Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

پی ٹی آئی نہیں،پاکستان کی توہین

برصغیر کی سیاست میں کردار کشی اور الزام تراشی ہمیشہ سے موجود ہے ، علامہ اقبال اور ابو الکلام جیسی نابغہ عصر شخصیات بھی محفوظ نہ رہیں ، لیکن دشنام طرازی ، گالم گلوچ، کردار کشی اور الزام تراشی کو جو عروج پی ٹی آئی نے دیا ، اس کی کوئی دوسری مثال ملنا ممکن نہیں ۔ ماضی میں سیاسی بہتان طرازی زندہ مخالفین تک محدود رہی ، لیکن انہوں نے تو زندہ ومردہ کی تفریق ہی مٹاڈالی ، مخالفین ہی نہیںغیر جانبداروں کے جنازے تک ان کی زبانوں سے محفوظ نہ رہے۔ایسے بھی ہیں، جن پر دانش وری کاالزام رہا،شفاف شخصیت اور اجلے اخلاق کی شہرت رکھتے تھے، جیسے ہی اس وائرس کا شکار ہوئے،زبان وبیاں اس قدر آلودہ ہوگئے کہ پناہ بخدا، اول اول تو یقین ہی نہ آیا کہ یہ وہی ہیں۔پی ٹی آئی کی زبان درازی اور ہرزہ سرائی کی اس شناخت کے باجود اس بات کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا کہ جواباً وہی زبان استعمال کی جائے،خواتین کی کردار کشی ، الزام تراشی اور دشنام طرازی کو اختیارکیا جائے۔یہ تو انہی کی کامیابی ہوگی کہ رواداری اور احترام کا چلن چھوڑ کر خود کوان کے رنگ میں رنگ لیا جائے،لہٰذا دی اکانومسٹ کی رپورٹ پر شادیانے بجانایا چسکے لیناقطعی مناسب نہیں،اس عالمی جریدے سے ثبوت طلب کرنا ضروری ہے۔بیرسٹر گوہرکا قانونی کارروائی کا اعلان خوش آئندہے لیکن اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس آرٹیکل کا مقصد بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی کردار کشی ہے، اس سے قبل بھی عدت جیسے گھٹیا الزامات لگائے گئے، یہ بھی من گھڑت کہانی ہے، ہم اس قسم کے آرٹیکل کے آنے کی ہم مذمت کرتے ہیں، اس قسم کے آرٹیکل اسپانسرڈ ہوتے ہیں اور ہم اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔صرف پی ٹی آئی یا اس کی لیڈر شپ کا معاملہ نہیں ہے، ایٹمی قوت پاکستان کے ایوان اقتدار پر سوال اٹھایا گیا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔
اس تحریر کے دو پہلوہیں ، ایک ذاتی اور دوسرا ریاستی ذاتی اخلاقیات کو اگر نظر انداز بھی کر دیا جائے ،تو ریاستی امور کے حوالہ سے عالمی جریدے میں الزامات انتہائی حساس معاملہ ہے ، حالانکہ قیادت کے منصب پر تو فردکی آزادی کا علمبردارمغربی معاشرہ بھی کردار پر داغ قبول نہیں کرتا۔ امریکی صدر بل کلنٹن کو مونیکا لیونسکی کے ساتھ غیر قانونی تعلق کے الزام میں 1998 ء میں امپیچمنٹ کا سامنا کرنا پڑا، 2022 ء امریکی کانگریس کے رکن ٹام ریڈ کو جنسی ہراسانی کے الزام پر استعفی دینا پڑا ،رکن کانگریس میڈیسن کاتھورن کو اسی سال اسی الزام میں ریپبلکن نامزدگی سے محرومی اوراستعفی دینا پڑا۔ رکن کانگریس میٹ گیٹز 2021 ء میں نابالغ لڑکی سے جنسی تعلقات کے الزام میں تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔برطانیہ میں کرس پنچر ڈپٹی چیف وہپ اور ایم پی پر 2022 ء میں جنسی حملے کاالزام لگا، استعفی دینا جو پارٹی لیڈرشپ بحران کا باعث تک بنا۔ عمران احمد خان برطانوی ایم پی بد اخلاقی کے الزام میں مستعفی ہوا،قید بھگتنا پڑی۔ایم پی چارلی الفک2020 ء میں دو خواتین سے تعلقات پر عہدے سے گیا اور قید ہوا ، ایم پی نیل پیرش 2022 ء میں پارلیمنٹ میں فحش ویڈیوز دیکھنے کے الزام میں مستعفی ہوا ،فرانس کا وزیربرائے معذورین ایسے ہی الزامات پر بر طرف ہوا۔یہ چند نمونے صرف دو برسوں کا ریکارڈ ہے کہ کس طرح اس بے راہ روی پر مغربی لیڈروں کی سیاست کا جنازہ نکلا، جن معاملات کو ہمارے بزرجمہر ذاتیات قرار دے کر کلین چٹ دے رہے ہیں۔ اخلاقیات اور کردار کو چھوڑ بھی دیا جائے تو ریاستی فیصلہ سازی اور اقتدار اعلی کے حوالے سے جو کچھ سامنے آیا ہے ، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، نہ کرنا چاہئے ۔ ایٹمی ریاست کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وزیرا عظم کی طاقت ماہرین کی آرا پر نہیں بلکہ خوابوں اور توہمات پر بروئے کار آتی تھی۔ وہ بھی اصلی نہیں جعلی اور نام نہاد خواب و روحانی تصرفات۔لکھا گیا ہے کہ وزیرا عظم کے سفر اور ملاقاتوں کے وقت کافیصلہ بھی انہیں توہمات کی بنیاد پر کیا جاتا تھا ۔ وزیر اعظم پر یہ الزام کہ وہ معاملات حکومت چلانے میں جادو ،جنات اور سفلی علوم سے مدد لیتے تھے ، اور وہ بھی جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر۔یہاں تک ڈی جی آئی ایس آئی جیسے حساس اور اہم ترین عہدے پر تقرر وتبادلہ میں بھی یہی وتیرہ رہا،یہ سکیورٹی رسک نہیں تو کیا ہے؟ فیض حمید کی وزیرا عظم کی اہلیہ کے ذریعہ سے حکومتی امور میں مداخلت ، اور اس سے منسلک داستانیں نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست کی فیصلہ سازی کے نظام پر سنگین سوالات کو جنم دے رہی ہیںبلکہ یہ رپورٹ ملک کی جگ ہنسائی اور توہین ہے۔ جریدے کا یہ الزام کہ اسی توہماتی مداخلت کے نتیجے میں فوجی قیادت کے ساتھ وزیر اعظم کے تعلقات بھی ایک مرحلے پر شدید کشیدگی کا شکار ہوگئے ، بعض سینئر اہلکاروں حتی کہ جنرل باجوہ کو بھی شکایات پیدا ہوگئی تھیں ۔بلا شبہ پاکستان میں یہ سب کچھ افواہوں اور سوشل میڈیا کی شکل میں روز اول سے ہی زیر گردش تھا،اسے معمول کی سیاسی مخاصمت سمجھاگیا،لیکن اب ایک عالمی جریدے میں شائع ہوجانے کے بعد یہ معاملہ انتہائی سنگین صورت اختیار کرگیا ہے ۔ پی ٹی آئی چیئر مین کا قانونی کارروائی کا عندیہ درست ہے ، کردار کشی کے حوالے سے برطانیہ کے قوانین بہت سخت ہیں ، ماضی میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خلاف رپورٹس شائع ہونے پر یہی قانونی راستہ اختیار کیا ، مقدمہ دائر کیا ،اور جیتا۔آئی ایس آئی کے ایک سابق افسر نے بھی مفرور یو ٹیوبر کے خلاف مقدمہ کیا اور جیتا ۔ پی ٹی آئی کو بھی اس معاملے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ دی اکانومسٹ سے بذریعہ برطانوی عدالت ثبوت طلب کرے،وہ ثابت نہ کرسکے تو پاکستان کا ایوان اقتدار الزامات سے پاک ہوجائے گا۔ اگر خدانخواستہ یہ سب سچ ثابت ہوگیا تو پھر ملک کوبازیچہ اطفال بنانے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے ، نشان عبرت بنا دیا جائے۔ یہ صرف پی ٹی آئی نہیں ملک کی عزت کا سوال ہے، پی ٹی آئی آگے بڑھے نہ بڑھے حکومت کو ضرور عدالت جانا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں