(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ برین ڈرین پاکستان کی معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ جب ہمارے باصلاحیت دماغ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں تو مقامی یونیورسٹیوں کا معیار مزید گرتا جا رہا ہے اور یہ ایک تباہ کن چکر بن چکا ہے۔پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی رسائی بھی محدود ہے۔ آبادی کا بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے جہاں یونیورسٹیوں تک رسائی مشکل ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم میں مزید رکاوٹیں ہیں۔ اگرچہ کچھ بہتری ہوئی ہے لیکن مجموعی اندراج کی شرح اب بھی علاقائی ممالک سے کم ہے۔ نجی یونیورسٹیوں کا فروغ ہوا ہے لیکن ان کی فیس عام طلبہ کی پہنچ سے باہر ہے۔ نتیجہ یہ کہ تعلیم طبقاتی تقسیم کا شکار ہو گئی ہے۔ امیر طلبہ اچھے اداروں میں جاتے ہیں جبکہ غریب طبقے کے بچے محروم رہ جاتے ہیں۔
حکومتی سطح پر توجہ کی کمی نے صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔ مختلف ادوار میں اعلیٰ تعلیم کے لئے وعدے کئے گئے لیکن عملی طور پر نتیجہ نہ نکلا۔ بجٹ میں تعلیم کا حصہ جی ڈی پی کا صرف ایک سے ڈیڑھ فیصد رہ گیا ہے جو عالمی معیار کے مطابق بہت کم ہے۔ جب بنیادی ڈھانچہ، صحت اور دیگر شعبوں میں بھی مسائل ہیں تو تعلیم کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ سیاسی مداخلت یونیورسٹیوں کے انتظامی امور میں بڑھ گئی ہے جس سے میرٹ کا نظام کمزور ہوا ہے۔ وائس چانسلرز کی تقرری، فیکلٹی بھرتی اور داخلوں میں سفارشات عام ہیں۔یہ زوال صرف یونیورسٹیوں تک محدود نہیں۔ سکول اور کالج کی سطح پر بنیاد کمزور ہے تو اعلیٰ تعلیم کی عمارت کیسے مضبوط ہو سکتی ہے۔ بنیادی تعلیم میں بھی ڈراپ آٹ ریٹ زیادہ ہے۔ استادوں کی تربیت ناکافی اور نصاب پرانا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت اور جدید سائنس کی تعلیم پر توجہ کم ہے۔ عالمی سطح پر چین، بھارت اور ملائیشیا جیسے ممالک نے تعلیم میں بھاری سرمایہ کاری کر کے ترقی کی ہے۔ ہم ان سے پیچھے رہ گئے ہیں۔اس زوال کے اثرات معاشرے پر گہرے ہیں۔ بے روزگار نوجوان مایوسی کا شکار ہوتے ہیں جو سماجی مسائل جیسے جرائم منشیات اور انتہا پسندی کو مزید بڑھاتے ہیں۔ قومی معیشت کو ہنر مند افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی نئے خیالات، نئی ٹیکنالوجیز، نئے طریقے اور نئی مصنوعات کی تخلیق کے شعبوں میں ہمارا حصہ بہت کم ہے۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو پاکستان عالمی مقابلے میں تیزی سے پیچھے رہتا جائے گا۔اب وقت آ گیا ہے کہ سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ سب سے پہلے تعلیم پر بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو خودمختار بنایا جائے اور سیاسی مداخلت ختم کی جائے۔ تحقیق کے لئے الگ فنڈز مختص ہوں اور انڈسٹری کے ساتھ لنک پروگرام شروع کیے جائیں۔ استادوں کی تربیت، مراعات اور تنخواہوں میں بہتری لائی جائے تاکہ برین ڈرین رک سکے۔ نصاب کو جدید بنایا جائے اور بین الاقوامی تعاون بڑھایا جائے۔ طلبہ کے لئے وظائف اور آسان قرضوں کا نظام بہتر ہو۔ریاست کو تعلیم کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ صرف تقریروں اور وعدوں سے کام نہیں چلے گا۔ مستقل پالیسیاں اور مسلسل سرمایہ کاری درکار ہے۔ والدین، اساتذہ، طلبہ اور سول سوسائٹی سب کو مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔ اگر ہم آج اقدام نہ کریں تو کل ہماری نسلیں اس زوال کی قیمت ادا کریں گی۔پاکستانی یونیورسٹیوں کی یہ حالت زار ایک آئینہ ہے جو ہمارے نظام کی خامیوں کو دکھاتا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی اور نسٹ جیسے اداروں کی گراوٹ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ کیا ہم صرف تعداد میں یونیورسٹیاں بڑھا کر مطمئن ہو جائیں گے یا معیار پر توجہ دیں گے؟ بدقسمتی سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر کے بیانات میں بہتری کی خوش فہمیاں تو ضرور نظر آتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی قیادت میں پاکستانی یونیورسٹیوں کی عالمی رینکنگ مزید گر چکی ہے۔ جب تک اعلیٰ تعلیم کمیشن کی قیادت میں سنجیدگی، احتساب اور حقیقی اصلاحات نہیں لائی جاتیں تعلیم کا یہ بحران جاری رہے گا اور قوم کا مستقبل تاریک ہوتا چلا جائے گا۔