لاہور(نیوز ڈیسک)پیٹرول منصوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد سولر پلیٹس کی قیمتوں میں 4 سے 9 ہزار روپے تک کمی ہو گئی۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیموں میں کمی کے بعد آئندہ دنوں میں سولر پلیٹس کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم منصوعات کی زائد قیمتوں کی وجہ سے بیٹریاں بھی مہنگی فروخت ہو رہی تھیں،لیکن اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد بیٹریوں کی قیمت بھی کم ہونے کا امکان ہے.
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 1 بیٹری کی قیمت میں27 سے 38 ہزار روپے تک اضافہ ہوگیا تھا۔ دوسری جانب سولر سسٹم لگوانے والے تمام صارفین کیلئے نیپرا لائسنس لازم قرار دے دیا گیا اب سسٹم کے مطابق بجلی کی پیداوار کے لئے صارفین کو لائسنس لینا ہو گا۔ وزارت پاور ڈویژن نے سولر سسٹم ترامیم کے تحت نیپرا لائسنس لازمی قرار دیا ہے صارفین کو لوڈ کے مطابق فیس کی مدمیں نیپرا کے نام کا پے آرڈر بھی ادا کرنا پڑیگا ترامیم سے قبل 25 کلوواٹ سسٹم پر صارفین کو مفت لائسنس جاری ہوتا تھا۔
ذرائع کےمطابق صارفین کو 1 ہزار روپے فی کلوواٹ کے حساب سے اضافی ادائیگی کرنا ہو گی جبکہ ترامیم کے تحت صارفین کو نیٹ بلنگ پراجیکٹ پر کنکشن دیا جا سکے گا۔ علاوہ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مڈل کلاس طبقے کیلئے بہترین سولر پلان کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہری اپنے ماہانہ بجلی کے بل کے برابر ہی قسط ادا کر کے سولر سسٹم لگوا سکیں گے،مڈل کلاس طبقے کو بجلی کے بھاری بلوں سے مستقل نجات دلانے کے لیے ایک بہترین اور تاریخی ‘سولر قسط پلان’ تیار کیا ہے۔
سید مراد علی شاہ کا بتانا تھا کہ پلان کے تحت شہری اپنے ماہانہ بجلی کے بل کے برابر ہی قسط ادا کر کے سولر سسٹم لگوا سکیں گے، جیسے اگر کسی کا ماہانہ بجلی کا بل 25 ہزار روپے آتا ہے تو وہ سولر لگوا کر ماہانہ 25 ہزار روپے ہی قسط ادا کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ اگلے 3 سے 4 سالوں میں جیسے ہی یہ قسطیں پوری ہوں گی، وہ بجلی کے بلوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں۔عائشہ عمر نے اپنی مختصر لباس میں لیک تصاویر کے معاملے پر برسوں بعد خاموشی توڑ دی