پی ٹی آئی نہیں،پاکستان کی توہین
برصغیر کی سیاست میں کردار کشی اور الزام تراشی ہمیشہ سے موجود ہے ، علامہ اقبال اور ابو الکلام جیسی نابغہ عصر شخصیات بھی محفوظ نہ رہیں ، لیکن دشنام طرازی ، گالم گلوچ، کردار کشی اور الزام تراشی کو
برصغیر کی سیاست میں کردار کشی اور الزام تراشی ہمیشہ سے موجود ہے ، علامہ اقبال اور ابو الکلام جیسی نابغہ عصر شخصیات بھی محفوظ نہ رہیں ، لیکن دشنام طرازی ، گالم گلوچ، کردار کشی اور الزام تراشی کو
اقبالؒ نےمشرق کا جنیوا ہونے کا خواب تہران کے لئے دیکھا تھا ، لیکن پورا دوحہ کی صورت ہوا،جو امن مذاکرات کے مرکز کی حیثیت اختیار کرگیا ہے ۔ کس نے سوچا ہوگا کہ پاکستان اور افغانستان اور وہ بھی
اسرائیل کی مذمت اور غزہ کی حمائت کے لئے ٹویٹ کا وقت نہیں ، اگر کوئی سوال کرے تو ’’ انتشاری ‘‘ وہ سیاپا کرتے ہیں کہ بندہ پریشان ہوجاتا ہے، چند روز قبل امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے یہی
سوال یہ ہے کہ پسنی پورٹ پر عالمی میڈیا میں سازشی رپورٹ کا مقصد کیا ہےاور پس منظر کیا ہے؟ فنانشل ٹائمز جیسا مہنگا جریدہ جس کے صفحہ اول پر صرف 20 سنٹی میٹر جگہ کی قیمت 55ہزار ڈالر یعنی ایک
دومنظر نامے ہیں،صرف پاکستان میں نہیں عالمی سطح پر بھی، دونوں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گرد تنظیم لشکر بلوچستان کے سربراہ جاوید مینگل کا بھائی اخترمینگل انگاروں پر لوٹ رہا ہے ، نت نیا پینترا بدلتا
تکبر تو ویسے ہی اللہ کو پسند نہیں کہ یہ صرف اسی کی صفت ہے ، متکبر اگر گستاخ اور بدزبان بھی ہو ،اور گستاخی بھی محبوبﷺ خدا کی کرے تو اس کے بدبخت اور برباد ہونےمیں کوئی شک باقی
دنیا کی تاریخ میں وہ قومیں زندہ اور کامیاب رہی ہیں جنہوں نے مشکلات اور بحرانوں کے دوران درست فیصلے کیے۔ وہ قومیں جو وقتی مصلحتوں کا شکار ہوئیں یا سیاسی مفاد کے لیے ریاستی اصول قربان کرتی رہیں، وہ
پاکستان اور سعودی عرب کامعاہدہ تو اب منظر عام پر آیا ہے لیکن پاکستان عرب دوستوں کو دفاع میں خودمختار بنانے کے مشن پر دسمبر 2023 سے عمل پیرا ہے۔ اب تک اس میدان میں کامیابیوں کی تفصیل دشمن کے
عزت غیرت اور غیرت ہمت میں ہےاور بلاشبہ یہ فیصلےدماغ کےبجائےدل سےکئےجاتے ہیں وہ بھی سود وزیاں کاحساب رکھے بغیر، معرکہء حق بھی عقل کی پاسبانی سے آزاد ایسے ہی وقت میں کیاگیا عزت و غیرت کافیصلہ تھا،جو آج عالمی افق
اڈیالہ سے اٹھتا ہو اشور ، بیانوں کی بھرمار ، ٹویٹوں کا طومار یہ بتانے کو کافی ہے کہ قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف فورسز کی کاری ضرب کی درد بہت دور تک محسوس کی جا رہی