Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

اسلام کو مسلمانوں سے بچائو

(گزشتہ سے پیوستہ)
اسے ہجوم کا قانون بنانا بذات خود آپ ﷺ کے کلام مبارک کی توہین سے کم نہیں ۔ محدثین کے نزدیک آپ ﷺ نے اس حدیث مبارکہ کے ذریعہ سےذمہ داریوں کا تعین فرمایا ہے ، ہر کس وناکس کو اختیار کا ڈنڈا نہیں تھمادیا ۔ دیکھنا ہوگا کہ برائی کو ہاتھ سے روکنے کے لئے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے خلفاء ؓجن کی خلافت کو خود آپ ﷺ نے خلافۃ علی منہاج النبوۃ قرار دیا، ان کا طرز عمل کیا تھا ۔کیا اس دور میں عوام کو یہ حق حاصل تھا کہ جو جس شئے کو برائی سمجھے اس کے خلاف ڈنڈا لے کر کھڑا ہوجائے ؟ تمام تر ذخیرہ احادیث ، کتب سیر اور تواریخ میں ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ آپ ﷺ نے یا آپ کے خلفا ؓ نے عام لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت دی ہو ، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے عامل ( گورنر)، قاضی اور امیر مقرر کیے، جو ریاست کے نمائندہ تھے تاکہ عدل قائم ہو، کبھی ہجوم کو سزا دینے کی اجازت نہیں دی، حالانکہ وہ سب صحابہؓ تھے۔جب نبی مکرمﷺ نے اپنے تربیت یافتہ صحابہؓ کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ جس چیزکو برائی سمجھیں ، ہاتھ سے روکنا شروع ہوجائیں ، بلکہ قضاء اور امارت کا نظام قائم کرکے سب کو اس کے تابع کیا، تو آج 14سوسال بعد کے کمزور ایمان کے لوگوں کو ہجومی قانون کا اختیار کیسے دیاجاسکتا ہے؟ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہجوم پرستی امربالمعروف نہیں، فساد فی الارض ہے، اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں زمین پر فساد پھیلانے والوں کو مفسدین کہا ہے،اور قرآن میں اس کے لئے بے شمار وعیدیں موجود ہیں ۔
تکفیر ایک اوراسی طرح کا فتنہ ہے ۔ حیرت انگیز طور پر یکسر جاہل مطلق دوسروں کی تکفیر کرنے اور واجب القتل مرتد قرار دینے میں منٹ نہیں لگاتے ، حالانکہ اسلام میں تکفیرنہایت سنگین معاملہ ہے ، ہمیشہ اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف وہی مستند اور جید علما جو قرآن، سنت اور فقہ میں گہری بصیرت رکھتے ہوں، اس معاملے پر رائے دے سکتے ہیں، اور وہ بھی انتہائی احتیاط کے ساتھ۔ نبی اکرم ﷺ نے سختی سے خبردار کیا کہ بلاوجہ کسی مسلمان کو کافر کہنا نہ صرف گناہ ہے بلکہ یہ الزام پلٹ کرخود الزام لگانےوالےپرعائد ہوتا ہے۔پاکستان میں فتنہ قادیانیت کی تکفیر کا معاملہ اس اصول کو واضح کردیتا ہے کہ اس دور کے جید علماء نے ، جانیں قربان کیں، خون کے دریا عبور کئے لیکن قانون ہاتھ میں نہیں لیا،البتہ ریاست کو قائل کیاکہ وہ اس فتنہ کی تکفیر کا اعلان کرے اور پاکستان کی پارلیمنٹ نے اجتماعی طور پر علماء کی راہنمائی میں ریاستی اختیار کو استعمال کیا اور قادیانیوں کی تکفیر کی ۔ باطل قوتیں ایک جانب تکفیر سے دین متین کو عوام کی نظر میں بدنام کر رہی ہیں تو دوسری جانب قادیانیوں کی تکفیر کومشکوک بنایا جارہا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ برصغیر فتنوں کا گھر کیوں رہا؟ اور اب پاکستان میں اسلام کے نام پر اسلام دشمن فتنے بارش کی طرح کیوں برس رہے ہیں؟ لارڈ میکالے اور دیگر اس دور کے برطانوی دانشوروں کے مقالہ جات میں کہا گیا تھا کہ مسلمانوں کی دل ودماغ سے جب تک جہاد اور آقا محمد ﷺ کی ذات کو نہیں نکالاجائے گا ، یہ غلبہ دین کے لئے کام کرتے رہیںگے ۔ لہذا سیالکوٹ کچہری کے ایک ہونق کلرک کو جھوٹا نبی بناکر میدان میں اتارا گیا ، اور قادیانیت کے فتنہ کی آبیاری کی گئی ۔ اب نائن الیون کے بعد صہیونیت کو عالم اسلام میں دوبارہ بیداری کی امکانات دکھائی دیئے اور گریٹر اسرائیل کے خلاف مزاحمت دکھائی دی تو اس نے بھی وہی راستہ اختیار کیا ، اول توہین رسالت کی عالمی مہم شروع کی ، دوسرے خلافت ، جہاد اور اسلام کی تمام سیاسی ،اساسی اصطلاحات سے نفرت پیدا کرنے کی خاطر ان سب کو دہشت گردی سےجوڑدیا۔ ایسے تمام دہشت گردوں اور فتنوں کی براہ راست اور بلواسطہ آبیاری کی گئی تاکہ مسلم معاشروں کو فساد کی نذر کرکے کمزور کیا جا سکےاورسلام سے نوجوان مسلم کو متنفر کیاجاسکے ۔ سوال یہ بھی اہم ہےکہ آخر نائن الیون کے بعد ہی یہ سب فتنہ پروری کیوں سامنے آئی؟ اس کا جواب 2004 میں امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ میں موجود ہے ، جو اس کے نیشنل سکیورٹی ریسرچ ڈویژن نے تیار کی اور سول ڈیموکریٹک اسلام کےنام سےشائع ہوئی ۔ 72صفحات پر مشتمل یہ پالیسی پیپر انٹرنیٹ پر اس تھنک ٹینک کی ویب سائٹ پر آج بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ اس پالیسی پیپر کے ابتداء ہی میں بغیر کسی لگی لپٹی کے لکھا گیا کہ’’ امریکہ اور ماڈرن انڈسٹریل ورلڈ کو ایسی اسلامی دنیا کی ضرورت ہے جو مغربی اصولوں اور رولز کے مطابق چلے جس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانوں میں موجود ایسے افراد اور طبقہ کی پشت پناہی کی جائے جو مغربی جمہوریت اور جدیدیت کو ماننے والے ہوں۔‘‘ ایسے افراد کو کیسے ڈھونڈا جائے یہ وہ سوال تھا جس پر رینڈ کارپوریشن نے مسلمانوں کو چار Categories میں تقسیم کیا۔
پہلی قسم وہ جو اسلامی قوانین اور اسلامی اقدار کے نفاذ کے خواہاں ہیں، لیکن جدید تعلیم یافتہ ہیں اور دنیاکو سمجھتے بھی ہیں یعنی وہ طبقہ کو اصل اورتحقیقی دین کا فہم رکھتا ہے، اسے بنیادپرست کا نام دیا گیا ، اور انہیں سب سے زیادہ خطرناک بھی کہا گیا، اور لکھا گیا کہ یہ لوگ دہشت گردی کے بھی قائل نہیں ۔ دوسری قسم کوقدامت پسند کا نام دے کر کہا گیا کہ یہ لوگ خطرہ نہیں ہیں ، لیکن کسی فائدہ کے بھی نہیں کہ یہ جدیدیت اور تبدیلی سے دور رہتے ہوئے ، قدیم دور میں زندہ رہنا چاہتے ہیں ۔ تیسری قسم ایسے مسلمانوں کی ہے جنہیں جدت پسند کا نام دیا گیا جو بین الاقوامی جدیدیت کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں اسلام کو بھی جدید بنانے کے لئے اصلاحات کے قائل ہیں، یعنی مرضی کا دین گھڑنے کے قائل ہیں، انہیں امریکہ کے لئے انتہائی قابل قدر قرار دیا گیا۔ چوتھی قسم سیکولرمسلمانوں کی قرار دی گئی ، جسے اصل اثاثہ قرار دیا گیا اور لکھا گیا کہ یہ اسلامی دنیا سےتوقع رکھتےہیں کہ وہ بھی مغرب کی طرح دین کو ریاست سے علیحدہ کر دیں۔
پالیسی رپورٹ نے اسلامی دنیا میں مغربی جمہوریت، جدت پسندی اور ورلڈ آرڈر کے فروغ اور نفاذ کے لئے پالیسی دی گئی کہ وہ جدت پسندوں کی حمایت کریں، اس طبقہ کے کام کی اشاعت اور مالی مدد کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ عوام اور نوجوانوں کے لئے لکھیں، ایسے جدت پسند نظریات کو اسلامی تعلیمی نصاب میں شامل کریں، جدت پسندوں کو پبلک پلیٹ فارم مہیاکریں، ان کی اسلامی معاملات پر تشریحات، رائے اور فیصلوں کو میڈیا، انٹرنیٹ، اسکولوں کالجوں اور دوسرے ذرائع سے عام کریں، سیکولرازم اور جدت پسندی کو مسلمان نوجوانوں کے سامنے متبادل کلچر کے طور پر پیش کریں، نوجوانوں کو اسلام کے علاوہ دوسرے کلچرز کی تاریخ پڑھائیں، سول سوسائٹی کو مضبوط کریں۔
سب سے خطرناک چال یہ کہ مسلمان طبقات کے درمیان اختلافات کو ہوا دیں، پوری کوشش کی جائے کہ بنیاد پرست مسلمان اور قدامت پرست آپس میں اتحاد نہ قائم کر سکیں۔یہ بھی تجویز دی گئی کہ چونکہ بنیاد پرست اصل دین پر قائم رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں ، لہذایہ مغربی تسلط کے لئے بڑا خطرہ ہیں ،انہیں تنہا کرنے کے لئےحالات پیداکئے جائیں۔ قدامت پسندوں کی تربیت کریں تاکہ وہ بنیاد پرستوں کا مقابلہ کرسکیں ۔ بنیاد پرست طبقے کو غیرقانونی گروہوں اور واقعات سے منسلک کرکے پروپیگنڈہ کیا جائے اور عوام کو ان سے گمراہ کیاجائے۔ ایک اور صہیونی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں 2006 میں تجویز کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کی سیاسی اصلاحات،جہاد،خلافت اور نہی عن المنکر کو جرائم سے منسلک کرکے دکھایاجائے تاکہ قبول اسلام کی شرح کو کنٹرول کیاجاسکے اور مسلمانوں کی نوجوان اکثریت کواسلام کے خلاف کھڑا کیا جاسکے ۔ ان دونوں رپورٹس کی روشنی میں یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں رہتاکہ داعش ، ٹی ٹی پی سے لے کر ریاست مدینہ کے مقدس نام کی آڑ میں فتنہ پرور اور پلمبری گروپ کے مقاصد کیا ہیں اورانہیں کون کس مقصد کے لئے نہ صرف پال رہا ہے ، بلکہ استعمال کر رہا ہے ۔ حالات کا تقاضہ ہے ، بلکہ بقاء کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہر قسم کے عطائیوں ، پلمبروں ، فتنہ پروروں پر چار حرف بھیجتے ہوئے ، صرف خالص دین کی پیروی اور ترویج کی جائے ، جو خالصتاً قرآن وسنت سے استدلال کرتا ہو ، اور دین کی تعلیم وتشریح کے لئے بھی صرف مستند علماومفتیان پر اعتبار کیاجائے ، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے کیوں نہ ہو ۔

یہ بھی پڑھیں