مزید خاموش رہنے کا وقت نہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ہمیں صاف صاف دیکھنا اور سچ کو سچ کہنا ہوگا۔ جو لوگ دہشت گردی کی بربریت دیکھ کر بھی سیاسی مفادات کی ڈگڈگی بجا رہے ہیں ، انہیں کم از کم شرم کرنی چاہئے اور سوات، بونیر اور شانگلہ کے دن یاد کرنے چاہئیں۔ یہ علاقے پاکستان کی تاریخ میں قربانی کی زندہ مثال ہیں، جہاں عوام نے دہشت گردوں کے خلاف کھڑے ہو کر ثابت کیا کہ امن مفت نہیں ملتا۔ آج تیراہ میں وہی پرانا کھیل کھیلا جا رہا ہے،المیہ مگر یہ ہے کہ یہاں عوام اور ان کی رائے کو یرغمال بنا کر دہشت گردوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، ایک جانب سیاسی گدھ ہیں جو اس قدر بے بصیرت کہ مفادات سے آگے کچھ دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے ، دوسری جانب منشیات مافیا ہے ، جس کی فیکٹریاں اور گودام اس علاقے میں ہیں اور دہشت گردوں کی موجودگی ان کے انسانیت کش دھندے کے تحفظ کا بڑا ذریعہ ہے ، بعض مبصرین کسی گٹھ جوڑ کی بھی بات کرتے ہیں ، جو زیادہ تشویشناک ہے ۔
سوات، بونیر اور شانگلہ کی کہانی پاکستان کی جدوجہد کی ایک روشن مثال ہے۔ 2007 سے 2009 تک یہ علاقے دہشت گردوں کے قبضے میں تھے، نام نہاد شریعہ کے نام پر ظلم کی انتہا کر دی گئی۔ سکول جلائے گئے، لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگائی گئی، اور معصوم شہریوں کو سرعام سزائیں دی گئیں۔ سوات کی خوبصورت وادیاں خون سے لال ہو گئیں۔ لیکن عوام نے ہمت نہیں ہاری۔ جب پاک فوج نے آپریشن راہِ راست شروع کیا، تو مقامی لوگوں نے ریاست کا ساتھ دیا۔ وہ اپنے گھر چھوڑ کر دربدر ہوئے، لاکھوں لوگ آئی ڈی پیز بنے، لیکن دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکے۔ بونیر میں لوگوں نے لشکر تشکیل دیے اور شدت پسندوں کا مقابلہ کیا۔ شانگلہ کے پہاڑوں میں بھی یہی جرات دیکھی گئی۔ نتیجہ؟ آج یہ علاقے امن کی مثال ہیں۔ سیاح سوات آتے ہیں، تعلیم بحال ہے، اور معیشت ترقی کر رہی ہے۔
تیراہ کی فسوں خیز وادی بھی آج دہشت گردوں کے چنگل میں ہے ، جو سوات اور مینگورہ سے بھاگے تھے، وہی آج یہاں سکون برباد کرنے کی کوشش میںہیں۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے ہمارے جوانوں کے سر قلم کیے، ویڈیوز بنا کر انسانیت کو شرمندہ کیا، اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔ تیراہ کے لوگ، جو پہلے سے ہی مشکلات کا شکار ہیں، اب مزید دکھ اٹھا رہے ہیں۔ دھماکے، اغوا، اور قتل – یہ سب وہی پرانی حکمت عملی ہے۔ کچھ لوگ اسے دیکھ کر بھی خاموش ہیں اور کچھ سیاسی مفادات کی خاطرمنفی بیانیہ بنا کر سلامتی کی اس جنگ کو ڈالروں کی جنگ ارو معدنیات پر قبضے کا پروپیگنڈہ کرکے دہشت گردوں کی تقویت کا باعث بن رے ہیں ۔ کوئی انہیں بتائے کہ سوات اور بونیر میں معدنی وسائل تیراہ سے کہیں زیادہ ہیں؟ سوات میں زمرد، قیمتی پتھر، اور دیگر معدنیات کی بہتات ہے، لیکن وہاں کے عوام نے کبھی دہشت گردوں کو ڈھال نہیں بنایا، ان کے معدنیات انہیں کی امانت تھے ، انہی کے رہے ، البتہ دہشت گرد اکھاڑ پھینکے گئے ۔
بات کڑوی سہی لیکن کہے بنا چارہ نہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف مورچہ زن سپاہی پر الزام کی سیاہی وہی پھینکے گا جو دہشت گردوں کا ساتھی ہوگا ، جو ان کے لئے سہولت کاری کرنا چاہتا ہوگا ۔یہ سیاست نہیں ملک کی بقا کی جنگ ہے ، ملک کے کسی ایک انچ کو بھی کسی بھی وجہ سے دہشت گردوں کے کنٹرول میں نہیں رہنے دیا جا سکتا ،جو بھی دہشت گردوں کا حامی ہے ، ان کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ بنتا ہے ، وہ سیاسی ڈھال اٹھائے یا مذہب کا لبادہ اوڑھے وہ صرف دہشت گردوں کو ساتھی ،سہولت کارا ور شریک جرم ہے ، اس کے خلاف وہی کارروائی اتنی ہی شدت سے ہونی چاہئے ،جس کا سزاوار بندوق بردار دہشت گردہے ۔تیراہ میں آپریشن کی مخالفت اور فورسز کے خلاف پروپیگنڈہ در اسل تیرہ کے عوام سے دشمنی ہے ، انہیں دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑنے کی سازش ، یہ معاملہ اب کوئی زیادہ نا اقابل فہم بھی نہیں رہا کہ ایسا کیوں ہے کہ کارروائی دہشت گردوں کے خلاف ہوتی ہے اور چیخیں کہیں اور سے برآمد ہوتی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرتے ہیں، دہشت گردوں کو “مظلوم” بنا کر پیش کرتے ہیں، اور ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ معصومیت کا پردہ ہے، جس کے پیچھے ریاست مخالف ایجنڈا چھپا ہے۔
سوباتوں کی ایک ہی بات کہ تیراہ کو آج اسی اتحاد کی ضرورت ہے جو سوات میں دیکھا گیا۔ مقامی قبائل، عوام، اور ریاست کو مل کر کھڑا ہونا ہوگا۔ تیراہ کے لوگ بہادر ہیں، انہوں نے ماضی میں بھی دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، اب بھی کریں گے ۔ ۔ لیکن اب وقت ہے کہ پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہو، انہیں سیاسی مداریوں اور منشیات فروشوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، وہ اسی طرح سے پاکستان کے محب وطن شہری ہیں ،جیسے اسلام آباد، لاہور ،پشاور یا کسی بھی دوسرے شہر کے لوگ ۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کی مدد کرے، ان کی ضروریات پوری کرے اور ترقیاتی کام شروع کرے تاکہ دہشت گردی کی جڑیں کمزور ہوں۔ ریاست، فوج، اور عوام کا اتحاد ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ان چہروں کو پہچانیں جو دہشت گردی کو جواز دیتے ہیں، اور انہیں بے نقاب کریں۔ ہمارے جوان ہمارے کل کے لیے آج لڑ رہے ہیں؛ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔