سوشل میڈیا اب اظہار کا پلیٹ فارم نہیں رہا، یہ ایک میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ یہاں الفاظ ہتھیار ہیں، ویڈیوز گولیاں اور جھوٹ بارود۔ ریاستوں کو گرانے کے لیے اب ٹینکوں کی ضرورت نہیں، ٹرینڈز کافی ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل دہشت گردی اور فیک نیوز آج دشمن کا سب سے مؤثر ہتھیار ہیں۔ اس کا مقصد حکومت گرانا نہیں بلکہ نظام توڑنا ہے۔ اداروں کو غیر معتبر بنانا، عدالتوں کو مشکوک ثابت کرنا، فوج کو متنازع بنانا اور ریاست کو ظالم دکھانا۔ یہی جدید دور کی بغاوت ہے۔یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں، عرب سپرنگ اس کا پہلا میدان تھا ، جب سی آئی اے نے صررف فیس بک کے ذریعے پوری عرب دنیا کو زیر وزبر کرکے رکھ دیا ،شام سے اٹھتے ہوئے خانہ جنگی کے شعلے ، اس ہتھیار کی غارت گری کی گواہی ہے ۔ جو سمجھتے ہیں کہ یہ سب یہاں کسی سیاسی انتقام یا جبر کا نتیجہ ہے، وہ لاعلم ہیں یا دانستہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ برطانیہ اس کی واضح مثال ہے، جولائی، اگست 2024 میں ساؤتھ پورٹ میں تین بچیوں کے قتل کے بعد چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر یہ جھوٹ پھیلا دیا گیا کہ حملہ آور ایک پناہ گزین اور اسلام پسند تھا، دیکھتے ہی دیکھتے فسادات کے شعلے امن کو نگل گئے ،مساجد جلیں، پولیس پر حملے ہوئے، تارکین وطن کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا، دکانیں توڑی گئیں، یہ سب فیک نیوز کا نتیجہ تھا، کسی پالیسی کا نہیں۔ ریاست سیدھی کھڑی ہوئی، عدالتوں نے ڈبل شفٹ میں کام کیا، سینکڑوں مقدمات سنے گئے، فوری سزائیں ہوئیں، کم عمر بچے بھی پکڑے گئے، بوڑھے بھی زد میں آئے، کسی کو رعایت نہیں ملی، جس کا ذرا سا تعلق ثابت ہوا، قانون کی گرفت سے بچ نہ پایا ، پیغام واضح تھاکہ معاشرے میں فساد پھیلانے والوں کے لیے کوئی استثنا نہیں۔یہی نہیں، برطانیہ نے فیک نیوز کی جڑ بھی کاٹی، ان نیٹ ورکس تک پہنچا جنہوں نے یہ جھوٹ گھڑا اورپھیلایا، بعض عناصر پاکستان سے آپریٹ کر رہے تھے، انہیں یہاں سے گرفتارکرکے پاکستان نے ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا ۔ وہاں کسی نے یہ نہیں کہا کہ آزادیِ اظہار خطرے میں ہے، کسی این جی او کو انسانی حقوق یاد نہیں آئے، کسی میڈیا گروپ نے بلوائیوں کو مظلوم بنا کر پیش نہیں کیا، کسی نے شور نہیں مچایا کہ یہ صحافت پر حملہ ہے۔ سب جانتے تھے کہ یہ جرم ہے اور مجرم بچنا نہیں چاہئے ۔
اب پاکستان کی طرف آئیں۔ یہاں 2022 سے ایک منظم ڈیجیٹل دہشت گردی جاری ہے ہے۔ تحریک انتشار کے سوشل میڈیا اکائونٹس ، بیرون ملک بیٹھے یوٹیوبرز اور خود ساختہ کارکن مل کر ایک ایسا نیٹ ورک بنا چکے ہیں جس کا واحد مقصد انتشار اور فساد ہے۔پہلے ایک جھوٹ کا بلبلہ کسی ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ابھرتا ہے ، پھر اسے ٹرینٖ بنایا جاتا ہے ، یوٹیوب پر سنسنی پھیلائی جاتی ہے ،سازشیں جوڑی جاتی ہیں، فوج کو غدار کہا جاتا ہے، لوگوں کو مارنے کا بیانیہ گھڑا جاتا ہے اور آوارہ کتوں کے گول کی طرح سینکڑوں اکاؤنٹس پر سیاپا شروع کردیا جاتا ہے ، نہ کوئی ثبوت نہ دلیل م صاف جھوٹ سچ بنا کر پیش کرنے کی کوشش ۔ پھر اصرار کہ اس کھلی اشتعال انگیزی کو تنقید مانو اور برداشت کرو ۔کیوں ؟
کبھی عدالتی کارروائیوں کو سیاسی جبر بنا کر پیش کرتے ہیں ، ججوں کو قاتل اور تفتیشی افسروں کو جلاد کہا جاتا ہے،ریاستی اداروں کو دشمن ثابت کرتے ہیں۔ یہ آزادیِ اظہار کے نام پر ڈیجیٹل دہشت گردی ہے۔پاکستانی عدالتوں میں 2022 سے 2025 تک درجنوں کیسز میں یہ بات ریکارڈ پر لائی گئی کہ ججوں، فوجی افسروں اور تفتیشی اہلکاروں پر قتل، تشدد، غداری اور خفیہ پھانسیوں کے الزامات بغیر کسی ثبوت کے لگائے گئے۔ انسداد دہشت گردی عدالتوں نے صاف طور پر اس طرز عمل کو اشتعال انگیزی قرار دیا ، اسی بنیاد پرمقدمات چلے اور سزائیں ہوئیں ۔عادل راجہ کا کیس اس کی کھلی مثال ہے،سابق فوجی افسر، یوٹیوبر، اور ڈیجیٹل انتشار کا بڑا چہرہ۔ نہ صرف جھوٹ پھیلایا بلکہ لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کی، جرائم اتنے سنگین تھے کہ لندن ہائی کورٹ نے بھی انہیں برداشت نہیں کیا، اکتوبر 2025 میں فیصلہ دیا کہ اس نے ریٹائرڈ بریگیڈیئر پر جھوٹے الزامات لگائے، فوج میں بغاوت کو ہوا دی اور ہتک عزت کی، بھاری جرمانہ ہوا۔ یہ فیصلہ ایک پیغام تھا کہ مغرب میں بھی فیک نیوز آزادی نہیں ہے۔
المیہ یہ ہے کہ تعلیم، آگہیاور تفریح کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اس فتنہ انتشار نے مکروہ کھیل کا میدان بنا ڈلا ،جہاں جھوٹ بکتا ہے،سنسنی راج کرتی ہے، جتنا زیادہ جھوٹ، اتنے زیادہ ویوز۔ جتنا زیادہ انتشار، اتنی زیادہ کمائی۔ یہ سیاسی سرگرمی نہیں، یہ کاروبار ہے ، دہشت گردی ، انتشار اور خون ریزی کا کاروبار، اور جب کاروبار خطرے میں پڑتا ہے تو شور مچاتے ہیں کہ آزادی خطرے میں ہے۔مرزا شہزاد اکبر کا کیس بھی یہی بتاتا ہے، وہ کوئی عام تبصرہ نگار نہیں،کرپشن کے مقدمے کا مرکزی ملزم اور مفرور ہے،جسے آن لائن انہیں مظلوم بنا کر پیش کیا جاتا ہے، یہ عدالتی عمل کو پروپیگنڈے سے شکست دینے کی سازش کے سوا کچھ نہیں ۔قائد انتشار کے مقدمات کو بھی ایسے ہی فساد پھیلانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ،یہ نہیں بتایا جاتا کہ انہیں ضمانت ملی، کہیں بری ہوئے، کہیں کارروائی معطل ہوئی، بس یہ کہا جاتا ہے کہ ظلم ہو رہا ہے،مقصد انصاف نہیں، نظام کو مشکوک بنانا ہے۔معید پیرزادہ کی سزا بھی یہی کہانی سناتی ہے، برسوں سمن نظرانداز کیے، عدالت میں نہیں آئے، اشتعال انگیز مواد پھیلایا،بالآخر سزا ہوئی، پھر شور مچا کہ صحافت خطرے میں ہے۔ نہیں،قانون خطرے میں تھا، اسے بچایا گیا ۔ مشکوک نیوز ویب سائٹس بنا کر جب “قتل عام” کے دعوے چھاپتے ہیں اور نہ نام دیتے ہیں، نہ ثبوت، نہ گواہ، تو یہ صحافت نہیں، فساد ہے،مہم جوئی ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا انحصار بھی انہی یوٹیوبرز پر ہوتا ہے جو خود ملزم ہیں۔ یہ ایک بند دائرہ ہے۔ جھوٹ گھومتا ہے، پھیلتا ہے، اور پھر خود کو سچ کہلوانے لگتا ہے۔
یہاں فرق سمجھنا ضروری ہے۔ برطانیہ میں جب فیک نیوز سے فسادات ہوئے تو ریاست نے بے رحمی سے قانون نافذ کیا۔ بچوں کو نہیں چھوڑا، بوڑھوں کو نہیں چھوڑا، کسی کو رعایت نہیں دی۔ کسی این جی او نے احتجاج نہیں کیا۔ کسی میڈیا نے ہمدردی نہیں دکھائی۔ سب جانتے تھے کہ یہ جرم ہے۔پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ یہاں “فتنہ انتشار” کے نام سے ایک پوری نسل تیار کی جا چکی ہے۔ ان کی سیاست، ان کی روزی، ان کی شناخت سب جھوٹ پر کھڑی ہے۔ ان کے لیے فیک نیوز آکسیجن ہے۔ اگر جھوٹ بند ہو جائے تو یہ ختم ہو جائیں۔ اسی لیے یہ سب سے زیادہ شور مچاتے ہیں۔گزشتہ دنوں ان میں سے بعض کو سزائیں ہوئی ہیں۔ یہ ایک آغاز ہے، اختتام نہیں۔ جس طرح پاکستان نے برطانیہ کے کہنے پرمجرم پکڑا اور حوالے کیا، اسی طرح اب لازم ہے کہ باہر بیٹھے ابلاغی دہشت گردوں کو واپس لایا جائے، حوالگی کرائی جائے، مقدمات چلیں، قانون کی گرفت میں آئیں۔یہ کوسیاست نہیں، ریاست اور انتشار کے درمیان جنگ ہے۔ یہ سچ اور جھوٹ کے درمیان کشمکش ہے،یہ قانون اور ہجوم کے درمیان جنگ ہے۔اگر ریاست یہاں کمزور پڑی تو یہ لوگ کل عدالتیں جلائیں گے، پرسوں تھانے، پھر اسمبلیاں۔ یہ وہ راستہ ہے جو برطانیہ نے وقت پر روکا۔ ہمیں بھی روکنا ہوگا۔ قانون کی بالادستی لازم ہے۔ ورنہ یہ ڈیجیٹل دہشت گردی ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔یہ جنگ ہے،خاموش جنگ۔ اس میں ہتھیار الفاظ ہیں، مگر لاشیں سڑکوں پر گرتی ہیں۔ اس کا مقابلہ صرف ایک چیز سے ہو سکتا ہے،صرف قانون، بے رحم، غیر جانبدار اور بلا امتیازنفاذ۔برطانیہ نے یہ کر کے دکھایا،اب پاکستان کی باری ہے۔