Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

اوپن اے آئی کی امریکی حکومت کو 5 فیصد شراکت داری کی پیشکش، اصل مقصد کیا ہے؟

واشنگٹن: اوپن اے آئی امریکی حکومت شراکت داری کی تجویز نے ٹیکنالوجی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی نے امریکی حکومت کو کمپنی میں 5 فیصد حصص دینے کی پیشکش کی ہے تاکہ اے آئی سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد عوام تک براہِ راست پہنچائے جا سکیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ سرمایہ کاری کے بعد اوپن اے آئی کی مجموعی مالیت تقریباً 852 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اس حساب سے کمپنی کے 5 فیصد حصص کی مالیت تقریباً 42.6 ارب ڈالر بنتی ہے، جسے حالیہ برسوں کی اہم ترین کاروباری تجاویز میں شمار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین نے تجویز دی ہے کہ الاسکا پرمیننٹ فنڈ کی طرز پر ایک عوامی ویلتھ فنڈ قائم کیا جائے، جہاں مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کو امریکی شہریوں تک منتقل کرنے کا نظام بنایا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ روزگار، قومی سلامتی اور ریگولیٹری نگرانی سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں اوپن اے آئی امریکی حکومت شراکت داری کی تجویز کو حکومت اور نجی شعبے کے درمیان اعتماد مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مصنوعی ذہانت کی صنعت کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں اور اس ٹیکنالوجی کے فوائد عام شہریوں تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی حکومت ماضی میں بھی نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر چکی ہے۔ مثال کے طور پر انٹیل میں حکومتی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، تاہم اوپن اے آئی کے معاملے میں کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس تجویز پر تاحال ابتدائی سطح پر بات چیت جاری ہے اور ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں