Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

ٹک ٹاک لائیو پر بوسہ مہنگا پڑ گیا، انڈونیشیا میں غیر شادی شدہ جوڑے کو سرعام کوڑے

بانڈا آچے: انڈونیشیا ٹک ٹاک جوڑا ایک وائرل لائیو ویڈیو کے باعث سخت قانونی کارروائی کی زد میں آ گیا، جہاں غیر شادی شدہ نوجوان اور خاتون کو سرعام کوڑوں کی سزا دے دی گئی۔ یہ واقعہ صوبہ آچے میں پیش آیا، جہاں شرعی قوانین نافذ ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 27 فروری 2026 کو ایک 22 سالہ نوجوان اور 25 سالہ خاتون نے گاڑی میں بیٹھ کر ٹک ٹاک لائیو کی، جس دوران دونوں کو بوسہ لیتے دیکھا گیا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی تو شہریوں نے شریعہ پولیس سے شکایت کر دی، جس کے بعد اپریل میں دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

عدالتی کارروائی کے دوران ٹک ٹاک لائیو میں استعمال ہونے والا موبائل فون اور یو ایس بی فلیش ڈرائیو بطور ثبوت عدالت میں پیش کیے گئے۔ عدالت نے دونوں اشیا ضبط کرنے کے ساتھ انہیں تلف کرنے کا بھی حکم دیا۔

شرعی عدالت نے ابتدائی طور پر دونوں افراد کو 25، 25 کوڑوں کی سزا سنائی تھی، تاہم تقریباً چار ماہ قید میں گزارنے کے باعث سزا کم کرکے 21 کوڑے فی کس کر دی گئی۔ بعد ازاں انڈونیشیا ٹک ٹاک جوڑا کو صوبائی دارالحکومت بانڈا آچے کے بستان السلام سٹی پارک میں عوام کے سامنے سزا دی گئی، جہاں نقاب پوش اہلکاروں نے بانس نما چھڑی سے کوڑے مارے۔

اسی روز مزید چار افراد کو بھی آن لائن جوا کھیلنے اور زنا سے متعلق مقدمات میں سرعام سزا دی گئی۔

آچے انڈونیشیا کا واحد صوبہ ہے جہاں اسلامی شرعی قوانین نافذ ہیں۔ 2006 کے امن معاہدے کے بعد اس صوبے کو خصوصی آئینی اختیارات دیے گئے تھے، جبکہ 2015 میں ان قوانین کا اطلاق غیر مسلم شہریوں تک بھی بڑھا دیا گیا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈونیشیا نے اس سزا پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سماجی رویوں پر اس نوعیت کی سخت سزائیں غیر متناسب اور ناقابلِ قبول ہیں۔

یہ بھی پڑھیں