Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

مادیت کے سراب میں گم انسانیت

انسانی تاریخ میں بعض ادوار ایسے آتے ہیں جو صدیوں کے برابر اہمیت رکھتے ہیں۔ ہم ایک ایسے ہی غیر معمولی دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے انسانی تہذیب کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ علم، تحقیق، طب، تعلیم، تجارت، مواصلات اور زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں AIایک انقلابی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے چند برسوں میں انسانیت AGI (Artificial General Intelligence) کے دور میں داخل ہو سکتی ہے، جہاں مشینیں انسانی سطح کی فکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔ بظاہر یہ ترقی انسانی تاریخ کی عظیم کامیابیوں میں سے ایک نظر آتی ہے۔ بیماریوں کے بہتر علاج، لمبی اور صحت مند زندگی، بہتر تعلیم، تیز تر تحقیق، غربت کے خاتمے کے امکانات اور زندگی کی بے شمار آسانیاں اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس تمام ترقی کے پس منظر میں ایک نہایت اہم سوال کھڑا ہے:انسانیت جا کہاں رہی ہے؟ہم نے مشینوں کو زیادہ ذہین بنا لیا ہے، لیکن کیا ہم خود زیادہ دانا ہوئے ہیں؟ ہم نے معلومات کے خزانے کھول دئیے ہیں، لیکن کیا حکمت بھی حاصل کی ہے؟ ہم نے دنیا کو جوڑ دیا ہے، لیکن کیا دل بھی ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور کا سب سے بڑا بحران ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ سمت کا بحران ہے۔ انسان کے پاس پہلے سے کہیں زیادہ علم ہے، لیکن مقصد کم ہے۔ وسائل زیادہ ہیں، لیکن سکون کم ہے۔ رابطے زیادہ ہیں، لیکن تعلقات کمزور ہیں۔ آسائشیں زیادہ ہیں، لیکن اطمینانِ قلب نایاب ہوتا جا رہا ہے۔
آج دنیا کے بیشتر معاشروں میں مادیت زندگی کا مرکزی محور بن چکی ہے۔ مال و دولت، شہرت، طاقت اور ذاتی مفاد کو کامیابی کا معیار سمجھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے خود نمائی اور شہرت کی خواہش کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ انسان اپنی اصل شخصیت کے بجائے اپنی نمائش میں مصروف ہے۔ زندگی کا مقصد کردار سازی کے بجائے مقبولیت حاصل کرنا بنتا جا رہا ہے۔اس اندھی دوڑ کا سب سے خطرناک نتیجہ یہ ہے کہ خیر و شر کی تمیز دھندلا گئی ہے۔ سچ اور جھوٹ، حق اور باطل، انصاف اور ظلم کے درمیان فرق کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ برائی اتنی عام ہو چکی ہے کہ اب وہ برائی محسوس ہی نہیں ہوتی۔ جھوٹ، فریب، دھوکہ، خود غرضی اور لالچ کو معمول کی چیز سمجھا جانے لگا ہے۔ جو اعمال کبھی باعثِ شرمندگی تھے، آج ان پر فخر کیا جا رہا ہے۔اس تبدیلی نے خاندانی نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ خاندان جو محبت، قربانی، تربیت اور اخلاقی استحکام کا مرکز تھا، کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ والدین اور اولاد کے تعلقات میں فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ بزرگ تنہائی کا شکار ہیں۔ نوجوان شناخت کے بحران میں مبتلا ہیں۔ مادی آسائشوں کے باوجود بے چینی، ڈپریشن اور تنہائی عالمی سطح پر بڑھ رہی ہے۔روحانی طور پر بھی انسانیت ایک عجیب خلا کا شکار ہے۔ عبادت گاہیں موجود ہیں، مذہبی شناختیں موجود ہیں، لیکن دلوں میں خدا کی یاد، عاجزی، اخلاص اور تزکی نفس کی روح کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ دین کو بعض اوقات روحانی بیداری کے بجائے سیاسی، گروہی یا معاشی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ تقویٰ، اخلاص، محبت، رحم اور خدمتِ خلق جیسی عظیم قدریں پس منظر میں چلی گئی ہیں۔آج انسانیت ایک ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں ظاہری ترقی اپنی انتہائوں کو چھو رہی ہے، لیکن اندرونی طور پر انسان پہلے سے زیادہ بے چین، منتشر اور بے سمت دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کو بدلنے کی طاقت بڑھ رہی ہے، لیکن خود کو بدلنے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ انسان چاند اور مریخ تک پہنچنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، لیکن اپنے دل کے اندر موجود خلا کو پر کرنے سے قاصر ہے۔ایسے ماحول میں AI ایک طاقتور آلہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔ لیکن ہر طاقتور آلے کی طرح اس کا فائدہ یا نقصان اس بات پر منحصر ہے کہ اسے استعمال کون کر رہا ہے اور کس مقصد کے لئے کر رہا ہے۔ اگر انسان خود اخلاقی طور پر کمزور، روحانی طور پر خالی اور مقصد کے اعتبار سے بے سمت ہے تو AI اس کی کمزوریوں کو مزید طاقت دے سکتا ہے۔
جھوٹ تیزی سے پھیل سکتا ہے، فریب زیادہ موثر ہو سکتا ہے، نگرانی زیادہ وسیع ہو سکتی ہے اور انسان مشینوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کر سکتا ہے۔لیکن اگر یہی AI محبت، انصاف، علم، صحت، غربت کے خاتمے اور انسانی خدمت کے لئے استعمال ہو تو یہ انسانیت کے لیے ایک عظیم نعمت بن سکتی ہے۔ مسئلہ AI نہیں، مسئلہ انسان کا اخلاقی اور روحانی معیار ہے۔یہاں ایک گہرا سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا AIکا یہ دور محض ایک تکنیکی انقلاب ہے یا انسانیت کو ایک بڑے روحانی مرحلے کے لئے تیار کر رہا ہے؟میری رائے میں تاریخ کا ہر بڑا مرحلہ انسان کو اپنے وجود، اپنے مقصد اور اپنے خالق کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں