Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

بلب کی روشنی سے بجلی بنانے والا جدید سولر پینل تیار، توانائی کی دنیا میں نئی پیش رفت

بلب کی روشنی سے بجلی بنانے والا سولر پینل توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں گھروں، دفاتر اور اسمارٹ ڈیوائسز کے لیے بجلی کی فراہمی کا نیا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ جدید ٹیکنالوجی نہ صرف سورج کی روشنی بلکہ کمرے کے اندر موجود مصنوعی روشنی سے بھی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات اور بجلی کے بحران کے باعث قابلِ تجدید توانائی پر تحقیق تیزی سے جاری ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں سولر پینلز کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے، تاہم اب سائنسدانوں نے ایک ایسا جدید سولر پینل تیار کیا ہے جو عام بلب، ایل ای ڈی اور دیگر مصنوعی روشنی کے ذرائع سے بھی توانائی حاصل کر سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جدید سولر پینل پیرووسکائٹ نامی جدید مادے سے تیار کیا گیا ہے، جسے توانائی پیدا کرنے کی اعلیٰ صلاحیت کے باعث مستقبل کی اہم ٹیکنالوجی سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مادہ روایتی سلیکون سولر پینلز کے مقابلے میں روشنی کو زیادہ مؤثر انداز میں بجلی میں تبدیل کرتا ہے۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے پیرووسکائٹ میں موجود خامیوں کو ایک جدید کیمیائی طریقے سے دور کیا، جس کے بعد یہ مصنوعی روشنی سے بھی مؤثر انداز میں توانائی پیدا کرنے کے قابل ہو گیا۔ اس کامیابی میں تائیوان کی نیشنل یینگ منگ چیاؤ ٹنگ یونیورسٹی کے محققین نے اہم کردار ادا کیا۔

ماہرین کے مطابق بلب کی روشنی سے بجلی بنانے والا سولر پینل مستقبل میں ریموٹ کنٹرول، اسمارٹ سینسرز، پہننے والی الیکٹرانک ڈیوائسز، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) ڈیوائسز اور دیگر کم توانائی استعمال کرنے والے آلات کو بغیر روایتی بجلی کے مؤثر انداز میں چلانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر یہ ٹیکنالوجی تجارتی بنیادوں پر کامیاب ہو جاتی ہے تو گھروں اور دفاتر کے اندر موجود عام روشنی بھی توانائی کے ایک نئے اور مؤثر ذریعے میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس سے بجلی کی بچت کے ساتھ ماحول دوست توانائی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں