Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

اسلام کو مسلمانوں سے بچائو

بر صغیر میں اسلام کے خلاف ، اسلام کے نام پر جتنے فتنے اٹھے اور اٹھ رہے ہیں ، ان کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی ، مرزا مردود سے لے کر فتنہ تکفیر اورجہلا کو امام اجتہاد تسلیم کرنے تک ، ایسے ایسے فتنے ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ نامور افسانہ نگار سجاد حیدر یلدرم کا افسانہ یاد آجاتا ہے ، ’’مجھے میرے دوستوں سے بچائو‘‘ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ’’اسلام کو مسلمانوں سے بچائو ۔ صدیوں سے برصغیر کی سرزمین پر ایک ہی نعرہ گونجتا ہے کہ اسلام خطرے میں ہے ۔‘‘ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ یہاں اسلام کسی غیر کے سبب نہیں خود مسلمانوں کے سبب خطرے میں ہے ۔ گزشتہ دو سوسال کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ،جو بھی کانام، بھینگا،جاہل،مردود اٹھا، دین کے نام پر دین میں خرافات کا اضافہ کیا ، مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اس کے پیچھے چل پڑ ا۔ قادیان کے دجال کی مثال سب سے نمایاں ہے کہ جسے شریف آدمی اور ذی شعورانسان ثابت کرنا ، اس کے پیروکاروں کیا گھر والوں کے لئے بھی ممکن نہیں، لوگ اسے نبی مانے پھرتے ہیں، جن میں اچھے خاصے اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ جو شخص آقا محمد ﷺ کی صفت خاتم النبیین کو زبان سے ادانہیں کرسکتا ، اول کلمہ پڑھتے ہوئے ، آقا محمد ﷺ کا اسم گرامی اس کی زبان سے ادا نہیں ہوپاتا ، حرام و حلال کی تمیز نہیں کرتا ، اعلانیہ توہین کا مرتکب ہے، اسلام اور مذہب اس کے لئے ایک ٹچ ہے، عوام کالانعام اس فتنہ پرور کو ریاست مدینہ کا داعی مانتےہیں اور اس کے لئے لڑنے مرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ دین کے معاملے میں پست ترین معیار کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ ایک شخص جو دیکھ کر بھی قرآن کریم کی ایک آیت تک تلاوت کرنے سے قاصر ہے ، اولیا، صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اطہار کے لئے بھی جس کی زبان سے توہین کے سوا کوئی جملہ نہیں نکلتا ، اور حدتو یہ کہ اب اس کی زبان طعن دراز سے آقا محمد ﷺ کی ذات اقدس بھی محفوظ نہیں ، ہمارا میڈیا اس پلمبر کو بھی مذہبی سکالر کہتاہے ، مذہب ہی نہیں لفظ سکالر کی بھی اس سے زیادہ توہین ممکن نہیں۔
حیرت انگیز یہ ہے کہ کھانے پینے اور پہننے ، اوڑھنے تک ہر شئے ہمیں برانڈڈ چاہیے ، زندگی کا کوئی بھی کام ہو ، ہمیں اس کے لئے کوالیفائڈ بندے کی تلاش ہے ، لیکن مذہب ایک ایسا معاملہ ہے کہ اس میں کوالیفائیڈ کی سننے کو ہی تیار نہیں البتہ جو بھی لنڈا،لچا مولوی کو گالی سے بات شروع کرے، محدثین اور مفسرین کو بغیر کسی دلیل اور علم کے بتا ئے اور اپنی من مرضی کی ہفوات کو اسلام کا نام دے دے ،اپنے حصے کے جہلااسے مل ہی جاتے ہیں ، سوشل میڈیا کے تام جھام نے یہ کام مزید آسان کردیا ہے ، مزے کی بات یہ کہ ایسے تمام فتنوں کی فالونگ کا تجزیہ کرلیں ، اکثریت دین دشمن، دین بیزار لبرلز اور دجال قادیان کے ماننے والوں یا متاثرین کی ہوگی ، جو جہلا کو مقبولیت کی سند عطا کرکے دین پر اعتراض کی راہ ہموار کرتے ہیں،اور نوجوان نسل کو مغرب کی مرضی کا دین دےکر صہیونی سازشوں کامہرہ بنانےکاکام کرتے ہیں ۔ معاملہ صرف سوشل میڈیائی فتنوں تک محدود نہیں ہے۔
تشویش ناک امر یہ بھی ہے کہ دین کے محکمات ، اصلاحات کو استعمال کرکے ، دین کے خلاف ملکی اور عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کا سلسلہ گزشتہ ربع صدی سے زور پکڑ گیا ہے ۔ مثال کے طور پرجہاد اسلام کا عظیم الشان رکن ، اور شکوہ دین کا واحد راستہ ہی نہیں ، فلسطین اور کشمیر جیسے مجبور مظلوم اور مقہور مسلمانوں کی نجات کا ذریعہ بھی ہے ، لیکن مسلمانوں اور اسلامی ریاست کے خلاف بغاوت ، انسانیت دشمنی ، قتل وغارت اور لوٹ مار کے لئے جہاد کی اصطلاح تواتر سے استعمال کی جا رہی ہے ، تاکہ نوجوان نسل کو اسلام اور اس کی روشن تعلیمات سے برگشتہ کیا جا سکے ۔ دہشت گردی کو جہاد کا نام دینے والوں کی پوری فہرست چھان ماریں ، کوئی بس کنڈکٹر ملے گا ، کوئی ان پڑھ لکڑ ہارا، تو کوئی نام نہاد مسلمان ، اصرار ان کا یہ ہے کہ یہ شریعت کے لئے لڑ رہے ہیں ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ شریعت کے نام پر شرارت کر رہے ہیں ۔ خلافت ایک اور مقدس اصطلاح ،مسلمانوں کا سیاسی نظام ، آخری پناہ گاہ اور نشاۃ ثانیہ کے خواب کی تعبیر ، لیکن جب ترکی کا معاہدہ لوزان ختم ہونے کا وقت قریب آیا تو عراق کے ایک جاہل سی آئی اے ایجنٹ کے زریعہ خلافت کے نام پر ایک عالمی دہشت گردی کا نیٹ ورک قائم کردیا گیا ، جس کا کردار اس قدر مکروہ، اور متعفن ہے کہ ان لوگوں کی زبان سے خلافت کا لفظ ادا ہونا ہی اس مقدس لفط کی توہین ہے،حالانکہ جس طرح کسی جاہل تو کیا تنہا عالم کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ فتوی جہاد دے سکے ،یہ اسلامی ریاست کا حق ہے ، اسی طرح خلافت کا اعلان بھی مسلمانوں کی اجتماعیت کے سواکوئی نہیں کرسکتا ، لیکن یہاں وہ لوگ جنہیں وضو درست کرنا نہیں آتا وہ مفتی بنے پھرتے ہیں ، اور فتوے بانٹتے ہیں ، جہاد اور خلافت کے ، ایسا ہی معاملہ نہی عن المنکر کا ہے ، جو ریاست کا اختیار ہے ۔ آقا محمد ﷺ کے فرمان عالی شان سے انکار رہا ایک طرف اس پر شکوک شہبات کا اظہار بھی کفر ہے ، لیکن آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ “جو تم میں برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے بدلے، اگر نہ کر سکے تو زبان سے، اگر نہ کر سکے تو دل سے‘‘(صحیح مسلم 49 )
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں