Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

مسلمان ممالک کا اتحاد، وقت کی ضرورت

امریکہ اور ایران کے درمیان 1050 الفاظ پر مشتمل میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر دستخط کے بعد باضابطہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں شروع ہو گئے ہیں۔ تقریبا ًتمام تجزیہ نگار اور سفارت کار اس پر متفق ہیں کہ ایران اس جنگ میں سرخرو ہوا ہے جبکہ امریکہ نے اس جنگ میں بہت کچھ کھویا ہے۔ سب سے بڑا نقصان جو امریکہ کا ہوا ہے وہ اس کی مائیٹی پاور کے امیج کو دھچکا ہے۔ پہلے یہ تاثر موجود تھا کہ امریکہ کی فوجی طاقت کے سامنے کھڑے ہونے کی صلاحیت کسی ملک میں نہیں ہے، اگر کوئی ایسی جرات کرے گا بھی تو وہ امریکی وار مشین کے آگے زیادہ دیر ٹھہر نہیں پائے گا۔ ایران جنگ نے یہ تاثر ملیا میٹ کر دیا ہے۔ دوسرا بڑا نقصان جو امریکہ کا ہوا ہے وہ خلیجی ممالک کی سیکورٹی کے حوالے سے ہے۔ ایک عرصے سے یہ بندوبست چلا آرہا تھا لیکن اس جنگ نے یہ عیاں کر دیا ہے کہ امریکہ کسی خلیجی ملک کی سلامتی کا ضامن نہیں بن سکتا۔ یوں خلیج عرب میں ایک نئے آرڈر یعنی ایک نئے ریجنل بندوبست کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔ یہ بات آج نہیں تو کل خطے کے ممالک کو سمجھ آجائے گی کہ ان کا مستقبل، سلامتی اور خوشحالی اسی علاقائی اتحاد سے وابستہ ہے۔سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی نے اس ریجنل آرڈر کے خدوخال بیان کئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک کو ایک نئے سیکورٹی آرڈر کی ضرورت ہے جو باہمی تعاون، معاشی ہم آہنگی اور مشترکہ ذمہ داری پر مشتمل ہو۔علی عنایتی نے اس ریجنل آرڈر کے چار بنیادی اصول بیان کئے ہیں۔ اول، نان پولر ریجنل سسٹم جس میں سیکورٹی کسی بیرونی طاقت کی بجائے خطے کے ممالک کی اجتماعی ذمہ داری ہو۔ دوم، تنازعات کے سیاسی حل پر زور اور پابندیوں کا خاتمہ۔ سوم، مضبوط معاشی تعاون اور تجارت۔ چہارم، یہ احساس کرنا کہ خطے کی سیکورٹی اور ترقی دو الگ چیزیں نہیں بلکہ ایک وحدت اور ناقابل تقسیم ہیں۔ ایرانی سفیر نے واضح کیا ہے کہ ایران پڑوسی ہمسایہ ممالک خصوصی طور پر سعودی عرب کیساتھ مل کر ایک ایسے فریم ورک کو تیار کرنے کی خواہش رکھتا ہے جو دیرپا استحکام، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہو۔
دیکھا جائے تو یہ اس خیر سگالی کے جذبے کا جواب ہے جو سعودی عرب کی جانب سے سامنے آیا۔ خطے کو لمبی جنگ سے بچانے میں سعودی عرب نے جو کردار ادا کیا ہے اسے خراج تحسین پیش کئے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ عرب ممالک کے رہنمائوں نے اس جنگ میں جس ہوشمندی کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ رہے گا۔ امریکہ کو اس جنگ میں ایران نے ٹف ٹائم ضرور دیا ہے لیکن درحقیقت یہ عرب ممالک ہیں جنہوں نے اس جنگ کا دائرہ پھیلنے نہیں دیا اور ان کی حکمت کاری نے امریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ مجھے یہ لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ اس جنگ میں امریکی و اسرائیلی عزائم کو مات دینے والی عرب قیادت ہے جس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سر فہرست ہیں۔ انہوں نے اپنی فہم و فراست سے خطے کو لمبی جنگ میں جانے سے بچا لیا ہے۔ امریکی صدر نے ان کے بارے میں جو ہذیانی گفتگو کی وہ صدر ٹرمپ کے کرب کو سمجھنے کیلئے کافی ہے، سعودی عرب پر ابتدا میں حملے ہوئے لیکن شہزادہ محمد بن سلمان ردعمل سے گریز کیا اور ضبط کی راہ اختیار کر کہ امریکی و اسرائیلی منصوبہ بندی کو خاک میں ملا دیا۔ پاکستان کا اس پالیسی میں اہم کردار تھا۔ پاکستان نے جہاں سعودی قیادت کو جوابی ردعمل سے روکا وہیں ایران پر بھی واضح کر دیا کہ پاکستان سعودی عرب پر اندھی یلغار برداشت نہیں کرے گا۔ یہ بھی سعودی قیادت کی دور اندیشی تھی کہ انہوں نے خطے کے حالات بھانپ کر پاکستان کیساتھ دفاعی معاہدہ کیا۔ آج جبکہ امریکہ کی جنگ نے ایران اور عرب ممالک کے درمیان مصالحت اور اتحاد کے نئے امکانات پیدا کر دئیے ہیں سعودی قیادت کی جانب سے ایران کیساتھ عدم جارحیت کے معاہدہ کی پیشکش ایک ایسی پیش رفت ہے جس کے دورس نتائج ہونگے۔ سعودی عرب نے ایران کو وسیع علاقائی عدم جارحیت کے معاہدے کی پیشکش کر کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے جو راستہ تجویز کیا ہے ایران کی جانب سے بھی اسکا مثبت جواب آیا ہے۔ ایک طویل عرصے کے بعد مسلمان ممالک کو حالات اور واقعات نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ باہمی اتحاد کی لڑی میں پھر سے پرویے جائیں۔ یہ اتحاد کسی ملک کی شناخت ختم کرے گا اور نہ ہی ان ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرے گا۔ اس اتحاد کی صورت وہی بننی چاہئیے جیسا کہ یورپی یونین ہے۔ اسی سے خطے کا مستقبل روشن ہو گا اور یہی مسلمان ممالک کو اغیار کی غلامی اور دبا سے نجات دلانے کا سبب بنے گا۔
خلیجی ممالک ایران کے خوف سے امریکہ پر دفاعی انحصار کر رہے تھے۔ امریکی دفاعی تنصیبات پر ایرانی میزائیل و ڈرون حملوں نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ امریکہ اپنا دفاع کرنے میں ناکام ہوا ہے کجا کہ وہ عرب ممالک کا دفاع کر سکے۔ یوں خطے میں اب ایک نئی الائنمنٹ کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ خطے کے تمام مسلمان ممالک بشمول پاکستان اور ترکی ایک ایسا اتحاد بنائیں جو دفاعی بھی ہو، معاشی بھی ہو اور سیاسی بھی۔ تقریبا ویسا ہی جیسا یورپی یونین نے بنایا ہے۔ یورپ کے اتحاد نے بھی دوسری جنگ عظیم کی کوکھ سے جنم لیا۔ فرانس، ہالینڈ، بلجئیم، اٹلی، لکسمبرگ اور جرمنی نے 1951 ء میں یورپین کول اینڈ سٹیل کمیونٹی کی بنیاد رکھی جو یورپی یونین قائم کرنے کا سبب بنی۔ آج یورپ کے 27 ممالک بے مثال سیاسی، معاشی اور دفاعی اتحاد کا حصہ ہیں۔ پاکستان نے ایران جنگ کے خاتمے میں ثالثی کا جو کردار ادا کیا ہے اسے دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ پاکستان مسلمان ممالک خاص طور پر ایران اور خطے کے عرب ممالک کے درمیان مصالحت کیلئے بھی اپنا کردار ادا کرے۔ ایران خیلجی عرب ممالک، پاکستان اور ترکیہ کا باہمی اتحاد ایک ایسا مضبوط دفاعی، سیاسی اور معاشی بلاک بنے گا جو نہ صرف خطے کے امن کا ضامن ہو گا بلکہ اس سے ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے کھلیں گے۔آبنائے ہرمز کی بندش نے ایک بات ثابت کر دی ہے، دنیا خلیجی تیل کے بغیر گزارہ نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالی نے مسلمان ممالک کو توانائی کے جن وسیع ذخائر سے نوازا ہے وہ جدید دنیا کی لائف لائن ہیں۔ دنیا کا حال اور مستقبل انکے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2030 ء تک دنیا کی آبادی 8 ارب ہو جائے گی چنانچہ اس حساب سے توانائی کی ڈیمانڈ یومیہ 125ملین بیرل تک پہنچ جائے گی۔ مسلمان ممالک دنیا کی ضرورت کا تقریباً 25 فیصد پیدا کر رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کے تیل کے تقریباً 71فیصد ذخائر مسلمان ممالک کے پاس ہیں جبکہ دنیا میں موجود کل گیس کے 53 فیصد ذخائر مسلمان ممالک کے پاس ہیں۔ اس کے باوجود انکی دنیا کے امور میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وجہ نااتفاقی ہے، اگر یہ ممالک مل جائیں تو یہ ایک زبردست معاشی و سیاسی بلاک وجود میں لے آئیں گے۔ اللہ کرے کہ یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو اور دنیا میں ایک بار پھر مسلمان عزت، سلامتی اور خوشحالی کی زندگی گزار سکیں۔

یہ بھی پڑھیں