اڈیالہ سے اٹھتا ہو اشور ، بیانوں کی بھرمار ، ٹویٹوں کا طومار یہ بتانے کو کافی ہے کہ قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف فورسز کی کاری ضرب کی درد بہت دور تک محسوس کی جا رہی ہے۔ ایسا نہیں کہ ’’قائد انتشار‘‘اپنے عزائم مخفی رکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں بلکہ معاملہ یہ ہے ، چوٹ اتنی گہری ہے کہ چھپائے نہ بنے ۔ کبھی پیغام آتا ہے کہ ’’ہمارے اپنے لوگوں کے خلاف آپریشن رکوایا جائے ، کبھی کہا جاتا ہے کہ ’’ افغان مہاجروں کی واپسی خطرناک ہوگی ‘‘ ۔ جب سے فورسز نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق فتنہ الخوارج کا صفایا کی مہم شروع کی ہے ، کوئی روز نہیں جاتا کہ دہشت گردوں کی حمائت میں بیان جاری نہ ہوتا ہو ، یہ بیان نہیں ، بلکہ کے پی حکومت کے لئے احکامات ہیں کہ وہ ’’ ان اپنے لوگوں ‘‘ کے خلاف آپریشن رکوائے، یعنی وہ’’ اپنے لوگ ‘‘ جنہیں عام معافی کے’’ فیض عام‘‘ کے تحت جیلوں سے رہا کیا گیا یا افغانستان سے واپس لا کر بسایا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے غیر ملکی سرپرستوں کی حمایت میں ایسی بے چینی کے بعد کوئی محب وطن پاکستانی اس فتنے کے بھنور میں کیسے پھنس سکتا ہے؟یہ کوئی راز نہیں کہ خوارج دہشت گرد معصوم پاکستانیوں کی شہادت کے مجرم ہیں۔ وہ افغان مہاجرین کے بھیس میں سرحد پار سے دراندازی کرتے ہیں، دہشت گردی پھیلاتے ہیں،خون بہاتے ہیں اور پھر فرار ہو کر سرحد کے اس پار جا چھپتے ہیں۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ افغان حکام ان دہشت گردوں کو مہاجرین کے روپ میں پاکستان میں داخلے کی سہولت دیتے ہیں۔ قائد انتشار ان قاتلوں کو “معصوم” قرار دیتے ہوئے ، دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ان کے سہولت کاروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں، کیا توقع کرتے ہیں کہ ہم اپنے فوجیوں اور شہریوں کے قاتلوں کی عزت کریں؟ ریکارڈ گواہ ہے کہ قائد انتشار نےاپنے عہد حکومت میں کسی شہید کے جنازے میں شرکت تک نہیں کی ، اور یہ رسم آج بھی جاری ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی کو بھی شہداء کے جنازوں میں شرکت کی اجازت نہیں ، شائد انہیں خوف ہے کہ ’’اپنے لوگ‘‘ ناراض نہ ہوجائیں ۔
پوری دنیا کا اصول ہے مہاجرین کو جنگ کے بعد ان کے وطن واپس بھیجا جاتا ہے ، صرف ہم نہیں ایران اور دیگر ملک بھی یہی کر رہے ہیں ، فرق صرف یہ ہے کہ کسی اور جگہ کوئی ’’قائد انتشار‘‘ نہیں ہے۔ موصوف کی پرہیشانی اصل میں یہ ہے کہ ان کے جلسہ وجلوس، دھرنوں، ریاست پر حملوں اور فسادات کی اصل فورس یہی مہاجرین تھے ، جب سے ان کی ملکل بدری شروع ہوئی ہے ، احتجاج کا ’’مزہ‘‘ ہی ختم ہوگیا ہے ۔ جہان تک افغان سرزمین پر کیے گئے حملوں کا تعلق ہے تو پاکستان افغانستان سرزمین اور افغان شہریوں کا احترام کرتا ہے یہ حملے عام شہریوں پر نہیں، بلکہ ان خوارج پر تھے جن کے ہاتھ ہزاروں پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہیں۔ ایسی کارروائیوں کی مذمت، دہشت گردی کی حمائت نہیں تو کیا ہے ؟ یہ بات واضح ہے کہ پاکستانی قبائل، عوام، اور حکومت اس فتنے کے خلاف متحد ہیں، انہوں نے ان کے ہاتھوں سے بہت دکھ سہے ہیں ، لاشیں اٹھائی ہیں ، اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔ یہ کوئی سیاسی اختلاف کا کھیل نہیں ، پاک سرزمین پر دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے، ہماری بقاء کی جنگ۔ پاکستان میں سرگرم دہشت گرد افغانستان میں مقیم ہیں، اور ان میں سے کئی افغان شہری بھی ہیں، گزشتہ دو ماہ کے دوران ایسے کم ازکم نصف صد دہشت گردوں کی لاشیں باضابطہ طور پر افغانستان کے حوالے کی گئی ہیں ،ہزاروں قبائلی عمائدین، علماء، اور شہری پہلے ہی ان خوارج کا شکار ہو چکے ہیں۔ ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے تمام شہریوں—خواہ وہ قبائلی ہوں، پنجابی، پشتون، بلوچ، سندھی، کشمیری یا گلگتی، ان کے جان و مال کی حفاظت ہے۔خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کوئی سیاسی اختلاف نہیں، بلکہ قومی سلامتی اور بقا کا معاملہ ہے۔ حکومت باربار وضاحت کر چکی ہے کہ افغانستان ہمارا برادر اور دوست ملک ہے ، اس کےساتھ تعلقات ہماری اولین ترجیح ہے لیکن پاکستان اور افغانستان دونوں کے دشمن دہشت گردوں کو نظر انداز کسی صورت نہیں کیا جا سکتا ۔ قائد انتشار کی حکومت نے ان خوارج جنگجوؤں کو خیبر پختونخوا میں آباد کیا، جس سے وہ اتنے طاقتور ہو گئے کہ انہوں نے تاجروں، ڈاکٹروں، اور سیاستدانوں تک سے کھلے عام بھتہ وصول کیا اور دعویٰ کیا کہ “ہماری ریاست اٹک اور اسلام آباد تک پھیلی ہے۔” جب قائد انتشار اقتدار سے ہٹے، تو ان کے انہی ’’اپنے لوگوں ‘‘ اور بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے ملک بھر میں خون کی ہولی کھیلی ۔سوال یہ ہے کہ قائد انتشار دہشت گردی کے خلاف جنگ روکنے کے لیے اتنا بے چین کیوں ہیں؟
کسے معلوم نہیں کہ 10 مئی کو بھارت کی شکست کے بعد اسے احساس ہوا کہ وہ پاکستان پر براہ راست حملہ نہیں کر سکتا، اس لیے اس نے اپنے پراکسیز—بی ایل اے اور ٹی ٹی پی—کو مالی اور لاجسٹک مدد بڑھا کر پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کی۔ کیا قائد انتشار کا مؤقف یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ خود بھارت کی پراکسی بن کر پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں؟ الزام تو یہ بھی ہے اور عدالتی کارروائی کے ریکارڈ پر ہے کہ بھارتی اور اسرائیلی لابیوں نے قائد انتشار کو اربوں روپے بیرون ملک سے فراہم کیے۔ اکبر ایس بابر طویل عرصے سے یہ الزام دہرارہا ہے ، ثبوت قائد انتشار کے اپنے دور کے ریکارڈز میں موجود ہیں۔
افگان سرزمین دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہونے کا بیانیہ بھی کوئی نیا نہیں ہے ، خود موصوف کے اپنے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے تسلیم کیا تھا کہ افغان سرزمین بھارتی حمایت سے پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ فتنہ انتشار پارٹی کے سرکاری اکاؤنٹ نے 2020 میں انکشاف کیا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے افغانستان میں بھارتی سفارت خانے کے ذریعے ٹی ٹی پی کے کمانڈروں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں لاکھوں ڈالر ادا کیے۔ اگر یہ سب اس وقت سچ تھا، تو اب اسے اچانک “جھوٹا آپریشن” کیسے کہا جا سکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ قائد انتشارکے ذاتی بغض نے انہیں ریاست مخالف بیانیہ اپنانے پر مجبور کیا ہے۔یہ جنگ کوئی افسانہ نہیں، ہزاروں شہدا کی قربانیوں کی نمائندگی کرتی ہے، جن کی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو وطن کے لیے قربان کر دیا۔ قائد انتشار اور ان کی پارٹی تو شہداء کی بھی مجرم ہے کہ 9 مئی کو شہدا کی یادگاروں پر حملہ کیا، قومی عزت کو داغدار کیا، آج بھی یہ لوگ شہداء کا مذاق اڑاتے ہیں۔ قائد انتشار کا تازہ بیان، 9 مئی کی طرح، ہمارے شہدا اور ریاست دونوں کی توہین ہے۔
صحبت صالح ترا صالح کندصحبت طالع ترا طالع کند
کند ہم جنس باہم جنس پرواز،کبوتر با کبوتر، باز با باز