہیں ، ایک گہری، منظم اور بین الاقوامی سطح کی جنگی سازش تھی۔ اس کا مقصد واضح تھا، ایران کی سرحد پر آگ لگا کر پاکستان کو اس طرح سے انگیج کردیا جائے کہ وہ ا یران کا ساتھ نہ دےسکے، تاکہ مودی ٹرمپ کی نظروں میں خود کو سرخرو کرسکے،جو مئی میںطے شدہ مقاصد پورے نہ ہونے پر مسلسل دھتکار رہا ہے، مگر یہ سازش بھی نہ صرف ناکام ہوئی —بلکہک ابیب سے دہلی تک پھیلے اس پورے دجالی، شیطانی نظام کی بے بسی، کمزوری اور مکمل شکست کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر گئی۔ یہ محض بھارت نواز دہشت گردوں کی ذلت نہیں، ایک عالمی ایجنڈے پر کاری ضرب ہے ۔
کل 31 جنوری 2026 کی صبح جب سورج ابھی پوری طرح نہیں طلوع نہیں ہو اتھا ، بلوچستان کے شہروں ،دیہاتوں،کوئٹہ کی گلیوں سے لے کر گوادر کے ساحلوں تک، پنجگور کی پہاڑیوں سے نوشکی کے صحراؤں تک، مستونگ اور دالنبدین کے دور دراز علاقوں تک بی ایل اے کے دہشت گردوںنے ہیروف 2. 0 کے نام سے ایک وحشیانہ اور ہمہ جہت حملوں کا سلسلہ شروع کیا، پولیس اسٹیشنز پر گولہ باری، فوجی قافلوں پر خودکش دھماکوں کی کوشش، شاہراہوں پر گھات، نرم اہداف یعنی مزدور بستیوں، مسافروں اور عام شہریوں پر بزدلانہ حملے، یہ ایک طرح سے مودی کا وہی آپریشن سندور 2.0— تھا ۔ دہشت گردوں کو اپنی خرابات کی کامیابی کا اتنا یقین تھا کہ بھارتی پروپیگنڈا چینلز پر فتح کا جھوٹا جشن منانے کی تیاریاں مکمل تھیں،سوچ رہے تھے کہ آج پاکستان کا دفاع ٹوٹ جائے گا، مگر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز جو پہلے سے باخبر اور دشمن کی منتظر تھیں انہوں نے اس خبر کو عالمی میڈیا تک جانے سے پہلے ہی چند گھنٹوں میں پورا منظر پلٹ دیا! فوری، بے رحم، انتہائی منظم اور پیشہ ورانہ ردعمل ، کم ازکم 126 دہشت گرد وں کی لاشیں بے یار ومددگار نشان عبرت بنی پڑی ہیں ، نہ صرف دہشت گردی ناکام ہوئی بلکہ صوبے کا وزیرا علیٰ چند منٹ بعد ہی اس جگہ کھڑا پوری دنیا نے دیکھا جہاں دہشت گردوں نے سفاک ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے دھماکہ کیا تھا اور بھارتی میڈیا اس ایک نکر کو دکھا کر پورے بلوچستان پر قبضے کی خبریں چلارہا تھا ۔
یہ کوئی معمولی کارروائی نہیں تھی،یہ ایک زندہ تاریخ رقم کرنے والا معرکہ تھا، جو پاکستانی فورسز کی بہادری، تیاری، انٹیلی جنس کی برتری اور ناقابل شکست عزم کی شان دار اوردنیا بھر میں گونجنے والی مثال بن گیا۔ دہشت گردوں کا یہ ٹڈی دل کوئی اچانک نمودار نہیں ہوا، بلکہ یہ 10 مئی 2025 کو آپریشن بنیان مرصوص کی شدید، کراری اور تاریخی شکست کا بدلہ لینے کی گھٹیا کوشش تھی ، جب مئی میں بھارت پاکستانی فورسز کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا تھا، آج اس سے اپنے چوہوں کے ذریعے سے انقتام لینے کی ٹھانی ، مگر ناکامی نامرادی اور ہزیمت ایک بار پھر اس کا مقدر ٹھہری ۔ مئی میں بھارتی فوجی تنصیبات پٹھانکوٹ ایئربیس، ادھم پور، آدم پور، برہموس میزائل ڈپو، شمالی کمانڈ ہیڈ کوارٹرز، متعدد اہم فوجی تنصیبات تباہ ہوئی تھیں ، رافیل گرائے گئے، ڈرونز مار گرائے گئے، میزائل برسائے گئے، بھارتی فوج کو ایسی عبرت ناک شکست ہوئی ، بس ناقابل فراموش ۔اسی ذلت، ہزیمت اور پسپائی کا بدلہ چکانے کے لیے پوری تیاری کے ساتھ یہ نیا حملہ کروایاگیا، ایک سال سے دہلی میں چھپا را کا سب سے بڑاور قیمتی اثاثہ بشیر زیب بھی میدان میں لانا پڑا تاکہ دہشت گردوں کو موٹی ویشن دی جا سکے ، مگر ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ‘‘۔
بھارت کا دکھ دہرا تھا اول آپریشن بنیان مرصوص کی شکست ، دوسرا جون میں اسرائیلی حملوں کے دوران پاکستان کی مدد سے ایرانی سرزمین سے بوریا بستر گول ، چانکیہ کا چیلا مودی ،چپ تو نہ رہ سکتا تھا ، ایرانی سیستان نہ سہی افغان نیمروز سہی ، ٹریننگ سنٹر، خفیہ مراکز منتقل ہوئے ، بھاری مالی امداد، ہتھیاروں کی سپلائی اور حکمت عملی کی براہ راست رہنمائی ،بشیر زیب کودہلی سے کو منتقل کیا گیا ، اللہ نذر، حارب یار مری جیسے غدار محفوظ ٹھکانوں میںبیٹھ کر خودکش مشن، ترتیب دیتے رہے ، بی وائے ایف کی لیڈی دہشت گرد منظم کی گئیں ۔ بھارتی میڈیا اور پروپیگنڈا مشینری نے دہشت گردوں کی کارروائی شروع ہوتے ہی ، بڑھا چڑھا کر دعووں اور جھوٹی فتوحات کا شور مچادیا، مگر ادھر فتوحات کی لاف زنی تھی اور ادھر دہشت گردوں کی لاشیں گر رہی تھیں ، ادھر جلد بلوچستان پر قبضے کی بکواس تھی اور ادھر آخری دہشت گرد خون میں تڑپ رہا تھا ۔ پاکستانی فورسز کے بہترین، تیز اور بے رحم ردعمل نے مہینوں کی تیاری سے کھڑی کی گئی اس پوری مہم کو چند گھنٹوں میں مٹی میں ملا دیا۔ تادم تحریر لاشوں لاشوں کی گنتی 126 تک پہنچی ہے، کل تعداد کہاں تک جاتی ہے ، اس سے کسی کو دلچسپی نہیں ، کتے مار مہم جاری ہے ۔
سرحدوں پر لوہے سے مضبوط پاک افواج کھڑی ہیں اور اندرون ملک بے رحمی اور درستگی کے ساتھ دہشت گردوں کی صفائی کا عمل جاری ہے۔ اس عزم، تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کو دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جا سکتا ہے، مکمل خاتمہ اب خواب نہیں،بہت جلد ایک لازم، ناگزیر حقیقت بننے جا رہا ہے! بلوچستان پاکستان کا دل ہے، اس کا لازمی، ناقابل جدائی حصہ ہے۔ یہاں امن قائم رہے گا، ترقی کی نئی منزلیں طے ہوں گی، اور بیرونی سازشیں،چاہے کتنی ہی طاقتور ہوں،قومی عزم، فورسز کی بہادری اور عوام کی یکجہتی کے سامنے پسپا اور نیست و نابود ہو جائیں گی۔