اسلام کو مسلمانوں سے بچائو
(گزشتہ سے پیوستہ) اسے ہجوم کا قانون بنانا بذات خود آپ ﷺ کے کلام مبارک کی توہین سے کم نہیں ۔ محدثین کے نزدیک آپ ﷺ نے اس حدیث مبارکہ کے ذریعہ سےذمہ داریوں کا تعین فرمایا ہے ، ہر
(گزشتہ سے پیوستہ) اسے ہجوم کا قانون بنانا بذات خود آپ ﷺ کے کلام مبارک کی توہین سے کم نہیں ۔ محدثین کے نزدیک آپ ﷺ نے اس حدیث مبارکہ کے ذریعہ سےذمہ داریوں کا تعین فرمایا ہے ، ہر
بر صغیر میں اسلام کے خلاف ، اسلام کے نام پر جتنے فتنے اٹھے اور اٹھ رہے ہیں ، ان کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی ، مرزا مردود سے لے کر فتنہ تکفیر اورجہلا کو امام اجتہاد تسلیم
وزیر اعظم پاکستان نے کہا ہے کہ ’’پاکستان کو ہارڈ سٹیٹ ہوناچاہئے ،‘‘ سوال یہ نہیں کہ ’’ چاہئے ‘‘ کا لفظ، خواہش، تجویز یا نرم مطالبے کے لئے استعمال ہوتاہے، وزیر اعظم ملک کا سب سے با اختیار عہدہ ہے،وہ
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک لہر اٹھی ہے جس میں ڈاکٹر محمد عثمان قاضی عرف امیر کو ایک معزز تعلیمی شخصیت اور دانشور کے طور پر پیش کیاجارہاہے اورکہا جا رہا ہے کہ وہ ریاستی جبرکا شکار ہے
بھارت کی ہندوتوا پر مبنی فسطائی پالیسیاں، اقلیتوں کے خلاف منظم جبر اور بین الاقوامی دہشت گردی اس کے زوال کا نقطہ آغاز ہے۔ کشمیریوں کے بعدسکھوں کی پرامن جدوجہد، خصوصاً خالصتان تحریک، بھارتی تسلط کے خلاف ایک ایساطاقتور ردعمل
جب قومیں تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہوتی ہیں،تو صرف اسلحہ یا عددی قوت نہیں،یقین، قربانی اور تدبیر ان کا اصل ہتھیار بنتاہے۔پاکستان نے ہمیشہ وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا اورصرف میدانِ کارزار میں نہیں، سوچ، حکمت
حقیقت کھل رہی ہے اور پاکستان کے دشمن ایک ایک کرکے سامنے آتے جا رہے ہیں ، پوری دنیا پر آشکار ہو چکا کہ بلوچستان میں دہشت گردی بھارت اور اسرائیل کا مشترکہ اثاثہ ہے ، انڈیا کی مانگ کا
جھوٹ انتشار ی فتنے کی بنیادی پالیسی ہے، جب وہ اقتدار تھے، قسم اٹھا رکھی تھی جو کہیں گے جھوٹ کہیں گے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہیں گے۔ اب اقتدار چلا گیا، لیکن لچھن نہیں بدلے ۔ الزام
مودی کتے کی وہ دم ہے ، جو کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی ، قصور اس کا بھی نہیں ، اس کی ذہنی استطاعت ہی اتنی ہے ، آر آر ایس کے ہندوتوا نظریات کی ٹیکسال میں ڈھالا گیا ایک کھوٹا
ایران کےساتھ اختلاف و اتفاق کا معاملہ الگ، پالیسیوں سے اختلاف، پاکستان میں مداخلت پر اعتراض، پراکسیز پر تنقید یکسر مختلف، لیکن جب اسرائیل جیسا بدمعاش حملہ آور ہو تو پھر یہ بھی میری ہی جنگ ہے۔ جب نیتن یاہو