سرینگر کے نوگام پولیس سٹیشن میں ہلاکت خیز دھماکہ مودی حکومت کا ایک نیا فالس فلیگ آپریشن دکھائی دیتا ہے ،جس کی بنیاد پر وہ پروپیگنڈے کا طوفان مچائے گا اورکشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلے گا، یہی چانکیہ کا اصول تھا ۔رات کے ساڑھے سات بجے تھے۔ گورہ بکرال کا چھوٹا سا تھانہ اچانک آسمان کی طرف اڑ گیا۔ 9لاشیں بکھر گئیں، کئی زخمی چیخ رہے تھے، اور چند سیکنڈزمیں بھارتی ٹی وی چینلز نے ہاہاکار مچاکر رکھ دی ۔ لیکن جو لوگ پچھلے 24 سال سے بالکل یہی فلم بار بار دیکھ رہے ہیں، ان کے لیے یہ کوئی نیا سین نہیں، بس وہی پرانی کہانی کانیا ایڈیشن ۔ بلکہ کہانی بھی نئی نہیں، ویسے تو انسانیت دشمن فالس فلیگ آپریشنز کا یہ سلسلہ پون صدی سے جاری ہے ، لیکن صرف دسمبر 2001ء سے اس کا نیا باب شروع ہوتا ہے۔ جب سردیوں کی ایک دوپہر ، دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا ڈرامہ رچایا گیا ،5دہشت گرد سفید ایمبسیڈر گاڑی میں آئے، فائرنگ کی، گرینیڈ پھینکے، اور پھر مر گئے۔ اگلے دن بھارت نے پاکستان کو جنگ کی دھمکی دے دی۔10 لاکھ فوج سرحد پر کھڑی کر دی گئی۔ پورا ملک “جنگ، جنگ” چلانے لگا۔10سال بعدکاغذات کھلے تو پتہ چلا کہ وہ پانچوں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ’’جوگاڑ‘‘تھے۔ ایک کو راء نے کرگل سے اٹھایا ، دوسرے کو آئی بی نے کشمیر سے، تیسرے کو سپیشل سیل نے پیسے دےکر تیار کیا تھا لیکن حقیقت کھلنے تک دیر ہوچکی تھی ،جنگ کی دھمکی سے بھارتی فوج کو کئی ارب روپے کا اضافی بجٹ مل چکا تھا، اور کشمیر میں کرفیو مزید جان لیوا ہو چکا تھا۔پھر جولائی 2006ء میں ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سات بم پھٹے۔ دو سو معصوم مارے گئے۔ پہلے دن سے لشکرِ طیبہ کا نام لیا گیا۔ ہ پولیس کمشنرہیمنت کرکرے نے تفتیش شروع کی تو 26/11 کے دوران اسے گولی مار دی گئی۔ کرکرے کی موت کے بعد فائلیں کھلیں تو پتہ چلا آر ڈی ایکس بھارتی فوج کی ’’پونے‘‘ لیبارٹری سے آیاتھا، ٹائمر بھارتی انجینئرنگ کور نے بنائے ، اور اصل پلانر کرنل پرشوتم شرما تھا جو آر ایس ایس سے رابطے میں تھا ،لیکن سچ سامنے آنے تک ملک میں ہندو مسلم فسادات کروا کے مہاراشٹر میں حکومت بنا لی گئی تھی۔
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
پھر آتا ہے نومبر 2008ء ۔ ممبئی کا تاج ہوٹل جلادیا گیا۔ اجمل قصاب نامی ایک کردار کو زندہ پکڑنےکا ڈرامہ رچایا گیا۔10سال بعد وکی لیکس نے امریکی سفارتی کیبلزلیک کیں کہ ڈیوڈ ہیڈلی دراصل رااور سی آئی اے کا ڈبل ایجنٹ تھا، اس نے تاج ہوٹل، اوبرائے اور ناریمن ہاؤس کے نقشے خود بھارتی انٹیلی جنس کو دیے تھے، اور حملہ آوروں کو ممبئی پولیس کی ایک گاڑی نے جائے وقوعہ تک پہنچایا تھا ا۔ مقصد؟ اوباما کے دورے سے پہلے پاکستان پر دباؤ ڈالنا اورکشمیر میں جاری انسانی حقوق کی رپورٹس کو دبانا۔جنوری 2016ء میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ ہوا۔ چار “دہشت گرد” مارے گئے۔ بھارت نے پاکستان کو “سرجیکل سٹرائیک” کی دھمکی دی۔ چند ماہ بعد NIA کی اندرونی رپورٹ لیک ہوئی کہ حملہ آور بھارتی فوج کے یونیفارم میں تھے، انہیں ایئر بیس کے اندر سے ہی داخل کیا گیا تھا، اور ہوائی اڈے کا کمانڈنٹ خود اس پلان کا حصہ تھا۔ لیکن تب تک فوج کو نئے جنگی طیارے خریدنے کے لیے اضافی بجٹ مل چکا تھا، یہ وہی رافال ڈیل تھی ،جس میں اربوں کی کرپشن کا الزام اب تک مودی کا پیچھا کر رہا ہے ۔فروری 2019ء کا پلوامہ تو سب کو یاد ہے۔ عادل احمد ڈار نامی کشمیری لڑکے کو بھارتی فوج نے اٹھایا، تشدد کیا، RDX سے بھری گاڑی میں بٹھایا، اور CFفوجی قافلے کے سامنے دھکیل دیا، 44 فوجی مارے گئے۔ بھارت نے بالاکوٹ پر بم برسانے کا ڈرامہ رچایا جواب میں پاکستان سے جوتے کھائے ۔ دو سال بعد Caravan میگزین نے پچاس صفحات کی رپورٹ شائع کی کہ عادل ڈار کو میجر نتن گوگوئی نے خود تشدد کرکے مارا تھا، گاڑی میں دھماکہ خیز مواد بھارتی انجینئرز نے بھرا تھا،اور پلوامہ کےایس پی نے خود روڈ کلیئر کروائی تھی لیکن سچ سامنے آنے تک دیر ہوچکی تھی بی جے پی نے لوک سبھا الیکشن جیت لیا گیا تھا، فوج کو40 ارب روپے کا ایمرجنسی فنڈ مل چکا تھا۔
یہی 2023ء میں راجوری میں ہوا،یاتریوں کی بس پر گولیاں چلیں، بھارتی میڈیا نےچوبیس گھنٹے ’’پاکستانی دہشت ‘‘ گرد کا رونا رویا۔ تین دن بعد مقامی لوگوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز ڈال دیں کہ بس کو بھارتی فوج نے خود روکا، مسافروں کو اتار کر مارا، اور پھر کہا گیا کہ دہشت گرد بھاگ گئے، یوں یہ بھارتی فالس فلیگ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا ۔ مقاصد پونے نہ ہونے کے سبب اگلے سال 2024ء کے اپریل میں وہی ڈرامہ پہلگام میں دہرایا گیا، سیاحوں پر فائرنگ ہوئی،دو دن تک پاکستان کو گالیاں دی گئیں۔ دو ہفتے بعد مقامی لوگوں نے دو افراد کو شناخت کرکے پولیس کے حوالے کیا ، عوامی’’ تواضح‘‘ کے نتیجے میں مان گئے کہ ’’دہشت گردی کا بیانیہ زندہ رکھنے‘‘ کے لیے انہیں فائرنگ کا حکم ہوا تھا ۔یعنی ایک اور فالس فلیگ ناکام ۔
اور اب بھارتی ذلت کا ’’تاج محل ‘‘ مودی کے ارمانوں کی’’ ارتھی‘‘ آپریشن سندور کا جواز فالس فلیگ آپریشن ، ایک بار پھر سٹیج پہلگام میں سجایا گیا ، غالباً گزشتہ سال کی خفت مٹانے کی کوشش ۔ 22 اپریل 2025 کومسلح افراد نے فوج کے زیر کنٹرول سیاحتی مقام پر حملہ کیا 26 شہریوں کو قتل کر دیا، الزام حسب پلاننگ پاکستان پرڈال دیا گیا، گوکہ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہ تھا کہ فوج کے سخت کنٹرول میں ایک گرائونڈ میں حملہ ہوا اور کسی نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش تک نہیں کی کیوں؟ اس کے بعد آپریشن سندورکا جو حشر پاکستان نے کیا ، اور جواب میں آپریشن بنیان مرصوص میں مودی کی جو مٹی پلید کی ، وہ تاریخ کا حصہ ہے ۔ المیہ مگر یہ ہےکہ مودی وہ دم ہےجو سیدھی نہیں کی جا سکتی ، اب گورہ بکرال کے تھانے میں دھماکہ اوردہلی حملہ ایک سوچا سمجھاسکرپٹ ہے،لیکن ایک تبدیلی کے ساتھ کہ پہلے حملے کے فوراً بعد پاکستان کی جانب تھوتھنی اٹھائی جاتی تھی ، اب تفتیش کا ڈرامہ ڈال دیا گیا ہے ۔ اس سب کا پس منظر اس کے سوا کیا ہے کہ جب کشمیری عوام کی آواز بلند ہو، اقوام متحدہ میں کشمیر کی رپورٹ آنے والی ہو،عالمی میڈیا میں جعلی مقابلوں کی خبریں چلنے لگیں، تو بھارت اپنے چند اہلکاروں کی لاشیں گرا کر کہتا ہے: “دیکھو ہم دہشت گردی کے شکار ہیں”۔ ہر واردات کے بعد بجٹ بڑھتا ہے، اختیارات بڑھتے ہیں، کشمیر میں کرفیو لمبا ہوتا ہے، گھروں میں چھاپے بڑھتے ہیں، نوجوان غائب ہوتے ہیں، اور ماں کے آنسو بہتے رہتے ہیں۔
اب شائقین تھک چکے ہیں، لیکن ڈائریکٹر وہی پرانی فلم چلا نے پر مصر ہے، صرف ہیلی کاپٹر شاٹس اور VFX زیادہ ہیں۔وہ یہ نہیں سمجھ رہا کہ اب پردہ اٹھ چکا ہے ، دنیا جان گئی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم بھارتی فوج خود ہے، اور فالس فلیگ اس کا سب سے پسندیدہ، سب سے مہنگا، اور سب سے خون آلود ہتھیار ہے۔