حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک لہر اٹھی ہے جس میں ڈاکٹر محمد عثمان قاضی عرف امیر کو ایک معزز تعلیمی شخصیت اور دانشور کے طور پر پیش کیاجارہاہے اورکہا جا رہا ہے کہ وہ ریاستی جبرکا شکار ہے ، جبکہ حقائق اس کے بر عکس ہیں اور مقدس دانش گاہوں کو دہشت گردی کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے والا وہ مکروہ کردار ہے ، جو گزشتہ 5 برس سے استاد کی آڑ میں کالعدم تنظیم بی ایل اے اور اس کے خودکش ونگ، مجید بریگیڈ کے کلیدی کارندہ اور ہینڈلر (ذمہ دار) تھا۔اس درندہ صفت نے BUITEMS یونیورسٹی کے پلیٹ فارم کو نوجوان طلبہ کو انتہاپسندی اوردہشت گردی کی طرف مائل کرنے اور بھرتی کرنے کے لیے استعمال کیا۔ جس کلاس روم سے یہ تعلیم دینے کی تنخواہ پاتا تھا ،حرام خوری کرتے ہوئے ، اسی مقدس درس گاہ کو انسانیت دشمنی ا ور دہشت گردی کے مکروہ نظریات پھیلانے کے لیے استعمال کرتا رہا۔ معاملہ صرف یہی نہیں کہ یہ حرامخور تعلیمی ادارے کو دہشت گردی کے لئےاستعمال کرتا تھا بلکہ اس کی اوقات یہ ہے کہ اس نے پوری تعلیمی زندگی ریاست کے خرچ پرگزاری ، یہ پاکستان سٹڈیز کا لیکچرار تھا، قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے اس نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ اس کی بیوی بھی گریڈ 17 کی سرکاری ملازم ہے ، یعنی پورا خاندان مکمل طور پر ریاستی سہولتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے دوسری جانب ریاست کے ٹکڑوں پر پلنے والا یہ سانپ ریاست کو ہی ڈستا رہا ۔ اس نے ریاست سے ہی نہیں اپنے پیشے سے اور انسانیت سے بھی غداری کی۔ صرف خود ہی دہشت گردوں کا ہمنوا نہیں بنا بلکہ بے گناہ شہریوں کے خلاف دہشت گردی ، میں سہولت کار بنا ، حملوں میں ساتھ دیا ، ایسے انسانیت دشمن نیٹ ورکس کی پشت پناہی کرتے ہوئے ان دہشت گردوں کو تعلیمی اداروں میں پناہ دیتا رہا ۔
اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے ، بلکہ یہ خود تسلیم کر چکا ہے کہ وہ بی ایل اے کمانڈرز بشیر زیب، رحمان گل اور ڈاکٹر ہیبتان بلوچ کے احکامات پر کام کرتا رہا۔ اس نے دہشت گرد بابر رفیق کو 9 نومبر 2024 کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش حملے کے لیے بھیجا جس میں 32 عام شہری اور 22 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 55 سے زائد زخمی ہوئے۔وہ 14 اگست 2025 کو کوئٹہ میں ایک اور حملے کی تیاری کر رہا تھاجس کے لئے اس نےدہشت گرد شیر دل عرف بہاؤالدین مری کو پناہ دی اور اسے فورسز کی کارروائیوں سے بچانے کی کوشش کی ۔ دہشت گرد سلیپر سیل کے طور پر کام کرنے والا یہ انسانیت دشمن پکڑا گیا ہے تو اب بھارت سے آپریٹ ہونے والا بی ایل اے کا سوشل میڈیا اسے عوام کی ننام نہاد فکری آوازکے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ یہ نہ تو کوئی غلط فہمی ہے اور نہ ہی کسی اور کی شناخت کو اس کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ بلکہ یہ بیانیہ کی جنگ ہے تاکہ ایک دہشت گرد کو علمی لبادہ پہنا کر بچایا جا سکے۔سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص جس نے مکمل طور پر ریاستی وظائف، اسکالرشپس اور سرکاری ملازمت سے فائدہ اٹھایا ہو، پھر بھی دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو سہولت دیتا ہے تو ایسے شخص کو مظلوم یا دانشور کے طور پر کیسے پیش کیا جا سکتا ہے؟جبکہ اس کی دہشت گردی کے ثبوت موجود ہیں اور وہ خود اقبال جرم بھی کر رہا ہے ۔ بعض بکائو صحافی مخصوص ایجنڈے اور غیر ملکی راتب کی وجہ سے ایسے دہشت گردوں کے حق میں رائے عامہ ہموار کرکے ، نہ صرف دہشت گردی کو ہوا دیتے ہیں ، بلکہ ریاست، قوم اور انسانیت کے خلاف غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔
سوال یہاں ریاست سے بھی ہے کہ اسلام آباد اور کراچی کے تعلیمی اداروں کو پہلے بھی بلوچستان کے دشمن دہشت گرد اپنی آماجگاہ کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں ، کراچی میں خود کش حملہ کرنے والی شاری بلوچ اور بلوچستان میں فورسز کے خلاف جھڑپوں میں مارے جانے والے دہشت گرد شاہ داد بلوچ،احسان اور آفتاب بلوچ اس کی مثال ہیں ، دوسری جانب اسلام آباد کے قلب میں روزانہ احتجاج کے نام پر بی وائی سی کی ڈرامہ بازی کے سارے کردار قائد اعظم یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں ، جب یہ سب کچھ میڈیا پر موجود ہے تو حکومت کیا کر رہی ہے ، وہ دہشت گردی کی ان نرسریوں کا خاتمہ کیوں نہیں کرتی؟ ان تعلیمی اداروں میں جہاں قوم اپنے بچوں کو بہتر مستقبل اور باشعور زندگی کے لئے اپنی جیب سے بھاری فیسیں دے کر بھیجتی ہے ۔ وہاں اس طرح کے دہشت گردوں کو انہیں ورغلانے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے؟ کیا ہمیں معلوم نہیں کہ سقوط مشرقی پاکستان کے موقع پر بھی بھارت نے ڈھاکہ یونیورسٹی کو استعمال کیا تھا ۔ ہم باربار ایک ہی سوراخ سے کیوں ڈسے جا رہے ہیں ؟
ہر ذی شعور سوال کرنے پر مجبور ہے کہ جب پوری قوم جانتی ہے کہ بی وائی سی دہشت گردوں کی سرپرست ہے ،تو اس کی مٹھی بھر دہشت گرد خواتین کو اسلام آباد میں بیٹھ کر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بننے کی اجازت کیوں دی جارہی ہے؟ لوگ نام جانتے ہیں ، کردار جانتے ہیں کہ کون کون راتب خور میر جعفر کی اولاد ہے جو پاکستان دشمنوں کے ٹکڑوں پر پلتا اور دہشت گردوں کی آواز بنتا ہے تو ایسے کرداروں کا محاسبہ کیوں نہیں جاتا ؟ رکاوٹ کیا ہے ۔ بات بہت سیدھی اور صاف ہے کہ ریاست کو ہارڈ ریاست بننا ہوگا ، دہشت گردی کے ہر اڈے ، ٹھکانے اور پناہ گاہ کو نیست ونابود کرناہوگا ، ہر سہولت کار ، ہر حمائتی اور ساتھی کو انجام تک پہنچانا ہوگا ، یہ پیکا ایکٹ اور دیگر قوانین کیا حکومت نے صرف اپوزیشن اور نام نہاد انسانیت دشمن تنظیموں کو تنقید کاجواز فراہم کرنے کے لئےبنائے ہیں ؟