Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

سوشل میڈیا!بچوں پر پابندیاں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے زندگی کے تقریبا ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ جہاں ان پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی، رابطوں کی آسانی اور اظہارِ رائے کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں ان کے منفی اثرات بھی مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی، جذباتی اور تعلیمی زندگی پر سوشل میڈیا کے اثرات نے دنیا بھر کی حکومتوں، ماہرینِ نفسیات، تعلیمی اداروں اور والدین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب مختلف ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیوں اور سخت ضابطوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔حال ہی میں برطانیہ نے بچوں کے لئے سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت قدغنوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ آسٹریلیا پہلے ہی 16سال سے کم عمر بچوں کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرنے کا قانون نافذ کر چکا ہے۔ ان اقدامات سے سنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب اور ایکس جیسے بڑے پلیٹ فارمز متاثر ہوں گے۔ یورپی یونین کے کئی ممالک بھی عمر کی تصدیق کے موثر نظام، والدین کی نگرانی اور بچوں کے تحفظ سے متعلق سخت قوانین پر غور کر رہے ہیں۔ ملائیشیاء ، انڈونیشیاء اور برازیل سمیت کئی ترقی پذیر ممالک بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں، جبکہ چین کئی برس پہلے ہی بچوں کے انٹرنیٹ استعمال کے حوالے سے سخت ضوابط نافذ کر چکا ہے۔یہ تمام اقدامات کسی سیاسی یا تجارتی مصلحت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بڑھتے ہوئے عالمی مسئلے کا ردعمل ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران متعدد تحقیقی مطالعات نے ثابت کیا ہے کہ سوشل میڈیا کا بے جا استعمال بچوں اور نوجوانوں میں اضطراب، ڈپریشن، تنہائی، خود اعتمادی کی کمی، نیند کی خرابی اور توجہ کے مسائل کو بڑھا رہا ہے۔ مسلسل اسکرین کے سامنے وقت گزارنے سے جسمانی سرگرمیاں کم ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں موٹاپا اور دیگر طبی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ایک اور اہم مسئلہ آن لائن استحصال کا ہے۔ سائبر بلیئنگ، جعلی معلومات، نامناسب مواد اور آن لائن شکاری عناصر بچوں کے لئے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ کئی والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچہ گھر میں محفوظ ماحول میں موجود ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسمارٹ فون کے ذریعے وہ ایک ایسی دنیا سے جڑا ہوا ہے جہاں ہر قسم کا مواد چند سیکنڈ میں اس کی دسترس میں آ سکتا ہے۔سوشل میڈیا کمپنیاں اگرچہ اپنے پلیٹ فارمز پر حفاظتی اقدامات کا دعوی کرتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا کاروباری ماڈل زیادہ سے زیادہ صارفین کو زیادہ سے زیادہ وقت تک اسکرین سے جوڑے رکھنے پر مبنی ہے۔ الگورتھمز اس انداز سے ترتیب دئیے جاتے ہیں کہ صارف مسلسل مواد دیکھتا رہے۔ بالغ افراد کے لئے بھی اس جال سے نکلنا آسان نہیں، چہ جائیکہ کم عمر بچے اس کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔اس پس منظر میں دنیا کی مختلف حکومتیں یہ سوال اٹھا رہی ہیں کہ کیا بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو منافع بخش کاروباری مفادات پر قربان کیا جا سکتا ہے؟ غالبا اسی سوال کا جواب آج سخت قوانین اور پابندیوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اس تمام صورتحال میں کہاں کھڑا ہے؟پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ملک میں لاکھوں بچے اور نوجوان روزانہ کئی گھنٹے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گزارتے ہیں۔ سستے اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ پیکجز نے سوشل میڈیا کو تقریباً ہر گھر تک پہنچا دیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے قانون سازی، آگاہی اور حفاظتی اقدامات کی صورتحال ابھی تک تسلی بخش نہیں۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے عمر کی تصدیق کا کوئی موثر نظام موجود نہیں۔ بیشتر بچے باآسانی اپنی عمر غلط درج کر کے مختلف پلیٹ فارمز پر اکانٹ بنا لیتے ہیں۔ والدین کی ایک بڑی تعداد بھی ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں۔ نتیجتاً بچے بغیر کسی نگرانی کے ایسے مواد تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں جو ان کی عمر اور ذہنی نشوونما کے لئے موزوں نہیں ہوتا۔
پاکستان میں تعلیمی اداروں کے اندر بھی ڈیجیٹل خواندگی کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جو وقت کا تقاضا ہے۔ بچوں کو انٹرنیٹ استعمال کرنا تو سکھایا جا رہا ہے، لیکن محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے اصولوں سے روشناس کرانے کے لئے مربوط پروگراموں کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جعلی خبروں، آن لائن فراڈ اور سائبر بلیئنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سوشل میڈیا مکمل طور پر نقصان دہ نہیں۔ تعلیمی ویڈیوز، آن لائن کورسز، معلوماتی مواد اور مثبت سماجی رابطے نوجوان نسل کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ مسئلہ سوشل میڈیا کا وجود نہیں بلکہ اس کا بے لگام اور غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ اسی لئے دنیا کے بیشتر ممالک مکمل پابندی کے بجائے ضابطہ سازی، نگرانی اور عمر کے مطابق رسائی کے نظام پر زور دے رہے ہیں۔پاکستان کے لئے بھی یہی متوازن راستہ زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ بچوں کے لیے عمر کی تصدیق کا موثر نظام متعارف کرائے، سوشل میڈیا کمپنیوں کو مقامی قوانین کا پابند بنائے اور آن لائن تحفظ کے حوالے سے واضح پالیسی تشکیل دے۔ ساتھ ہی والدین اور اساتذہ کی تربیت کے لیے قومی سطح پر آگاہی مہمات شروع کی جائیں تاکہ وہ بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی بہتر رہنمائی کر سکیں۔مزید برآں، نصابِ تعلیم میں ڈیجیٹل شہریت اور آن لائن اخلاقیات کو شامل کیا جانا چاہیے۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ انٹرنیٹ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ انہیں ذاتی معلومات کے تحفظ، آن لائن خطرات کی پہچان اور صحت مند ڈیجیٹل عادات کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے۔عالمی رجحانات واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ آنے والے برسوں میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مزید سخت قوانین متعارف ہوں گے۔ پاکستان اگر اس حوالے سے بروقت اقدامات نہیں کرتا تو اسے ذہنی صحت، تعلیمی کارکردگی اور سماجی رویوں کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔وقت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم ٹیکنالوجی سے خوفزدہ ہو جائیں یا نوجوان نسل کو ڈیجیٹل دنیا سے مکمل طور پر الگ کر دیں، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد سے استفادہ کرتے ہوئے اس کے نقصانات کو کم سے کم کیا جائے۔ دنیا اسی سمت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کو بھی محض تماشائی بننے کے بجائے ایک واضح، متوازن اور موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ ہماری آنے والی نسلیں محفوظ، باخبر اور ذہنی طور پر صحت مند رہ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں