Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

کسی نئے نائن الیون کا انتظار کیوں ؟

ہمیں تو پہلے بھی کوئی شبہ نہیں تھا ، یقین کامل بلکہ عین الیقین تھا کہ دہشت گردی بی ایل اے اور اس قماش کی تمام تنظیموں کا دھندا ہے، چند بگڑے نوبزادے بھارت اور اسرائیل کی چاکری کرتے ہوئے ، غریب بلوچوں کے بچوں کو مروا رہے ہیں اور لاشوں کے پیسے کھرے کر رہے ہیں ۔ اب پوری دنیا یہ تسلیم کرنے لگی ہے کہ بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے ، اس کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں ، یہی وجہ ہے کہ ملا ہیبت اللہ کی چھتر چھائوں تلے آباد دہشت گردی کے پینوراما میں بی ایل اے بھی القاعدہ ، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کا حصہ ہے ۔ یہ تمام درندے انسانیت کو نوچنے کے لئے ایک دوسرے سے ہر طرح کا تعاون کرتے ہیں۔ بظاہر القاعدہ ،ٹی ٹی پی اور طالبان اسلام کا نام لے کر امریکہ دشمنی کا نعرہ لگاتے ہیں اور بی ایل اے لبرل ازم اور قوم پرستی کا نعرہ لگا کر مذہب دشمنی کا اعلان کرتی ہے لیکن پس پردہ مقصد چونکہ ایک ہے تو یہ سب اکٹھے ہیں بلکہ یک جان کا لفظ زیادہ بامعنی ہوگا بلکہ داعش خراسان کے بعض گروپس جو جی ڈی آئی سے رابطے میں ہیں اور المرصاد کی زنجیر محبت کا حصہ ہیں ، وہ بھی اسی دہشت گردوں کی منڈلی کا حصہ ہیں ۔ درندوں کا یہ اتحاد صرف پاکستان نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی امن کے لئے بھی ایک ایسا خطرہ ہےجس میں صرف ایک ملک لڑرہا ہے یعنی پاکستان ۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی فورسز کے تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے ان دہشت گردوں کو بھرتیاں ملنا مشکل ہو رہا ہے تویہ خواتین کی آڑ میں پناہ لینے کی کوشش میں ہیں ، بی ایل اے کی جانب سے شہناز نام کی ایک خاتون کی کمانڈ میں جن خواتین کو دکھایا گیا ہے ، ان میں اکثریت ان کی ہے جنہیں جبرا یا ورغلا کر اس نیٹ ورک کا حصہ بنایا گیا ہے۔
گزشتہ مہینوں میں کئی کیسز ایسے سامنے آچکے ہیں جن میں بلوچ بچیوں نے بتایا کہ کس طرح سے انہیں ہنی ٹریپ کرکے بلیک میل کیاجاتا ہےاورخود کش حملوں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ بلوچیت کے نام پر لاشوں کو بھبھوڑنے والے ان درندوں کے ہاتھوں خود بلوچ خواتین محفوظ نہیں ، حد تو یہ کہ جنہیں یہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں ، ان کی بھی ان کی نگاہ میں کوئی حیثیت کوئی عزت نہیں ، اس غلیظ سسٹم سے بغاوت کرنے والی خواتین اور انٹیلی جنس اداروں کی دستیاب اوپن سورس معلومات کے مطابق اپنی ہی قوم کی ان بچیوں کو جو کسی مجبوری کے تحت ان غنڈوں کے ہتھے چڑھی ہوئی ہیں’’ سویٹ ڈش ‘‘جیسے توہین آمیز ناموں نے پکار کر اپنی دریدہ دہنی اور غلیظ ومکروہ سوچ کی نمائش کر رہے ہیں۔کوئی شبہ نہیں رہاکہ ان دہشت گرد تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا اشتراک، لاجسٹک سہولتیں، تربیتی وسائل، مالی معاونت اور بھرتی کے وسیع نیٹ ورکس فراہم کر رہا ہے، جس کےنتیجےمیں سیکیورٹی فورسز،سرکاری تنصیبات اورشہری آبادیوں کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔ حالیہ برسوں میں دہشت گرد تنظیموں نے معاشی مشکلات، سماجی کمزوریوں اور نفسیاتی عوامل سے فائدہ اٹھاتےہوئے نوجوانوں اورخواتین کی بھرتی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ ان افراد کو نظریاتی طور پر تیار کرنے کے بعد خودکش حملوں، سہولت کاری اور تنظیمی نیٹ ورکس کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لائبہ عرف فرزانہ جسے نہ صرف ایک ممکنہ خودکش کارروائی کے لیےتیارکیاجارہاتھابلکہ اسے مالی طور پر کمزور نوجوان خواتین کو تنظیم میں شامل کرنے کے لیےبھی استعمال کیاجارہا تھا۔اسی طرح رحیمہ بیبی کابیان دہشت گرد تنظیموں کے باہمی روابط کے حوالےسےنئے سوالات کھڑےکررہا ہے کہ کس طرح اس کے شوہر نے زرینہ رفیق نامی ایک خاتون خودکش بمبار کی معاونت کی، جس کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سےبتایاگیا۔حملے سے قبل زرینہ کو افغانستان منتقل کیا گیاجہاں اسے عسکری تربیت فراہم کی گئی کیونکہ ماضی میں خواتین خودکش بمباروں کی بھرتی، تربیت اور استعمال کی حکمت عملی زیادہ تر ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک گروہوں سے منسلک رہی ہے، وہ اب اسے بی ایل اےکو منتقل کررہےہیں۔کوئی شبہ نہیں کہ بی ایل اےکی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافےکی ایک وجہ ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک نیٹ ورکس کے ساتھ تعاون ہے۔یہ گٹھ جوڑدہشت گرد تنظیموں کو اسلحہ اور بارودی مواد تک رسائی، تربیتی سہولتیں، مالی معاونت، آپریشنل رہنمائی اور بھرتی کےمؤثر نیٹ ورکس فراہم کرتا ہے۔
افغانستان میں طالبان سہولت کارمختلف دہشت گردتنظیموں کے درمیان رابطوں اور کارروائیوں میں معاونت کرتے ہیں جس سےحملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد نسبتاًآسان ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض سیکیورٹی ماہرین اس رجحان کو خطے میں دہشت گردی کی بدلتی ہوئی حکمت عملی کا اہم پہلو قرار دیتے ہیں۔دہشت گردی کے اس پورے نیٹ ورک کی  ڈوریاں کہاں سے ہلتی ہیں اور راتب کون ڈالتا ہے؟ اس حوالہ سے بھارت کا نام توکسی تعارف کا محتاج نہیں لیکن اسرائیل بھی کسی سے پیچھے نہیں ، یہ ہم نہیں کہتےخود امریکی کہہ رہے ہیں ۔ ’’ لیری سی جانسن ‘‘ امریکی سی آئی کا سابق افسر ہے ، ANI نیوز کے اینکر ایشان پرکاش سے ایک انٹرویو میں اس نے بی ایل اے کے تازہ حملے پر بات کی ہےجو کہ خطے کی صورتحال ، دہشت گردوں کے عالمی نیٹ ورکس سے تعلقات کو بے نقاب کیا ہے ۔لیری کہتا ہے ’’میں آپ کی توجہ ایک اوربات کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ پاکستان میں کل جو دہشت گرد حملہ بی ایل اے نےکیا، اس کے بارے میں غور کیجیے۔ آپ جانتے ہیں کہ بلوچوں کے ساتھ طویل عرصےسےکس کے خفیہ تعلقات رہے ہیں؟ امریکہ اور اسرائیل کے۔تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ محض اتفاق ہے کہ عین اس وقت جب پاکستان ایران سے متعلق ایک نئے امن معاہدے کو فروغ دینے اور اس میں ثالثی کا فعال کردار ادا کر رہا ہے، بلوچ دہشت گردوں نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک دہشت گرد حملہ کر دیا؟ کیا آپ واقعی سمجھتےہیں کہ یہ صرف اتفاق ہے؟میں ایسانہیں سمجھتا۔ میرے خیال میں اسرائیل ان کے ذریعے پاکستان کو ایک بہت واضح پیغام دے رہا تھا۔‘‘ اس پر بات پھر ہوگی کہ اسرائیل کیوں اورکیا پیغام دینا چاہتا ہے، ہمیں معلوم ہےاس پیغام کی تمام تر تفصیلات کو ڈی کوڈ کرنےاور اسکاجواب دینے کی پوری صلاحیت موجود ہے اور یہ جواب جلد ہی وہ موصول بھی کرلےگایقیناً۔ سوال البتہ یہ ہےکہ دہشت گردوں کا یہ تال میل جسے روسی انٹیلی جنس وسط ایشیاء کے لئےخطرہ قرار دے رہی ہے ، ہمارے خیال میں پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے ، اس کے خلاف جنگ تنہا پاکستان کیوں لڑ رہا ہے؟ روس سے امریکہ تک تمام ممالک کیا کسی نئی نائن الیون کے منتظرہیں ؟اگر ایسا ہی ہےتو یہ سوچ ہی دنیا کی تباہی کے لئے کافی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں