لاہور: لاہور ٹیوشن سنٹر حادثہ میں زخمی ہونے والی خاتون ٹیچر نے پہلی مرتبہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حادثے کی ہولناک تفصیلات بیان کر دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ مرمت کے دوران عمارت کی چھت اچانک زمین بوس ہو جائے گی۔
لاہور جنرل اسپتال میں زیر علاج ٹیچر انیلا نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو برس سے اس ٹیوشن سنٹر میں بچوں کو تعلیم دے رہی تھیں۔ ان کے مطابق روزانہ تقریباً 30 سے 35 بچے ٹیوشن پڑھنے آتے تھے جبکہ حادثے والے روز 20 سے 22 بچے موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ بارشوں کے باعث عمارت کی چھت سے پانی ٹپک رہا تھا، جس کی مرمت جاری تھی۔ اسی دوران اچانک چھت گر گئی اور کئی بچے ملبے تلے دب گئے۔ انیلا کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک سانحہ تھا اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا حادثہ پیش آسکتا ہے۔
ٹیچر نے مزید بتایا کہ اس حادثے میں ان کی بیٹی بھی زخمی ہوئی تھی، تاہم علاج کے بعد اسے اسپتال سے گھر بھیج دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی اپنی حالت بھی خطرے سے باہر ہے اور انہیں بھی جلد اسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب لاہور ٹیوشن سنٹر حادثہ کے بعد پولیس نے انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق حادثے میں 14 بچے جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہوئے۔ ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ چھت پر زیادہ وزن ہونے کے باعث عمارت منہدم ہوئی۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں مکان مالک سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ حادثے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے کاہنہ کی بستی عیدگاہ میں قائم ایک نجی ٹیوشن سنٹر میں پیش آیا تھا، جہاں معصوم بچوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد خاندان غم کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

