بھارت کی ہندوتوا پر مبنی فسطائی پالیسیاں، اقلیتوں کے خلاف منظم جبر اور بین الاقوامی دہشت گردی اس کے زوال کا نقطہ آغاز ہے۔ کشمیریوں کے بعدسکھوں کی پرامن جدوجہد، خصوصاً خالصتان تحریک، بھارتی تسلط کے خلاف ایک ایساطاقتور ردعمل ہے، جو اسے عالمی سطح پر بے نقاب کر نے کا باعث بن رہا ہے ۔ آج 17 اگست کا دن بھارت کے لئے ایک بڑی چتاونی کی حیثیت رکھتاہےکہ واشنگٹن ڈی سی میںخالصتان ریفرنڈم کا اگلا مرحلہ منعقد ہورہا ہے، جہاں لاکھوں سکھ بھارتی جبر کے خلاف بیلٹ کے ذریعے اپنی آواز اٹھائیں گے۔ یہ تحریک گولی کے مقابلے میں ووٹ کی طاقت سے اپنا حق مانگ رہی ہے، جسے دبانے کی بھارت کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہو چکی ہیں ۔بھارت نے خالصتان تحریک کو دبانے کے لیے صرف بھارتی سرزمین پر ہی قتل عام کا خونی کھیل نہیں کھیلا بلکہ اجیت دوول کی قیادت میں اپنے بین الاقوامی دہشت گردی کے نیٹ ورک کو بھی استعمال کیا ، جاسوسی، دھمکیوں اور جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لیا، لیکن وہ اسے روکنے میں ناکام رہا۔ جون 2023 میں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا کہ خالصتان رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے قابل اعتبار شواہد” موجود ہیں۔ اس انکشاف نے مودی کی فسطائیت کو ننگا کرکے رکھ دیا ۔عین انہی ایام میں برطانیہ میں خالصتان تحریک کے سرگرم کارکن اوتار سنگھ کھنڈا کی مشکوک حالات میں موت سے سکھ رہنماؤں میں تشویش پیدا ہوئی اور انہیں یقین کرنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ سب بھارتی خفیہ کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ بات اب کینیڈا اور برطانیہ تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ امریکی حکام نے بھی بھارتی ایجنٹ نکھل گپتا اور RAW افسر وکاس یادو کو خالصتان رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی ناکام سازش پر چارج شیٹ کردیا ہے ، جس سے بھارت کا سکھ رہنماؤں کو عالمی سطح پر نشانہ بنانے کا منصوبہ طشت ازبام ہو چکا ہے۔اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سےگرپتونت سنگھ پنوں کو خط کے ذریعے سیکیورٹی کی گارنٹی سکھ برادری کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی اور بھارت کے لئے ڈرائونا خواب ہے۔آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ کے ادارے پہلے ہی بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کو بے نقاب کرچکے ہیں، جو خالصتان حامی کارکنوں کی جاسوسی، دھمکیوں اور سازشوں میں ملوث تھے۔ آسٹریلیا کی انٹیلی جنس ایجنسی (ASIO) نے ایک بھارتی آپریشن کو بے نقاب کیا، جس میں دفاعی معلومات چوری اور سکھوں کی ریکی شامل تھی۔ بھارتی انکار کے باوجود، آسٹریلوی انٹیلیجنس نے ٹھوس شواہد پیش کر کے بھارت کی دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا۔ مغربی عدالتوں نے گرپتونت سنگھ پنوں جیسے رہنماؤں کی حوالگی کی بھارتی درخواستوں کو سیاسی قرار دے کر بار بار مسترد کیا، جس سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ دو کوڑی کی ہو کرہ گئی ہے ۔
بھارت نے خالصتان رہنماؤں کو خاموش کرانے کے لیے جبر، قتل اور جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لیا، لیکن یہ ہتھکنڈے ناکام ہو چکے ہیں۔ عدالتوں سے لے کر پارلیمانوں تک، عالمی ردعمل نے بھارت کے غیر جمہوری رویے کو بے نقاب کیا۔ امریکی حکام نے بھی سکھوں کے جمہوری حقوق کا دفاع کرتے ہوئے ریفرنڈم کی اجازت دی، جو بھارت کے لیے ایک اور سفارتی شکست ہے۔بھارت کی یہ پالیسیاں اسے عالمی سطح پر تنہا کر رہی ہیں۔ جمہوری ممالک میں خالصتان ریفرنڈم کی حمایت بڑھ رہی ہے، جو اس تحریک کی حقانیت کو تقویت دیتی ہے۔ سکھ برادری کی پرامن جدوجہد نے بھارت کے جابرانہ نظام کو چیلنج کیا ہے، جو اقلیتوں کے حقوق کو پامال کر رہا ہے۔ آج کا واشنگٹن ریفرنڈم اس جدوجہد کا ایک تاریخی سنگ میل ہوگا، جو سکھوں کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
سکھوں کی پرامن جدوجہد نے ثابت کیا کہ بیلٹ کی طاقت گولی سے زیادہ ہے۔ سکھوں کی یہ جدوجہد نہ صرف ان کے حق خود ارادیت کی جنگ ہے بلکہ بھارت کے زوال کا واضح اشارہ بھی ہے۔ تمام تر بھارتی سازشوں کے باوجود کینیڈا میں سکھ سفارتخانے کا قیام خالصتان تحریک کو نئی توانائی اور عالمی حمایت فراہم کر رہا ہے۔ یہ سفارتخانہ سکھوں کی آواز کو سفارتی محاذ پر مضبوط کرے گا۔ دنیا بھر میں مقیم تین کروڑ سکھوں کی قیادت میں یہ تحریک اب ایک عالمی سیاسی جدوجہد بن چکی ہے۔ سکھوں کا واضح پیغام ہے کہ وہ گولی نہیں، بیلٹ سے اپنا حق مانگتے ہیں۔ یہ پرامن تحریک بھارت کے نوآبادیاتی ورثے اور فسطائی رجحانات کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔ بھارت کا سکھوں پر جبر برطانوی نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کی یاد دلاتا ہے، جو اقلیتوں پر سامراجی کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش تھی۔ خالصتان کا مطالبہ سکھوں کی اس تاریخی ظلم کے خلاف جائز جدوجہد ہے۔بھارت کی جانب سے خالصتان تحریک کو ’’انتہا پسند‘‘ قرار دینا اور اسے دہشت گردی سے جوڑنا ایک جھوٹا بیانیہ ہے، جو عالمی برادری میں پذیرائی حاصل نہیں کر سکا۔ سکھوں کی پرامن جدوجہد کو بین الاقوامی قوانین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ 2021 سے اب تک برطانیہ، کینیڈا، اٹلی، آسٹریلیا، سوئٹزرلینڈ، نیوزی لینڈ اور امریکہ میں خالصتان ریفرنڈمز کامیابی سے منعقد ہو چکے ہیں۔ یہ تمام اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر اور ICCPR کے آرٹیکل 1 کے تحت قانونی تحفظ رکھتے ہیں، جو ہر قوم کو خود ارادیت کا حق دیتا ہے۔ سکھ برادری کا کہنا ہے کہ ان کا ریفرنڈم پرامن ہے، اور اسے دہشت گردی قرار دینا بھارت کا جھوٹا بیانیہ ہے۔ اقوام متحدہ کے کسی رکن ملک نے ان ریفرنڈمز کو غیر قانونی قرار نہیں دیا، بلکہ بیشتر جمہوری ممالک نے انہیں سیاسی آزادی کی جائز شکل تسلیم کیا۔آج کا ریفرنڈم بھارت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا ، جس سے نہ صرف خالصتان کے قیام کی راہ ہموار ہوگی بلکہ کشمیر کی آزادی کا راستہ بھی کھلے گا ۔