Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

شادی میں ملنے والے زیورات اور تحائف صرف دلہن کی ملکیت، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

اسلام آباد: دلہن کے زیورات سپریم کورٹ فیصلہ کے تحت عدالتِ عظمیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ شادی کے موقع پر دلہن کو ملنے والے زیورات، سونا، تحائف اور دیگر برائیڈل گفٹس صرف اسی کی ذاتی ملکیت ہیں اور شوہر یا سسرال کو ان پر کسی قسم کا قانونی یا ملکیتی حق حاصل نہیں۔

سپریم کورٹ نے جہیز سے متعلق مقدمے کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ دلہن کو دیے گئے زیورات یا تحائف پر شوہر، ساس، سسر یا دیگر اہلِ خانہ قبضہ نہیں کر سکتے۔ عدالت نے کہا کہ ایسے تحائف روکنا یا ان کا ناجائز استعمال کرنا دلہن کو اس کے قانونی اور ملکیتی حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔

چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے تحریر کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی تحفے کی ملکیت کا تعین اس نیت کی بنیاد پر ہوگا جس مقصد کے لیے وہ تحفہ دیا گیا تھا۔ اگر زیورات یا تحائف دلہن کے لیے دیے گئے ہیں تو ان کی واحد مالک بھی وہی ہوگی۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں مزید واضح کیا کہ اگر کسی خاتون کو اپنے زیورات، جہیز یا ذاتی سامان کی واپسی درکار ہو تو وہ متعلقہ فیملی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔ فیملی کورٹس کو ایسے مقدمات کی سماعت اور متعلقہ سامان کی واپسی کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے۔

سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں سابق شوہر غلام حبیب کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے اس فیصلے کے ذریعے یہ اصول بھی واضح کیا کہ شادی کے موقع پر دیے جانے والے تحائف کے حوالے سے ملکیتی حقوق قانون کے مطابق محفوظ رہیں گے۔

ماہرین قانون کے مطابق دلہن کے زیورات سپریم کورٹ فیصلہ آئندہ ایسے مقدمات میں ایک اہم قانونی نظیر ثابت ہوگا اور خواتین کے ملکیتی حقوق کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں