اسرائیل کی مذمت اور غزہ کی حمائت کے لئے ٹویٹ کا وقت نہیں ، اگر کوئی سوال کرے تو ’’ انتشاری ‘‘ وہ سیاپا کرتے ہیں کہ بندہ پریشان ہوجاتا ہے، چند روز قبل امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے یہی سوال اٹھایا تو گویا سوشل میڈیا پر ہاہا کار مچ گئی ، انتشاری پرے باندھ کر میدان میں اترتے ایک دوسرے کو پکار پکا رکر یوں حملہ آور ہوتے رہے کہ پناہ بخدا ۔ قائد انتشار کی قید ، مظلومیت ، پابندیوں ، قید تنہائی اور نہ معلوم کون کون سے مظالم کی داستانیں سنائی گئیں کہ رقیق القلب بندہ تو پڑھ سن کر ہی حواس کھو دے۔ لیکن حیرت ہے اسی قید تنہائی عرف سزائے موت کی چکی جہاں اسرائیل کی مذمت ممکن نہیں، سیاسی تماشہ گری کی کھلی چھٹی ہے ، عملی طور پر غور کرنے ، وزیر اعلیٰ تبدیل کرنے اور ریاست کےخلاف نت نیا محاذ کھولنے جیسے امور کے لئے کوئی قدغن نہیں ۔ قید تنہائی کے ایسے ہی ایک لمحے نے علی امین گنڈا پورکی وزارت علیا کو قصہ ماضی بنا دیا ہے، ان کی جگہ ایک دوسرے آتش گفتار رکن صوبائی اسمبلی سہیل آفریدی کو نامزد کیا گیا ہے ، بہت سی گفتنی نا گفتنی داستانیں زد عام ہیں ، تجزیہ نگار اور علم سیاست کے شناور دور کی کوڑی لاتے ہوئے اس فیصلہ کے پس منظر ومقاصد پر خامہ فرسائی کر رہے ہیں ، یقینی سی بات ہے کہ مخالفین کی نظر منفی پہلووں پر ہےا ور محبین اس کی تعریف میں اسی طرح سے رطب اللسان ہیں جیسے وہ کبھی علی امین گنڈہ پو رکے لئے دیدہ ودل فرش راہ ہوا کرتے تھے، لیکن ایک بات پر ہردو فریقین کا اتفاق ہے، کہ تبدیلی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رکوانے کے لئے کی گئی ہے ۔ یہ الزام نہیں ، خود پارٹی سیکریٹری جنرل نے ٹی وی پروگرام میں کہا ہے کہ ’’اگر خان صاحب کو لگتا ہے کہ کوئی دوسرا آدمی آپریشن رکوا سکتا ہے تو ٹھیک ہے۔ہم اس فیصلے کو ویلکم کرتے ہیں،نئے وزیر اعلی کی سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہوگی کہ وہ آپریشن رکوائیں۔ کیسے رکوائیں گے یہ وہی بتاسکتے ہیں۔آج کا فیصلہ مجھ سمیت بہت لوگوں کے لیے حیران کن تھا۔ بہرحال یہ فیصلہ ان کا ہے ، اور ہم اسے قبول کرتے ہیں ۔ ‘‘ نامزد وزیرا علیٰ جن کا ابھی انتخاب ہونا باقی ہے ، ان کی شہرت ، سیاسی پس منظر اور ان پر لگنے والے الزامات جن کی ان کی جانب سے کبھی تردید نہیں آئی ، ان سب کو دیکھا جائے تو کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ سیکریٹری جنرل کی بات درست ہے ، لیکن سوال یہ ہےکہ دہشت گردوں سے اتنی ہمدردی کیوں؟ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے اتنی پریشانی کیوں ؟ اس کا جواب خود سابق وزیر اعظم کی وہ تقاریر اور انٹرویوز ہیں ، جنہیں اب کوئی دہرائے تو فتنہ انتشار گالیوں کی توپوں کے دھانے کھول دیتا ہے ، لیکن ان کا ایک ایک قدم ایک ایک فیصلہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ ،کس کے ساتھ ہیں ؟ اور کیوں اس آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں ؟
گنڈا پور کو عہدے سے ہٹانا کوئی بڑی بات نہیں ، جمہوری معاشروں میں پارٹی سربراہ ایسے فیصلے کرتے رہتے ہیں ،لیکن یہاں قصہ ہے کہ تبدیلی کی وجہ یہ نہیں کہ گنڈہ پور تباہ حال کے پی کے کو سنبھالا نہیں دے پا رہے تھے، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ وہ جس مشن کے لیے منتخب کیے گئے تھے، نا صرف اس میں سراسر ناکام ٹھہرے، بلکہ ’’اثاثہ جات ‘‘ کو بچانے کی ہنگامی سائنمنٹ کو بھی پورا نہ کرپائے ۔ انہیں یہ عہدہ اس یقین کےساتھ دیا گیا تھاکہ ’’ وہ ایک طرف بطورِ وزیر اعلیٰ ریاست کو ٹف ٹائم دیں گے اوردوسری جانب ’’وکٹ کے دونوں جانب ‘‘ کھیلنے کی اپنی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے مجرم کو محرم بنانے کا مکارنامہ سرانجام دے سکیں گے ، مگر وائے ناکامی کہ آس کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی بلکہ آکاس بیل ثابت ہوئی ۔ ’’ سارا جاتے دیکھیو تو آدھا دیو گنوا ‘‘ لہٰذا اب بامر مجبوری رہائی والی خواہش کا گھلا گھونٹ کر ’’اثاثہ ‘‘بچانے کی مہم کے لئے علم مزاحمت نئے وزیراعلیٰ کو تھما دیاگیا ہے، وہ کس قدر امید پہ پورا اترتے ہیں، وقت بتائے گا۔
فتنہ انتشار کی افتاد طبع سے کسی مثبت نتیجہ کی توقع تو نہیں لیکن سہیل آفریدی کے پس منظر کو دیکھتے ہوئے کچھ سنجیدہ امکانات کو بھی پیش نظر رکھا جا سکتا ہے ۔ گو کہ اس نامزدگی کو عثمان بزدار اور محمود خان سے ملایاجا رہا ہے، پی ٹی آئی کے بعض حلقوں کی جانب سے ان کی آتشیں تقریروں انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کے پس منظر سے یہ نتیجہ بھی نکالا جا رہا ہے کہ یہ وزیر اعلی بن کر 26 نومبر کو کپتان کی رہائی کے لیے فیصلہ کن تحریک کا آغاز کریں گے ، مخالف حلقے کچھ اور بھی سلسلے جوڑ رہے ہیں ، لیکن کچھ حقائق ایسے بھی ہیں کہ حمائت ومخالفت سے علی الرغم انہیں نظر انداز بہرحال نہیں کیا جا سکتا ۔پہلا تو یہ کہ اگر وہ وزارت علیا کا حلف اٹھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو فاٹا سے وزیر اعلی بننے والےپہلے فرد کا اعزاز حاصل کریں گے ، قبائلی اضلاع میں سیاسی اتفاق واختلاف سے ہٹ کر اس نامزدگی کا خیر مقدم ہی کیا جائے گا ۔ سہیل آفریدی کی نظریاتی وابستگی یا تندوتیز تقاریر اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانات سے ہٹ کر قبائلی پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک موقع بھی ہے کہ قبائلی مشران آگے آئیں اور اس عہدے کو قبائلی اضلاع یعنی سابق فاٹا کے حق میں استعمال کریں ، مسائل حل کرنے کے لیے نگرانی اور مشاورت کریں، وہ کام کریں جووہ آج تک کرتے آئے ہیں کہ اجتماعی دانش سے ناقابل حل مسائل کا حل نکالیں ،تصادم کو ٹالیں ۔ ایک قبائلی فرد کے لیے اپنے لوگوں سے رخ موڑنا ممکن نہیں ہوتا ، یہ مل کر رہتے ہیں اور اپنی حد میں رہتے ہیں ، لاینحل مسائل کو بات چیت سے بحسن وخوبی حل کرنا ایک قبائلی کی سرشت میں شامل ہوتا ہے ، اس پہلو سے دیکھا جائے تو امید رکھی جا سکتی ہے ، لیکن خطرہ بھی ہے کہ اگر یہ مثبت رخ سامنے آگیا تو پھر انجام گنڈہ پور والا ہی ہو گا ۔ اگر یہ فیصلہ قائم رہتا ہے ، حسب ماضی کوئی یو ٹرن نہیں آجاتا ، جس کا امکان پایا جاتا ہے تو یہ سہیل آفریدی کا امتحان ہوگا کہ وہ تاریخ میں اپنا نام کس حیثیت لکھوانا چاہیں گے ، دانا قبائلی عمائدیں میں یاکسی کی سیاسی خواہشات کے اسیروں کی فہرست میں ۔