اسلام آباد (رضوان عباسی ) آزاد کشمیر کے عام انتخابات سے قبل ضلع باغ، خصوصاً حلقہ ایل اے 15 وسطی باغ میں سیاسی صورتحال نے نیا رخ اختیار کر لیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما بریگیڈیئر (ر) پروفیسر ڈاکٹر راجہ محمد خان اپنے ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شامل ہو گئے، جبکہ جماعت اسلامی نے انہیں حلقہ وسطی باغ سے اپنا امیدوار بھی نامزد کر دیا۔ دوسری جانب سابق وزیر حکومت راجہ یاسین نے مسلم لیگ (ن) چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے وعدہ خلافی کے الزامات عائد کیے اور جماعت اسلامی کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا کہ بریگیڈیئر (ر) پروفیسر ڈاکٹر راجہ محمد خان کی شمولیت آزاد کشمیر کی سیاست میں مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ باکردار اور باصلاحیت قیادت کی آمد سے جماعت اسلامی مزید مضبوط ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی میرٹ، دیانت اور عوامی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے جبکہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور کرپشن کا خاتمہ جماعت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ لیاقت بلوچ نے عبدالرشید ترابی کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بڑے پن اور استقامت کا مظاہرہ کیا، جبکہ ڈاکٹر مشتاق احمد گزشتہ کئی روز سے راجہ محمد خان کی جماعت میں شمولیت کے لیے کوشاں تھے۔
اس موقع پر بریگیڈیئر (ر) پروفیسر ڈاکٹر راجہ محمد خان نے کہا کہ وہ صرف الیکشن لڑنے کے لیے نہیں بلکہ نظریاتی وابستگی کے تحت جماعت اسلامی میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح میرٹ کی بحالی، شفاف نظام، عوامی حقوق کا تحفظ، نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا اور سفارش و اقربا پروری کے کلچر کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حقیقی جمہوریت، مشاورت اور نظم و ضبط پر یقین رکھتی ہے اور ہر کارکن کو عزت و وقار دیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان ڈاکٹر مشتاق احمد نے راجہ محمد خان کو جماعت اسلامی میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت سے جماعت مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آزاد کشمیر میں بدانتظامی کا جامع جائزہ لے کر متبادل پالیسی مرتب کر رکھی ہے اور اگر عوام نے موقع دیا تو میرٹ، شفافیت اور بہتر طرزِ حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی رکنیت ہر پاکستانی مرد و عورت کے لیے دستور اور آئین کے مطابق کھلی ہے، جبکہ راجہ محمد خان نے واضح کر دیا ہے کہ ان کی شمولیت کا مقصد صرف الیکشن نہیں بلکہ عوامی خدمت اور نظام کی اصلاح ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر حکومت راجہ یاسین نے کہا کہ وعدے پورے نہ ہونے پر انہوں نے مسلم لیگ (ن) چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں انہیں آئندہ ٹکٹ کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم بعد میں فیصلے تبدیل کر دیے گئے۔ راجہ یاسین نے جماعت اسلامی کی عوامی اور فلاحی خدمات کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کے قبیلے کے مینڈیٹ کے مطابق آج سے ان کے تمام کارکن بریگیڈیئر (ر) پروفیسر ڈاکٹر راجہ محمد خان کی حمایت کریں گے۔
جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے سابق امیر عبدالرشید ترابی نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے حلقہ وسطی باغ میں مختلف سیاسی شخصیات سے رابطے جاری تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خود اس مرتبہ الیکشن نہیں لڑیں گے جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوار کے طور پر بریگیڈیئر (ر) پروفیسر ڈاکٹر راجہ محمد خان انتخابی میدان میں اتریں گے۔ انہوں نے کہا کہ راجہ محمد خان کی شمولیت سے جماعت اسلامی کی انتخابی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق حلقہ وسطی باغ میں حالیہ سیاسی پیش رفت، مسلم لیگ (ن) کے اندر اختلافات اور جماعت اسلامی میں اہم شخصیات کی شمولیت نے انتخابی منظرنامے کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے، جس کے اثرات آئندہ انتخابات میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہی

