Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

بامحمدﷺ ہوشیار

تکبر تو ویسے ہی اللہ کو پسند نہیں کہ یہ صرف اسی کی صفت ہے ، متکبر اگر گستاخ اور بدزبان بھی ہو ،اور گستاخی بھی محبوبﷺ خدا کی کرے تو اس کے بدبخت اور برباد ہونےمیں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔ دین اسلام کے تمام قوانین ، ضابطے اور حدود مسلمانوں کے لئے ہیں، خلاف ورزی کا حساب بھی انہی سے ہوگا ، لیکن آقا محمدﷺ کی توہین ایسا آفاقی قانون ہےکہ اس کے لئے مسلمان ہونے کی بھی شرط نہیں ، جو بھی اس بد بختی کا ارتکاب کرے گا، اس کا انجام دنیا دیکھے گی ۔ 7 ہجری آقا محمدﷺ نے تبلیغ دین کی خاطر اس عہد کےحکمرانوں اورسرداروں کو خطوط لکھے ، جن میں شہنشاہ ایران کسریٰ خسرو پرویز بھی شامل تھا ، حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے نامہ مبارک پہنچانے کی سعادت حاصل کی ، اس بدبخت نےنامہ مبارک پڑھوا کر سنا اور پھر اسے تکبر کے ساتھ چاک کردیا ۔ آپ ﷺ نے یہ خبر ملنے پرفرمایا اس کی ریاست بھی اسی طرح سے چاک کردی جائے ۔ چشم فلک نے دیکھا کہ تھوڑے ہی عرصے بعد اسی کے بیٹے شیرویہ نے اپنے باپ کو قتل کرکےقتدار پرقبضہ کرلیا اور فارس ( ایران ) کی ریاست ٹکڑے ٹکڑے ہو کر مسلمانوں کے قبضے میں آگئی ۔ دور حاضر میں مودی کسریٰ کا کردار ادا کر رہا ہے ، اور یقین سے کہا جا سکتا ہےکہ اس کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔ خبر ہےکہ 15ستمبر کو راجستھان کے علاقے بھیلواڑہ میں آقاحضرت محمدﷺ کے گستاخانہ خاکے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 25 مسلم نوجوانوں نے فوجی چھائونی کے سامنے بینر لگایا جس پر “آئی لو محمدﷺ” لکھا ہوا تھا۔ اس پرایف آئی آرہوئی اور 82 لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا ، جس کے رد عمل میں پورے بھارت میں آئی لو محمدﷺ کی مہم چل پڑی ہے اور اعتدال پسند ہندو سکھ اور مسیحی بھی اس میں حصہ لیتے دکھائی دے رہے ہیں ۔
مودی کا المیہ یہ ہےکہ اس کےدورمیں بھارت میں توہین کےواقعات کی سرکاری سرپرستی کی جاتی ہے، مودی سرکار بطور ریاست اس سب کی سر پرستی کی مرتکب ہے ۔ اس وقت پوری دنیا اور خود بھارت کے اندر مودی اور اس کی جماعت کے ساتھ جو ہورہا ہے اور جو ہوتا دکھائی دے رہاہے ، یہ آپریشن بنیان مرصوص کا نتیجہ تو ہے ہی ، لیکن اس کے پس منظر میں مودی کی متکبرانہ گستاخیوں کا بھی عمل دخل ہے ، اور سنت اللہ کو دیکھتے ہوئے یقین سے کہاجاسکتا ہے کہ مودی کی سیاست ہی نہیں ریاست بھی ان گستاخیوں کے نتیجے میں کسریٰ کی ریاست فارس کی طرح نابود ہو کر رہے گی ، جس کا آغاز ہو چکا ہے ۔ ابھی کل کی بات ہے ،پاکستان کے کچھ لوگوں نے انتہائی خوفناک جسارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آقا محمدﷺ کی مسجد کو اپنی گندی سیاست کے لئے استعمال کیا ، نبی اکرمﷺ کے حرم پاک کی توہین کی ، وہ دن اور آج کا دن ذلت ومسکنت اس طرح سے اس ٹولے پر مسلط ہے کہ کسی کو باہر سے کچھ کرنے کہنے کی ضرورت ہی نہیں ، اندر سے ہی ایک دوسرے کے منہ پر کالک پوتنے اور رسوا کرنے کاکام جاری ہے ، یقینااس وقت تک جاری رہے گا ، جب تک یہ متکبر ٹولہ قعر مذلت کی گہرائیوں میں دفن نہیں ہوجاتا ۔ جب میرے رب نے قرآن میں واضح فرمادیا کہ’’میں نے تیرا ذکر بلند کردیا‘‘( الم نشرح ۔4) ،اور دوسری جگہ آپ کے دشمنوں اور گستاخوں کے بارےمیں فیصلہ سنادیا کہ’’ بے شک تمہارا دشمن ہی بے نام ونشان رہے گا‘‘ ۔( کوثر.۔3) تو پھر ممکن ہی نہیں کہ کوئی گستاخی کرے اور سزا نہ پائے۔ اللہ رب العزت ہمیں آقاﷺ کے دامان رحمت سے ہمیشہ وابستہ رہنے کی توفیق فرمائے ۔ حب رسولﷺ اور ادب رسولﷺ کیا ہے ؟ اس حوالہ سے قیام پاکستان سے قبل یا فورا ً بعد کے ایک واقعہ کے حوالہ سے آغا شورش کاشمیری مرحوم کے فسوں خیزقلم سے نکلی ایک تحریر پیش خدمت ہے ۔لاہور کے کسی مشہور ہوٹل کی ایک محفل میں بعض کمیونسٹ نوجوانوں نے، جو بلا کے ذہین تھے، اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ اس وقت تک وہ دو بوتلیں شراب کی چڑھاچکےتھے، پورے بدن پر رعشہ طاری تھا، الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے نکل رہے تھے،لیکن انا کا یہ عالم تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے۔ بات نکلی تو فرمایا: مسلمانوں میں اب تک صرف تین ہی جینئس گزرے ہیں: ابوالفضل، غالب اور ابوالکلام آزاد۔شاعر وہ شاذہی کسی کو مانتے تھے۔ ہمعصر شعرا میں جو واقعی شاعر تھا، اسے بھی اپنے سےکمتر خیال کرتے۔ نوجوانوں نے فیض کانام لیا، تو بات ٹال دی۔ جوش کے بارے میں کہا: وہ ناظم ہے۔ سردار جعفری کا ذکر آیا، مسکرا دیے۔ فراق کا تذکرہ چھیڑا گیا، ہونہہ ہاں کر کے خاموش ہو گئے۔ ساحر لدھیانوی سامنےبیٹھا تھا،فرمایا: مشق کرنےدو۔ ظہیرکاشمیری پر بس اتنا کہا: نام سنا ہے۔ احمد ندیم قاسمی کے بارے میں کہا: میرا شاگرد ہے۔ کمیونسٹوں نے جب دیکھاکہ وہ ترقی پسندتحریک کے بھی منکر ہیں، تو سوال کا رخ موڑ دیا۔ کسی نے افلاطون، سقراط، ارسطو کے بارے میں رائےچاہی۔ شیرانی اس وقت اپنےموڈمیں تھے، فرمانےلگے: پوچھو یہ کہ ہم کون ہیں۔ یہ افلاطون، ارسطو یاسقراط آج ہوتے، تو ہمارے حلقہ میں بیٹھتے۔ ہمیں ان سے کیاکہ ان کےبارے میں رائے دیتے پھریں۔اسی دوران ایک نوجوان نے بڑی دلیری سےسوال کیا: آپ کامحمد ﷺ کےبارے میں کیاخیال ہے؟ :اللہ اللہ! اختر شیرانی ایک شرابی، جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔ کہنے لگے، بدبخت! ایک عاصی سے سوال کرتا ہے۔ ایک سیہ رو سے پوچھتا ہے۔ ایک فاسق سے کیاکہلوانا چاہتا ہے؟تمام جسم کانپ رہا تھا، ایکا ایکی رونا شروع کیا گھگھی بندھ گئی۔ پھر فرمایا بدبخت! تم نےاس حال میں یہ نام کیوں لیا، تمہیں یہ جرات کیسے ہوئی؟ گستاخ، بے ادب! باخدا دیوانہ باش و بامحمد ہوشیار! اس شریر سوال پر توبہ کرو، میں تمہارا خبث باطن سمجھتا ہوں۔ خود قہر و غضب کی تصویر ہوگئے، اس نوجوان کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اس نے بات کو موڑناچاہا مگر اختر کہاں سنتے تھے، اسے مجلس سے اٹھوا دیا، پھر خود اٹھ کر چلے گئے۔ تمام رات روتے رہے، کہتے تھے کہ یہ لوگ اتنے نڈر ہوگئے ہیں کہ ہمارا آخری سہارا بھی ہم سےچھین لینا چاہتے ہیں۔ میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنانا چاہتا ہے۔اور پھر اسی تڑپ میں یہ اشعار پھوٹے:
مسند نشین عالم امکاں تمہیؐ تو ہو
اس انجمن کی شمع فروزاں تمہیؐ تو ہو
صبح ازل سے شام ابد تک ہے جس کا نور
وہ جلوہ زار حسن درخشاں تمہیؐ تو ہو
دنیائے ہست و بود کی زینت تمہیؐ سے ہے
دونوں جہاں کے والی و سلطاں تمہیؐ تو ہو
تم کیا ملے کہ دولت ایماں ملی ہمیں
ایمان کی تو یہ ہے کہ ایماں تمہیؐ تو ہو
دنیا و آخرت کا سہارا تمہاری ذات
دونوں جہاں کے والی و سلطاںؐ تمہی تو ہو
اختر کو بے نوائی دنیا کی فکر کیا
ساماں طراز بے سر و ساماں تمہی تو ہو

یہ بھی پڑھیں