یہ بھی میری ہی جنگ ہے
ایران کےساتھ اختلاف و اتفاق کا معاملہ الگ، پالیسیوں سے اختلاف، پاکستان میں مداخلت پر اعتراض، پراکسیز پر تنقید یکسر مختلف، لیکن جب اسرائیل جیسا بدمعاش حملہ آور ہو تو پھر یہ بھی میری ہی جنگ ہے۔ جب نیتن یاہو
ایران کےساتھ اختلاف و اتفاق کا معاملہ الگ، پالیسیوں سے اختلاف، پاکستان میں مداخلت پر اعتراض، پراکسیز پر تنقید یکسر مختلف، لیکن جب اسرائیل جیسا بدمعاش حملہ آور ہو تو پھر یہ بھی میری ہی جنگ ہے۔ جب نیتن یاہو
جب پاک سرزمین اپنی عظیم فتح کے بعد عالمی افق پر جگمگا رہی ہے، اور جنگ عالمی سفارتی میدانوں میں منتقل ہوچکی ہے اور سفارتی محاذ پر تلواروں کی جھنکار گونج رہی ہے، اس نازک ساعت میں تحریکِ انتشار کا
منی پور میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف احتجاج نہیں،حقِ خود ارادیت کی وہ صدا ہے جو دہلی کی در ودیوار کو لرزہ بر اندام، کئے ہوئے ہے۔منی پور کے عوام، اپنی شناخت، اپنی زمین اور اپنے فیصلے
28 مئی 1998ء وہ تاریخی دن تھا جب چاغی کے سنگلاخ پہاڑوں نے پاکستان کی عظمت کی گواہی دی۔ یہ محض ایک سائنسی فتح نہیں تھی بلکہ ایک قوم کے عزم، اس کی غیرت اور اس کی خودمختاری کا آہنی
دنیا نے دہشت گردی کے بے شمار واقعات دیکھے ہوں گے، لیکن ایسا کوئی ملک نہیں جو خود اپنے شہریوں کو قتل کرکے الزام دشمن پر تھوپنے کی مہارت رکھتا ہو — سوائے بھارت کے۔ یہ وہ ریاست ہے جو
(گزشتہ سے پیوستہ) پاکستانی اور افغانی کا خون، رنگ ایک ہے ، جزبات اور ایمان کی حرارت بھی ایک ، یار ہماری قبروں کی سانجھ ہے ، کتنے میرے پاکستانی مائوں کے سپوت ہیں ، جو گھر سے جہا دپر
جب نفرتوں کے زخم ناسور بن جائیں اور سرحد کے آر پار صدیوں کی محبت بداعتمادی بن کر سانسوں کو بوجھل کردے، دوست رنجیدہ اور دشمن شاد کام ہوجائے تو ، کسی کو ایک قدم اٹھانا پڑتا ہے ، چھوٹا
’’اسلام آباد کی دلکش فضاؤں میں جب پردیس سے آئے پاکستانی اپنے پرچم سینے سے لگائے کانفرنس ہال میں داخل ہو رہے تھے، تو وہ صرف شرکت کرنے نہیں آئے تھے۔ وہ اپنے وجود کے ساتھ ایک پیغام لے کر
نادر شاہ درانی نے بدترین قتل عام کے بعد، جب دلی فتح کرلی تو مفتوح بادشاہ محمد شاہ رنگیلا نےشاہی محل میں فاتح بادشاہ کا گرم جوشی سے استقبال کیا ۔ جنگ کے تاوان کے علاوہ نادر شاہ وہ تاریخی
کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ سال ہا سال سے ہر حکومت کو بلیک میل کرکے مال بنانے والا اختر مینگل اچانک احتجاج پر کیوں اتر آیا ، لانگ مارچ اور مرنے مارنے کی باتیں کیوں کرنے لگا ؟ حقیقت صرف اتنی