Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

’’سانجھے‘‘ دکھ

دومنظر نامے ہیں،صرف پاکستان میں نہیں عالمی سطح پر بھی، دونوں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گرد تنظیم لشکر بلوچستان کے سربراہ جاوید مینگل کا بھائی اخترمینگل انگاروں پر لوٹ رہا ہے ، نت نیا پینترا بدلتا ہے ، احتجاج کےنام پر ریاست کو بلیک میل کرنےکی کوشش کرتاہے، ناکام ہوتا ہےاور اس کا ساتھ دینے کےلئے پرانا کھلاڑی محمود اچکزئی میدان میں آتا ہے،جس کی اپنی جماعت تو ایک تانگے کی سواریوں سے چھوٹی ہے، لیکن پی ٹی آئی کی پراکسی ہونے کی وجہ سے دھمکی دیتا ہے کہ میں پورا ملک جام کردوں گا اور اقتدارچھین لوں گا۔گوکہ موصوف کی یہ خوش گمانی ’’دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘‘ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی لیکن پتہ ضرور چلتا ہے کہ آگ کس قدر شدت کی لگی ہے اور دھواں کیوں اٹھ رہا ہے اور اب وکالت کی آڑ میں دہشت گردی کرنے والے ایک کردار کی موت پر باقاعدہ ’’سیاپا‘‘ جارہی ہےاور اس میں کرائے کے ٹٹو ،مامے قدیر کے بھانجے صحافت کی آڑ میں پاکستان دشمنوں کے آلہ کار غداری کے ایوارڈ یافتہ میرجعفر بھی پیش پیش ہیں۔ دوسری جانب کے پی میں جذبات زیادہ مشتعل ہیں، ضلع خیبر میں دہشت گردوں کا اسلحہ ڈپو پھٹنے سے بےگناہ پڑوسی بچوں اور خواتین کی شہادت کو کیش کروانے کے لئے اچانک پی ٹی ایم قبر سے نکلے مردےکی طرح سامنے آجاتی ہے ،اورادھر سے ہی پی ٹی آئی میں جانے والا ایک ایم پی اے ساتھ دیتا ہے، وزیراعلیٰ اعلان تو کرتا ہے کہ مرنے والے تمام24لوگوں کو فی کس ایک کروڑ معاوضہ دیا جائے گا، لیکن اسے تاحال یہ جرات نہیں ہو سکی کہ 10سویلین شہداء کے سوا باقی 14مرداروں کے نام لے کسے، کیونکہ وہ سب دہشت گرد تھے، اس ناکامی پر ایک انتقامی جلسہ ترتیب دیاجاتا ہے،سرکاری وسائل کے بھرپور استعمال کے بعد بھی کامیاب دکھانے کے لئے سوشل میڈیا کی جعل سازی کے محتاج اس جلسے کی ایک ایک تقریر ملک دشمنی اور شرانگیزی پر مشتمل تھی، مرکزی خیال صرف ایک تھاکہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بند کیاجائے، وزیرا علیٰ نے اپنے بھائی بندوں کو صفائیاں پیش کیں کہ تمہارے خلاف آپریشن میں ہم شامل نہیں ،ایک لیڈر نما نے تو یہ تک کہہ کر اپنی شناخت کروادی کہ ’’ افغانستان سے جنگ ہوئی تو ہم افغانستان کے ساتھ ہوں گے۔‘‘ شکریہ کہ سچ اگل دیا ، ویسے سوال تو یہ بھی ہے کہ آپ کو پاکستان کے ساتھ سمجھتا کون ہے؟ یہ ہنگامہ اس قدر شدت کا تھا کہ جس نعرے کی بنیاد پر کارکنوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی تھی وہ بھی پس منظر میں جا پڑا ، یعنی قائدانتشار کی رہائی۔ اسی منظرنامےیا ڈرامے کا تیسرا حصہ کشمیر میں فلمایا جا رہا ہے، جہاں بلوچستان یک جہتی بھارتی وزیر دہشت گردی راج ناتھ کی جانب سے آزاد کشمیر کو پاکستان سے جنگ کے بغیر چھین لینے کی احمقانہ گیدڑ بھبکی کے تناظر میں بلوچستان کی یک جہتی کونسل کی طرز پر ایک اینٹی عوام ایکشن کمیٹی اٹھتی ہے، اور زندگی کا پہیہ جام کرنے کےنعرے کے ساتھ فساد پھیلانے پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ اسی منظرنامے یا ڈرامے کا تسلسل سرحد پار بھی دکھائی دیتا ہےجہاں گودی میڈیا منہ سےکف اڑاتے پاکستان کو گالیاں اوردھمکیاں دینے میں مصروف ہے،جنگ میں ہوئی شکست کا کرکٹ کے میدانوں میں مداوا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ راج ناتھ سنگھ ہو،اجیت دوول یا تیلی پہلوان وزیر خارجہ یشونت سنہا، ان کی زبانیں پاکستان کے خلاف جھوٹ کی بندوق چلانے میں مصروف ہیں ، نت نئی سازشیں تیارہو رہی ہیں ، پاکستان میں فساد کے نئے منصوبے بن رہے ہیں ، چہارسواک ہاہا کار سی مچی ہے، جسیے کوئی آسمان ٹوٹ پڑا ہو ۔
سوشل میڈیا کا باریک بینی سےجائرہ لیں تو یہ دلچسپ حقیقت عیاں ترہو کر سامنے آجاتی ہےکہ پاکستان کے اندر کے فسادی ہوں یا باہر کے بیانیہ سب کا ایک ہے ، نعرے بھی ایک، الزام تراشی بھی ایک، یہاں تک کہ الفاظ کا چنائو اس حد تک ایک ہے کہ اگر ایک نے کسی لفظ کی املاء غلط لکھی تو دوسرے نے بھی اسی طرح استعمال کیا،درست نہیں کیا۔ ثابت یہ ہواکہ ان سب کا دکھ تو’’سانجھا‘‘ہے ہی ،آپریٹنگ اتھارٹی ایک ہی ہے، کہہ سکتے ہیں کہ ایک ہی تھیلی کےچٹے بٹے۔ مزے کی بات یہ کہ اڈیالہ سےاڑیسہ اور تل ابیب تک بپا اس ماتم کا سبب بھی ایک ہی ہے، اور وہ ہے پاکستان ۔ خصوصا آپریشن بنیان مرصوص کے بعد کا پاکستان ۔
یہ دوسرا منظر نامہ ہے ،جو پہلے منظر نامے کا سبب ہے۔ پاکستان فرنٹ سے لیڈ کررہا اور 76 سال میں پہلی مرتبہ ایران بھی پاکستان کے ساتھ ہے اور سعودیہ بھی ،امریکہ بھی خوش اور چین و روس بھی راضی ۔ ایران کی پارلیمنٹ میں ’’تشکر پاکستان کے نعرے‘‘ بھی لگ رہے ہیں اورسعودی عرب کے ’’یوم الوطنی پرتاریخ میں پہلی مرتبہ کسی دوسرے ملک کا پرچم سرکاری اور عوامی سطح پر لہرایا جاتا ہے اور وہ ملک ہےپاکستان، اور سعودی شہری پاکستانیوں کو دیکھ کر نعرے لگارہے ہیں ’’ انا باکستان مافی خوف‘‘۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے ، بھارت سےصف اول کا تجزیہ نگار پراوین ساہنی کہہ رہا ہے کہ ’’ چین اور روس دونوں چاہتے ہیں کہ پاکستان کا کردار صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہ رہے بلکہ بڑھ کر مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور مغربی بحر ہند تک پھیلے۔ یہ کردار پاکستان کی فوجی صلاحیت اور اسٹریٹیجک رسائی کی وجہ سے ممکن ہے، جس کے ذریعے وہ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو وسعت دے سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ روسی صدر پیوٹن نے ایک بڑا بیان دیا ہے کہ پاکستان ایشیا میں روس کا ترجیحی شراکت دار اور افغانستان میں استحکام کا اہم فریق ہے۔‘‘ اسی منظرنامے کا ایک دوسرا پہلو بھی خود دشمن کی زبانی ہی سننے میں مزاہ آئے گا ۔ بھارتی اخبارانڈیا ٹو ڈے لکھتا ہے کہ ’’ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران بھارتی وزیرخارجہ نے کوشش کی کہ وہ اس کی سعودی وزیرخارجہ سے سائڈ لائن ملاقات ممکن ہوجائے ، لیکن سعودیوں نے صاف انکار کردیا ۔‘‘ اخبار کے مطابق یہ انکار ایک غیر معمولی سفارتی واقعہ ہے ، اور اس کی وجہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ ہے ۔ صرف ایک روز قبل ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ اور خامنہ ای کے مشیر میجر جنرل رحیم صفوی نے اپنی فورسز سے خطاب میں کہا کہ ’’ ایران بھی پاک سعودیہ معاہدے میں شامل ہوجائے تو یہ اچھا ہوگا ۔ ‘‘ ادھر قطر، عرب امارات ،آذربائیجان ، ترکیہ سمیت مسلم ممالک کی لائن لگی ہوئی ہے ، جو پاکستان کی قیادت میں اس دفاعی معاہدے کا حصہ بننے کو بے تاب ہیں ۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ پاکستان کی یہ اٹھان ، ترقی اور عالمی سطح پر بڑھتا ہوا کرداروہ ’’سانجھا‘‘ دکھ ہے، جو ان کرداروں کو جینے نہیں دیتا۔

یہ بھی پڑھیں