جھوٹ انتشار ی فتنے کی بنیادی پالیسی ہے، جب وہ اقتدار تھے، قسم اٹھا رکھی تھی جو کہیں گے جھوٹ کہیں گے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہیں گے۔ اب اقتدار چلا گیا، لیکن لچھن نہیں بدلے ۔ الزام تراشی ،بدزبانی، مظلومیت کا ڈرامہ اور کھلم کھلا جھوٹ کے ذریعے سیاسی مخالفین اور ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کی ناکام کوشش کرنا ان کی ہمیشہ سے حکمت عملی رہی ہے ، ہر قانونی کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دے کر بیانیہ گھمایا جاتا ہے ،بلکہ سیاپا کیاجاتا ہے۔ کروڑوں اربوں کی کرپشن کے کھاتے کھل رہے ہیں ، لیکن چور اب بھی ان کے مخالفین ہی ہیں ۔ لیڈر جیل میں دنیا جہان کی سہولیات انجوائے کرر ہا ہے ، یہ پوری دنیا میں دھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ سزائے موت کی چکی میں بند ہے ، پارٹی الیکشن سے لے فارن فنڈنگ ، عدت کیس سے لے کر 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس تک بلکہ 9 مئی کو ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کے مقدمات تک جتنی سہولت اس جماعت کو ملی ماضی میں اس کی مثال ملنا ممکن نہیں ، ہر سال تک مقدمات لٹکانے اور سینکڑوں بار التوا لینے کی سہولت سے نوازا گیا، اب بھی جھوٹ کا طومار ہے کہ ہمیں سنا ہی نہیں گیا حالانکہ عدالتیں ہر ممکن موقع فراہم کر چکی ہیں، لیکن ان کے وکلا تاخیری حربوں کے علاوہ مقدمات کے اصل حقائق کو رد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ صرف قانونی موشگافیوں اور تکنیکی نکات پر انحصار کرتے ہیں۔ جن مقدمات میں انہیں سزا ہوئی، وہاں انہوں نے اپیل کا حق استعمال کیا، اور کئی فیصلے کالعدم قرار پائے یا سزائیں معطل ہوئیں۔ سپرنٹنڈنٹ جیل باربار عدالت میں تصدیق کر چکا ہے جس سے ان کے وکلاء نے کبھی اختلاف نہیں کیا۔ سہولیات اور موصوف کو دی جانے والی خوراک کو دیکھاجائے تو پاکستان کی تاریخ میں کسی بی کلاس قیدی کو ایسی سہولیات کبھی دستیاب نہیں ہو سکیں ،لیکن جھوٹ یہ گھڑا جا رہا ہے کہ وہ قید تنہائی میں ہے ، اور اس کے رابطے منقطع ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس کے رابطے منقطع ہیں اور وہ قید تنہائی میں ہے تو یہ روزانہ میڈیا میں شہہ سرخیاں کہاں سے آتی ہیں ، ہر اہم اشو پر بیانات اور پارٹی فیصلے کہاں سے آرہے ہیں؟ یہ کیسی قید تنہائی ہے ؟ سات کمروں پر مشتمل ایک سیل کمپلیکس اس کے قبضے میں ہے چہل قدمی کے لیے راہداری، ایکسرسائز سائیکل، ٹی وی، اخبارات، اور کتب مہیا کی گئی ہیں۔ وہ حالات حاضرہ سے پوری طرح باخبر ہیں اور اپنی جماعت کو ہدایات دیتے رہتے ہیں۔ ان کا ’ایکس‘ اکاؤنٹ باقاعدگی سے ان کے بیانات شیئر کرتا ہے، قید کے دوران اب تک وہ 413 مرتبہ ٹویٹ کر چکے ہیں۔ 2024 کے عام انتخابات، سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب، 26 نومبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا احتجاج، حکومت سے مذاکرات، 26ویں آئینی ترمیم، 11 جون 2025 کو بجٹ پر تنقید، 14 مئی کو پاک-بھارت جنگ پر تبصرہ، اور 31 دسمبر 2024 کو آئی ایس پی آر کے بیان کو مسترد کرنے جیسے بیانات میڈیا میں سرخیاں بن چکے ہیں۔ گزشتہ 12 ماہ میں ان کے بیانات 45 مرتبہ اخبارات کی شہ سرخی بنے۔
دنیا بھر میں سزا یافتہ قیدیوں کا میڈیا سے رابطہ ختم کردیا جاتا ہے لیکن یہاں حکومت کی کمزوری بلکہ ناکامی ہے کہ وہ جھوٹ کی یلغار سے خوفزدہ ہے۔ جس کی وجہ سے اڈیالہ جیل ایک طرح سے سرکاری خرچ پرحکومت مخالف سرگرمیوں اورحکومت بلکہ ریاست مخالف پارٹی کا ہیڈکوارٹرز بنی ہوئی ہے ، جہاں ملاقاتوں کے نام پر پارٹی اجلاس ہوتے ہیں ، پالیسیاں بنتی ہیں ، سوشل میڈیا مہم چلتی ہےا ور حد تو یہ کہ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویوزتک دیئے جاتے ہیں ۔ سزا یافتہ شخصیت 2024 سے اب تک فاکس نیوز، وال اسٹریٹ جرنل، آئی ٹی وی، رائٹرز، دی ٹیلی گراف سمیت کم از کم 10 بین الاقوامی میڈیا اداروں سے گفتگو کر چکی ہے ۔ الزام پھر بھی یہ کہ وہ قید تنہائی میں ہے ۔ وہ اپنی جماعت کی قیادت میں بار بار ردوبدل کرتے ہیں، کیونکہ پارٹی رہنماؤں کو ان تک تقریباً بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں 66 افراد، جن میں پارٹی رہنما، اہل خانہ، اور وکلا شامل ہیں، ان سے باربارملاقات کرچکے ہیں۔ وہ برطانیہ میں موجود اپنے دو بیٹوں سے بھی رابطہ کرتے ہیں،یہ الگ بات کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق بعض اوقات ان کے بیٹوں نے مصروفیات کا بہانہ بنا کر ان کی کالز موصول کرنے سے انکار کردیا ، مزے کی بات یہ کہ جب بھی ایسا ہوا ، انتشاری سوشل میڈیا نے کہرام مچادیا کہ حکومت ان کی بیٹوں سے بات نہیں کروارہی ، یہاں حکومت کی نالائقی ایک بار پھر اجاگر ہو کر سامنے آتی ہے کہ وہ جھوٹ اور الزامات کے طوفان سے گھبرا کر سچ بھی عوام کے سامنے لانے سے ڈرتی ہے ، ورنہ آج کے جدید دور میں فون سننے سے انکار کا ثبوت فراہم کرنا کون سا مشکل کام ہے۔
اگر کوئی سمجھتا ہے کہ قانون ، عدالت ،حکومتی رٹ اور سب کچھ کو جھوٹ کے طوفان میں اڑا دینا لاابالی لڑکوں کی شرارت یا لاعلمی ہے تو یہ بہت بڑی حماقت کے سوا کچھ نہیں ، کیونکہ سوشل میڈیا کے ذریعہ سے جھوٹ کو اس حد تک پھیلا دینا کہ سچ اپنی حقیقت کے باوجود چھپ جائے ، ایک سوچی سمجھی اور شعوری کوشش ہے کہ قانون، احتساب اور اپنی چوریوں کو سیاسی ڈرامہ بنا کرعوام کا عدالتی نظام پر اعتماد متزلزل کیا جائے۔ جھوٹ اور فتنہ ان کی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے، اور اس سے وہ نہ صرف اپنے سیاسی مخالفین بلکہ ملکی اداروں کو بھی کمزور کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔
المیہ یہ نہیں کہ فتنہ پرور جھوٹ کے ہتھیار سے سچ پر ضرب لگا رہے ہیں ، بلکہ المیہ یہ ہے کہ حکومت سوپیاز اور سو جوتے والے فارمولے میں کو فٹ کرتی دکھائی دے رہی ہے ۔ کیا دنیا میں کہیں مثال مل سکتی ہے؟ کہ کوئی ریاست کے خلاف ملک گیر بغاوت کی سازش کرے اور اس پر عمل بھی کر گزرے اور ریاست اسے موقع دے کہ وہ اپنے جرم کو جھوٹ کے پردے میں نہ صرف چھپانے میں کامیاب ہوجائے بلکہ الٹا مظلوم بھی بن جائے ۔ پاکستان کی تاریخ نہیں دنیا کی تاریخ میں کوئی ایک واقعہ بھی ایسا ہے ؟ کہ حکومت اور ریاست مخالف گروہ کو سہولت دی جائے کہ وہ جیل کو پارٹی ہیڈ کوارٹرز میں بدل ڈالے ۔ یہ صرف کمزوری اور نا لائقی کی حد تک پہنچی ہوئی حکومتی نرمی ہے ، جب آپ جیل کو مجرموں کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی اجازت دیں گے ، ریاستی اداروں اور افواج کے خلاف عین حالت جنگ میں طنز ،تنقید اور دشمن کی زبان میں پروپیگنڈہ کرنےو الوں پر ہاتھ نہیں ڈالیں گے تو اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے ، پھر جھوٹ کے سوداگر ریاست کے خلاف طوفان بدتمیزی بپا کرنے میں آزاد ہوں گے ۔ آخری سوال یہ کہ پیکا کا قانون کس مرض کی دوا ہے ؟ ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹ کا طوفان بپا کرنے والے اسی طرح سوشل میڈیا پر ریاست کا مذاق بناتے رہیں گے اور انہیں کوئی پوچھنےوالا بھی نہ ہوگا،توحکومت خواہ مخواہ پیکا کی رسوائی کا طوق اپنے گلے میں کیوں ڈالے پھر رہی ہے ؟ ختم کرے ، اس کے ہوتے ہوئے بھی گالی بریگیڈ ، جھوٹوں کے لشکروں کو پوری آزادی ہے تو اس کا مصرف کیا ہے؟