حقیقت کھل رہی ہے اور پاکستان کے دشمن ایک ایک کرکے سامنے آتے جا رہے ہیں ، پوری دنیا پر آشکار ہو چکا کہ بلوچستان میں دہشت گردی بھارت اور اسرائیل کا مشترکہ اثاثہ ہے ، انڈیا کی مانگ کا سندور بکھرنے کے بعد بلوچستان میں درندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان کی پراکسی بی وائی سی ایک بار مظلومیت کا جعلی نقاب اوڑھے اسلام آباد میں دھرنے کا ڈرامہ کر رہی ہے۔بلوچستان کے دشمن دہشت گردوں کی فرنٹ آرگنائزیشن کا یہ دھرنا ایک طرح سے ریاست کے فائدے میں بھی ہے ، اور شائد اسی وجہ سے ان کے خلاف کوئی بڑا ایکشن نہیں لیا جا رہا کہ اس کے ذریعہ سے چھپے ہوئے ملک دشمن اور دہشت گردوں کے حامی چہرے بے نقاب ہوتے ہیں ، اگر ریاست بتائے کہ فلاں فلا دہشت گردوں کا سہولت کار ہے تو شائد ابہام رہے ، لیکن اس دھرنے کی بدولت ملک دشمن دہشت گردوں کے سہولت کار ایک ایک کرکے بے نقاب ہو رہے ہیں ۔ مذہبی سیاسی کے تقدس میں چھپے’’ گرگ بارہ دیدہ‘‘ ،صحافت کے لباس میں چھپے گدھ اور وکالت کا کالا کوٹ پہنے بعض چمگاڈریں ایک ایک کرکے اپنا تعارف کر وارہی ہیں ۔ جن خوش گمان لوگوں کے خیال میں فتنہ انتشار کو ملک دشمنی کا الزام سیاسی الزام تراشی ہے ، ان کا شبہ بھی دور ہوگیا ہوگا کہ وطن فروشوں کے اس دھرنے کو کھانا پہنچانے کی ذمہ داری کا اعتراف فتنہ انتشار خود کر رہا ہے ۔
دہشت رگدی کے سہولت کاروں اسلام آباد میں یہ را کا سپانسرڈ دھرنادر اصل اس بات کی علامت ہے کہ دشمن بلوچستان میں بھی اپنی جنگ ہار رہا ہے ، اب وہ اپنے تمام چیلے چانٹے جمع کرکے ،مظلومیت کا رڈ کھیلنے کی کوشش میں ہے ، لیکن اس بار وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے گا ، کسی قیمت پر نہیں اور یقینا ً نہیں ۔ اس بار صورتحال مختلف ہے — ریاست تیار ہے، عوام باخبر ہیں، اور دشمن بے نقاب ہو چکا ہے۔ اب ییہ کوئی راز نہیں رہا کہ بھارت نے آپریشن سندور میں اپنی ناکامی کا بدلہ بلوچستان سے لینے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ مودی حکومت کی جنگی جنونیت اب اپنی جنگ دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی (BLA)، بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF)، اور دیگر چھوٹے گروہ جو کبھی محدود علاقوں میں سرگرم تھے، اب را (RAW) اور موساد کی مالی و عسکری معاونت سے بلوچستان میں تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔خضدار میں اسکول وین پر حملہ، قلات میں مزدوروں کا قتل، نوشکی میں ترقیاتی منصوبوں کی تباہی، اور پنجگور میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا — یہ سب ایک منظم بھارتی پالیسی کا حصہ ہے۔ مقصد صرف دہشت نہیں بلکہ ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانا، مقامی آبادی میں خوف پھیلانا، اور عالمی میڈیا کو پاکستان کے خلاف مواد دینا ہے۔تاہم بھارت کی یہ سازش اب ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔ بلوچستان کے عوام ان گروہوں کی اصلیت جان چکے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ علیحدگی پسند ان کے ہمدرد نہیں، بلکہ بیرونی طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔ آج کا بلوچ نوجوان تعلیم، روزگار اور ترقی چاہتا ہے — وہ بندوق نہیں، قلم کو ترجیح دیتا ہے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسے گروہوں کا چپرہ بھی بے نقاب ہو چکا ہے ۔ ان کے اسلام آباد دھرنے کو بلوچستان میں عوامی پذیرائی نہیں ملی،کیونکہ عوام جانتے ہیں کہ یہ پراکسی کبھی خضدار میں شہید ہونے والے بچوں کے لیے نہیں بولی، کیچ، دالبندین یا تربت میں قتل ہونے والے مزدوروں کے لیے آواز نہیں اٹھاتی ۔ ان کا احتجاج صرف تب ہوتا ہے جب ریاست دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ لاپتہ افراد کے بیانیے نے بھی اپنا اثر کھو دیا ہے۔ عوام سوال کر رہے ہیں کہ اگر یہ افراد واقعی بے گناہ ہیں تو وہ دہشت گردوں کے کیمپوں میں کیا کر رہے ہیں؟ جب ان میں سے کچھ کی لاشیں ریاست کے خلاف لڑتے ہوئے ملتی ہیں، تو یہ تنظیمیں خاموش کیوں ہو جاتی ہیں؟ آج عوام جان چکے ہیں کہ یہ صرف دہشت گردوں کے لیے وقت خریدنے اور عالمی دباؤ بڑھانے کا حربہ ہے، جس میں تمام سہولت کار اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ پاکستانی ریاست، خصوصاً عسکری ادارے، اب واضح حکمت عملی کے ساتھ بلوچستان میں آپریشن کر رہے ہیں۔ نوشکی آپریشن ایک کامیاب مثال ہے جس میں درجنوں دہشت گردوں کو ختم کیا گیا۔ سیکیورٹی ادارے اب ہر اس گروہ کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ’’فتنۂ ہندستان‘‘ کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ خواہ وہ پہاڑوں میں چھپا ہو یا شہروں میں — ریاست کا پیغام واضح ہے: اب دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں بچے گی۔
ریاست یہ سمجھتی ہے کہ بلوچستان کی ترقی اور امن کے لیے صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ ریاست کو معاشی، تعلیمی، اور سماجی ترقی کے منصوبے بھی تیز کرنے ہوں گے۔ خوش قسمتی سے، سی پیک، گوادر بندرگاہ، اور دیگر منصوبے اب تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں سڑکیں، اسکول، اسپتال، اور ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ بلوچ عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دشمن کے ایجنڈے کو مسترد کر چکے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ریاست ان کی محرومیوں کا مداوا کرے، انہیں روزگار دے، تعلیم دے، صحت کی سہولیات فراہم کرے، اور ان کے بچوں کو ایک محفوظ مستقبل دے۔اس ضمن میں حکومت کو بھی سنجیدگی دکھانا ہو گی۔ محض دعوؤں سے کام نہیں چلے گا۔ عملی اقدامات، شفافیت، میرٹ، اور مقامی قیادت کو بااختیار بنانا ہوگا۔ ان پر بھروسا کرنا پڑے گا۔ ان کے اعتماد کو جیتنا پڑے گا۔
دوسری طرف دشمن کی چالیں مسلسل ناکام ہو رہی ہیں۔ عالمی سطح پر بھی بھارت کے چہرے سے نقاب اتر رہا ہے۔ پاکستان کے ڈوزیئر، سیکیورٹی رپورٹس اور میڈیا بریفنگز نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔ یورپی یونین، اقوام متحدہ، اور دیگر بین الاقوامی ادارے اب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے، اور بھارت اس کا مجرم۔اب وقت آ چکا ہے کہ ہم بحیثیت قوم متحد ہوں۔ بلوچستان کو ملک کا کمزور حصہ سمجھنے کے بجائے اسے پاکستان کی طاقت بنائیں۔ بلوچستان صرف وسائل کا خزانہ نہیں بلکہ پاکستان کا فخر ہے۔ اس کے پہاڑ، میدان، بندرگاہیں، اور سب سے بڑھ کر اس کے وفادار لوگ — یہ سب ہمارے لیے اثاثہ ہیں۔آج کا پیغام واضح ہے: بلوچستان میں بھارت کی پراکسی جنگ ناکام ہو چکی ہے۔ بلوچ عوام جاگ چکے ہیں۔ ریاست پرعزم ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اس اتحاد، عزم اور قربانی کو برقرار رکھیں اور دشمن کو ہمیشہ کے لیے شکست دیں۔