Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

چاہ بہار ، طالبان کا ادھورا خواب

افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے بڑے اہتمام سے ایک تصویر جاری کی گئی ہے ، جس میں  بھارت کے لیے افغان طالبان کے پہلے ناظم الامور نور احمد نور کو نئی دہلی کے جوائنٹ سیکریٹری برائے پاکستان، افغانستان اور ایران کے ساتھ کھڑا دکھایا گیا۔یہ محض ایک سفارتی لمحہ نہیں بلکہ اس تصویر کے پیچھے موجود خاموشی دراصل ایک بلند آہنگ اعلان ہے ، مستقل پالیسی شفٹ اور نئی منزلوں پر پڑائو ڈالنے کا اعلان ، عشق کی تازہ واردات میں پرانے احسانات کو روند کر نئی یاریاں لگانے کا اعلان ، جہاں اسے سمجھا جاناچاہئے تھا ، سمجھ لیا گیا ، اور مکمل شرح وبست کے ساتھ اس عکس کے پس منظر میں موجود پیغام کواس کے تمام معانی کے ساتھ ٹھیک ٹھیک ڈی کوڈ کرلیا گیا ، عوامی استفادہ کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ کابل یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ وہ علاقائی سیاست میں ایک نئی سمت اڑان بھرچکا ہے ۔ ایسے وقت میں جب پاک بھارت تعلقات جمود کا شکار ہیں اور طالبان پاکستان تعلقات میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے، کابل اور نئی دہلی دونوں نے ایک محدود مگر سوچا سمجھا تزویراتی قدم اٹھانے کی کوشش کی، اسے اگر سادہ لفظوں میں کہا جائے تو یہ ایک ٹیکٹیکل ری سیٹ تھا۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا مسئلہ تنہائی رہا ہے۔ مغرب سے دروازے بند، علاقائی ہمسایوں سے بداعتمادی اور معیشت کا شدید دباؤ۔ ایسے میں بھارت کی طرف جھکاؤ طالبان کے لیے ایک پرکشش راستہ دکھائی دیا۔ کابل نے یہ سمجھا کہ نئی دہلی کے ساتھ تعلقات نہ صرف سفارتی توازن پیدا کریں گے بلکہ پاکستان پر انحصار کم کرنے کا موقع بھی دیں گے۔ یہی وہ نکتہ تھا جہاں چاہ بہار بندرگاہ کو ایک خواب کی طرح پیش کیا گیا۔چاہ بہار کو افغان طالبان نے محض ایک تجارتی راستہ نہیں سمجھا بلکہ اسے پاکستان کو بائی پاس کرنے کی ایک علامت بنا دیا۔ کابل میں یہ تاثر مضبوطی سے ابھرا کہ اگر افغانستان کو سمندر تک براہ راست رسائی مل جائے تو وہ پاکستان کے ٹرانزٹ کارڈ سے آزاد ہو سکتا ہے۔ اس سوچ میں جذبات بھی شامل تھے اور سیاست بھی، قابل فہم ہے کہ چاہ بہار کے رومانس نے طالبان کو’’ پچھلے پیار ‘‘ بھلا دئے ،اسلام آباد سے تعلقات میں سرد مہری پیدا کرنا ایک طرح سے دانستہ فیصلہ تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ خارجہ پالیسی خواہ کتنی ہی پرجوش کیوں نہ ہو، جغرافیہ اس پر آخری مہر ثبت کرتا ہے۔ افغانستان ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے اور اس کی عالمی منڈیوں تک سب سے مختصر، سستی اور عملی رسائی پاکستان کے راستے ہی ممکن ہے۔ یہ حقیقت دہائیوں سے قائم ہے اور کسی نعرے یا تصویر سے تبدیل نہیں ہو سکتی۔ اس کے باوجود کابل اور نئی دہلی نے چاہ بہار کو ایک متبادل کے طور پر غیر معمولی حد تک بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔شروع میں امیدیں بہت تھیں، بھارت نے چاہ بہار میں سرمایہ کاری کی، ایران نے میزبانی کی اور افغانستان نے اسے پاکستان سے بے وفائی کی کنجی جان لیاا۔ کابل میں اعلان کئے گئے کہ ااب افغان تجارت کراچی اور واہگہ کی محتاج نہیں رہے گی۔
مگر وائے افسوس ۔۔
وقت کے قاضی نے سب کھول کر رکھ دیا کہ چاہ بہار کا راستہ نہ صرف طویل ہے بلکہ تاریکیوں کا مسکن بھی ، یہ بھارت کی خارجہ پالیسی کا ایک ایسا گہرا تضاد ہے۔ چاہ بہار کو سیاسی ضرورت کے تحت ایک علامت بنا دیا گیا، حالانکہ یہ کبھی بھی معاشی طور پر پائیدار منصوبہ نہیں تھا، تزویراتی خودمختاری کے نام پر بھارت نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا جو خود اس کے مفادات سے بھی ہم آہنگ نہیں تھا۔ افغانستان کے لئ یہاں سے تجارت کراچی بندرگاہ یا زمینی راستوں کے مقابلے میں چالیس سے پینتالیس فیصد زیادہ مہنگی ثابت ہوئی، لیکن طالبان رجیم کی نفرت نے انہیں ایسا اندھا کیا کہ وہ بھارت کے ٹریپ میں آنکھیں بند کرکے چل نکلا ، اور اب بنیا کا حساب کتاب سامنے آیا تو بھارت کے لیے اس منصوبے میں فعال رہنا مشکل ہو گیا، اوپر سے ایران پر ممکنہ امریکی پابندیوں کا خوف۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نئی دہلی خاموشی سے نکل گیا اور کابل والوں کے خواب دھرے رہ گئے ۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں افغان طالبان کی پالیسی پر سوالیہ نشان کھڑے ہو جاتے ہیں کہ جس چاہ بہار کے سہارے پاکستان سے فاصلہ بڑھایا، آج وہی دغا دے گیا ؟ تو اب کیا ہوگا ؟ کون سا روٹ ؟ کون سا راستہ ؟ بھارت عملی طور پر چاہ بہار سے فرار ہو چکا ، وہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال کو کر سکتا ہے ، لیکن یہاں موجود اپنے دہشت گردوں اور طالبان کو کوئی ٹھوس مدد فراہم شائد ہی کر سکے ، جس کا خواب طالبان دیکھ رہے تھے ۔یہ صورتحال کسی ایک ملک کی شکست نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک سبق ہے کہ جذبات، نعروں اور علامتی تصاویر سے علاقائی معاشیات نہیں چلتی ، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہمارے پڑوسی اس سے سبق سیکھیں گے ؟ شائد نہیں ۔طالبان نے چاہ بہار کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ تعلقات میں جو سرد مہری دکھائی، وہ اب خود ان کے لیے مشکل سوالات پیدا کر ے گی ۔
عشق کی یہ داستان جسے بڑے چاؤ سے شروع کیا گیا تھا، اب ادھوری لگتی ہے۔ نئی دہلی کی خاموش واپسی نے کابل کو ایک بار پھر تنہا موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب فیصلہ یہ ہے کہ کیا افغانستان حقیقت پسندانہ راستہ اختیار کرے گا یا پھر ایک اور خواب کے پیچھے وقت ضائع کرے گا۔ آخر میں بات وہی ہے جو تاریخ بار بار سکھاتی ہے۔ جغرافیہ مستقل ہوتا ہے، پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں۔ جو ملک اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے، وہی آگے بڑھتا ہے۔ افغانستان کے لیے بھی دیرپا استحکام کا راستہ نعروں میں نہیں بلکہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ عملی، متوازن اور حقیقت پر مبنی تعلقات میں پوشیدہ ہے، لیکن ہمارے یہ دوست تو اس سے الٹ راستے پر گامزن ہیں ، پاکستان کے بعد تاجکستان کی سرحد ، تار تار ہے اور ایران کو بھی زخم دینے کی تیاری جاری ہے ، ازبکستان کے لئے بھی کوئی شاخ زیتون نہیں ، یہ جس راستے پر چل پڑے ہیں ، وہ صحرا میں بھٹکنے جیسا ہے ، کسی نخلستان تک پہنچنے کا امکان نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں