Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ

جب قومیں تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہوتی ہیں،تو صرف اسلحہ یا عددی قوت نہیں،یقین، قربانی اور تدبیر ان کا اصل ہتھیار بنتاہے۔پاکستان نے ہمیشہ وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا اورصرف میدانِ کارزار میں نہیں، سوچ، حکمت اور ٹیکنالوجی میں بھی اپنی برتری برقرار رکھی ہے ۔کمزور معیشت تو سیاستدانوں کی منافقت کا نتیجہ طرہ امتیاز ہے لیکن ہمارے بازو شمیر زن اور ہنرمندوں نے اس کمزوری کو کبھی آڑے نہیں آنے دیا ، جس کا نتیجہ پوری دنیا آپریشن بنیان مرصوص کی صورت دیکھ چکی ہے اور اب Z-10ME اٹیک ہیلی کاپٹر ہماری بر تری کا اعلان ہے۔یہ محض دفاعی پیش رفت نہیں، قومی عہد کا اظہار ہے کہ ہر خطرے سے نمٹنے کو تیار ہیں اور دشمن پر عسکری برتری قائم رکھیں گے۔یہ وہ خواب ہے جو 2014 میںدیکھا گیا،امریکہ سے روس اور ترکی تک کئی دروازے کھٹکھٹائے۔ کسی نےانکار کیا، کسی نے تعداد میں کمی کی شرط رکھی، اور کہیں سیاست عسکری ضرورت پر غالب آ گئی، لیکن ہر انکار نے ہماری خودداری کو مزید جِلا بخشی، اور آخرکار چین کے ساتھ ایسا اشتراک عمل میں آیا جو خریداری کےبجائےخود انحصاری کی طرف ایک اور بڑا قدم ہے۔پاکستان میں Z-10ME ہیلی کاپٹر کی اسمبلنگ، اس کی ٹیکنیکل تبدیلیاں، اور اس میں شامل فضا سے فضا میں مار کرنے والا TY-90 میزائل ثبوت ہے کہ ہم اپنی ضرورت کو سمجھ کر، اپنے ہاتھوں سے اپنا دفاع تخلیق کرتے ہیں۔یہ محض عسکری نہیں، فکری اور نظریاتی برتری بھی ہے۔ بھارت کے پاس امریکی اپاچی ہے، تو اس کے پیچھے امریکی ٹیکنالوجی اور پالیسی کی لگام بھی ہے۔ پاکستان کا زیڈ ۔10ایم ای ہماری ضرورت ، ہماری شرائط پر، ہماری سرزمین پر ڈھالا گیا وہ ہتھیار ہے ، جس کی ٹیکنالوجی بھی ہماری اور کنٹرول بھی ہمارا ۔
اگر یہ کہا جائے کہ Z-10ME اس حکم ربانی کی تعمیل اور جدید تعبیر ہےتو غلط نہ ہوگا ۔ فرمایا’’ وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْۚ-لَا تَعْلَمُوْنَهُمْۚ-اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْؕ-وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ)سورۃ انفال -60)(اور ان (دشمنوں) کے لئے اپنی قوت تیار رکھو ،جو بھی ممکن ہو ۔جتنے جنگی گھوڑے ممکن ہو تیار رکھو ،ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن اور تمھارے دشمن ہیں اور ان کے سوا کچھ اوروں کے دلوں میں بھی( رعب ڈالو ) جنہیں تم نہیں جانتے(مگر) اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے تمہیں (اس کا) پورا (بدلہ) دیا جائے گا اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہو گے۔) یہ آیت ہمارے لیے ایک اصولی ہدایت ہےاور صد شکر کہ پاکستان تمام تر کمزوریوں کے باوجود اپنے رب کےحکم پر عمل پیرا ہے۔یہ صرف جنگی ساز و سامان کی بات نہیں، بلکہ قومی بیانیہ کا اعلان ہے کہ ہم صرف ردعمل نہیں پیش بندی کی حکمت پر یقین رکھتے ہیں۔اس ہیلی کاپٹر کا ہر پرزہ،ہر گولی،ہر میزائل میری قوم کے عزم صمیم،جہد مسلسل،عرق ریزی اور عزتِ نفس کا استعارہ ہے۔ سرحد پار سے آنیوالے شرپسند ہوں یا اندرونی فتنہ گر،یقینا ً اب محفوظ نہیں رہیں گے۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ کم بلندی کی جنگ میں دشمن کی برتری ختم کرنے کے جس ہتھیار کے حصول کی خبر دنیا کو جولائی کے پہلے ہفتے ڈیفنس نیوز سائٹس نے دی، یہ کوئی آج کا قصہ نہیں، نہ ہی بھارتی حماقت کے بعد اس کی ضرورت محسوس کی گئی بلکہ پاکستان 2014 سے اس کی تگ ودو میں تھا ، اور 2022 سے باقاعدہ تیاری کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا ۔کوئی شبہ نہیں کہ چینی زیڈ ۔10اٹیک ہیلی کاپٹر پاکستان کی اولین ترجیح نہیں تھا،یہ چین نے اپنے ساحلی علاقوں کی نگرانی کی محدود ضرورت کے تحت بنایا تھا ۔ پاکستان کی ترجیح امریکی اے ایچ 1 زیڈ وائپر تھا،952 ملین ڈالر میں 15 ہیلی کاپٹرز کی ڈیل ہوئی،لیکن پھر وہی امریکی منافقت اور بے اصولی، 2018 میں امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاطر خواہ تعاون نہ کرنے کا بہانہ بنا کرانکار کر دیا۔ دوسری ترجیح روسی ایم آئی 35 تھا، روس اور بھارت کےدرمیان پہلے سے معاہدوں کی موجودگی کے باوجود روس یہ ہیلی کاپٹر دینے پر آمادہ تو تھا،لیکن وہ صرف چار ہیلی کاپٹر دینا چاہتا تھا،پاکستان نے تعداد ناکافی ہونے کے سبب معذرت کرلی ، تیسرے نمبر پر ترکی کا ٹی 129 تھا، جس میں امریکی انجن استعمال ہو رہا تھا ، ترکی سے 30 ہیلی کاپٹر کی ڈیل ہو چکی تھی کہ امریکہ پھرآڑے آیا، اس سودے کی وجہ سے ترکی پر پابندیاں لگادیں اورانجن دینے سے انکار کر دیا۔ جس پر پاکستان نے آئوٹ آف دی باکس سوچنا شروع کیا اور 2022 میں چین سے بات کرکےاسی زیڈ 10 کو پاکستانی ضروریات کے مطابق تبدیل کرکے اس کا ایڈوانس ماڈل زیڈ 10 ایم ای بنانے اور اسمبلی لائن پاکستان میں قائم کرنے کی ڈیل کرلی۔پہلا بیج پاکستان میں اسمبل ہو کر پاکستانی فورسز میں شامل ہوچکا ہے۔
پاکستان کے پاس اس سے قبل سب سے جدید اٹیک ہیلی کاپٹر 1967 کا امریکی ساختہ بیل اے ایچ 1 کوبرا تھا، جبکہ بھارت کے پاس امریکہ کا ہی اے ایچ 64 ای اپاچی،یعنی پاکستان اٹیک ہیلی کاپٹر میں بھارت سے ایک جنریشن پیچھے تھا ،الیکٹرانک وار فیئر اورریڈار میں انڈین ہیلی کاپٹر بہتر تھا، اسے ٹینکوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔ کہاجا سکتا تھا کہ کم بلندی سے حملے کی صلاحیت کے حوالہ سے بھارت کو کسی حدتک برتری حاصل تھی ، جو اب ختم ہو چکی ۔پاکستان کی یہ مشین اپاچی سے بہتر اس لئے ہے کہ اس میں خصوصی طورتیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے ٹی وائی 90 میزائل لگائے گئے ہیں،اپنے موثر ریڈار، الٹرا وائلٹ گائیڈنس سسٹم،ہرطرح کے موسم میں شاندار کارکردگی کی صلاحیت اور 360 ڈگری پر ہر طرف اہداف کو نشانہ بنا نے کی خصوصیت کے سبب یہ کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں،ہیلی کاپٹروں اور ڈرون کو بخوبی نشانہ بنا سکتا ہے، ان اضافی خصوصیات کی وجہ سے یہ ان تمام ہیلی کاپٹرز پر برتری حاصل کر چکا ہے،جنہیں حاصل کرنے کی پاکستان ماضی میں خواہش کر تا رہاہے ۔ اس نئی مشین نے صرف بھارتی بالا دستی کا ہی خاتمہ نہیں کیا ، بلکہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف بھی ایک موثر اورجدید ہتھیار دستیاب ہو گیا ہے۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ملک کے اندر اور باہر سے در اندازی میں ملوث فتنوں کی سرکوبی میں درپیش مشکلات میں بہتری کی توقعات ہیں۔
فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔

یہ بھی پڑھیں