Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اولی الامر کی بحث اور ملا ہیبت اللہ

طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ آخوندزادہ جانب سے اللہ اور رسول ﷺ کی طرح اپنی غیر مشروط اطاعت کے مطالبہ کے بعد طالبان ارکان میں بھی مخالفانہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں ۔29اپریل کو قندھار میں وزارتِ خزانہ کے ایک سیمینار میں ملا ہیبت اللہ نے کہا تھا کہ ان کی اطاعت اسی طرح سے واجب ہے ، جیسے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اور نافرمانی اسی درجہ کا گناہ ہےجیسے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی ، موصوف نے کہا تھا کہ آج تک کی نافرمانیوں کو ہ معاف کرتے ہیں لیکن آئندہ جو شخص بھی ان کے احکامات کی خلاف ورزی کرے گا اسے سخت ترین سزادی جائے گی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی اطاعت اللہ اور نبی ﷺ کی اطاعت کے برابر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’اگر تم میرے احکامات کی اطاعت نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ تم نے اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات کی اطاعت نہیں کی کیونکہ شریعت بھی حکمران کی اطاعت پر زور دیتی ہے۔‘‘ملاہیبت اللہ کا یہ خطرناک دعویٰ قرآنِ حکیم کی آیتِ کریمہ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ( النساء 59)کو بنیاد بنا کرکیا گیاجبکہ حقیقت یہ ہےکہ اگر کوئی شخص اپنی ذات کے لیےاطاعتِ مطلقہ کا دعویٰ کرےتو یہ دعویٰ درحقیقت نصوصِ شرعیہ کے فہم میں ایک ایسی لغزش ہے جو علم کی کمی سے نہیں بلکہ ترتیبِ استدلال کی خرابی سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس آیت کا مفہوم مفسرینِ سلف کی روشنی میں سمجھا جائے، نہ کہ خواہشِ اقتدار کے آئینے میں۔سب سے پہلے اس امرکو ملحوظ رکھا جائے کہ “اولی الامر” کی تعیین خود سلف میں مختلف رہی ہےاور یہی اختلاف اس دعویٰ کی جڑکاٹ دیتا ہےکہ کوئی ایک فرد اپنی ذات کو اس کا قطعی مصداق قرار دے دے۔علامہ محمود آلوسیؒ اپنی تفسیر روح المعانی میں اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
وقِيلَ: المُرادُ بِهِمْ أهْلُ العِلْمِ، ورَوى ذَلِكَ غَيْرُ واحِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبّاسٍ، وجابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ومُجاهِدٍ، والحَسَنِ، وعَطاءٍ، وجَماعَةٍ… فإنَّ العُلَماءَ هُمُ المُسْتَنْبِطُونَ المُسْتَخْرِجُونَ لِلْأحْكامِ۔ اور یہ بھی کہا گیاہےکہ یہاں (اولی الامر) سے مراد اہلِ علم ہیں۔ یہ قول ایک سے زیادہ اہلِ علم نے عبد اللہ بن عباس، جابر بن عبد اللہ، مجاہد بن جبر، حسن بصری، عطاء بن ابی رباح اور ایک جماعت سے روایت کیا ہےکیونکہ علماء ہی وہ لوگ ہیں جو احکام کو سمجھ کر ان سےمسائل اخذ کرتے ہیں اور ان کا استنباط کرتے ہیں۔۔اسی طرح امام ابن جریر طبریؒ اپنی تفسیرطبری ،امام عمادالدین ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر الدمشقیؒ اپنی تفسیر ابن کثیر اور امام جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابی بکر السیوطیؒ اپنی تفسیر الدرمنثور میں اس آیت کی تفسیر کرتےہوئےسیدنا ابن عباس کا ایک قول نقل کرتے ہیں:عن ابن عباس: يعني أهل الفقه والدين یعنی اس آیت کا مصداق اہل فقہ اور اہل دین ہیں ،، ابن عباس کی ہی ایک دوسری روائت میں :قال: أبو بكر و عمرٰ یعنی اس آیت کا مصداق ابو بکر وعمر ہیں اور ایک اورقول میں: قال: أصحاب السرايا على عهد النبي ﷺ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لشکروں اور سریّوں کے امیر و ذمہ دار لوگ ہیں۔یہ تنوع خود اعلان کر رہا ہے کہ “اولی الامر” کوئی جامد، شخصی لقب نہیں بلکہ ایک ایسا عنوان ہے جو مختلف اعتبارات سے مختلف جماعتوں پرصادق آتاہے۔تفسیر ابن کثیرؒ میں بھی یہی بات موجود ہے:يعني: أهل الفقه والدين، وكذا قال مجاهد وعطاء والحسن البصري وأبو العالية(یعنی: اہلِ فقہ اور اہلِ دین،یہی بات مجاہد، عطاء، حسن بصری اور ابو العالیہؒ نے بھی فرمائی ہے۔)ا اہلِ علم کا اس میں داخل ہوناایک مضبوط اورمتفقہ جہت ہےاور جب ہم امام فخر الدین رازیؒ کی طرف رجوع کرتےہیں تو وہ اس اختلاف میں ترجیح قائم کرتے ہوئےفرماتے ہیں:وَالمُرادُ مِن أُولِي الأَمرِ العُلَماءُ في أَصَحِّ الأَقوالِ، لِأَنَّ المُلوكَ يَجِبُ عَلَيهِم طاعَةُ العُلَماءِ وَلا يَنعَكِسُ۔یہاں امام رازیؒ نے نہ صرف ایک قول کو راجح قرار دیا بلکہ اس کی عقلی و شرعی علت بھی بیان کر دی کہ اصل میں حکمران خود اہلِ علم کے محتاج ہوتے ہیں، نہ کہ علماء حکمرانوں کے تابعِ محض۔
اب سوال یہ ہے کہ جب:اولی الامر کی تعیین میں اختلاف ہےاور ایک قوی و راجح قول اسے علماء پر محمول کرتا ہےاورخودحکمران بھی دینی معاملات میں علماء کے محتاج ہیں،تو پھر کوئی شخص کس بنیاد پر اپنی ذات کے لیے اطاعت مطلقہ کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ قرآن نے اطیعوا کا لفظ اللہ اور رسول کے ساتھ مستقل ذکر کیا یعنی دہرایا ہے مگر “اولی الامر” کے ساتھ اسے نہیں دہرایا ۔ اولی الامر کےساتھ اس کاحذف ہونا خود ایک بلیغ اشارہ ہےکہ یہاں اطاعت، مستقل نہیں بلکہ تابع ہے؛مقصود بالذات نہیں بلکہ مقید بالشرع ہے۔
اسی حقیقت کو حدیثِ نبوی ﷺ نے یوں واضح فرمایا:“إنما الطاعة في المعروف” یعنی اطاعت صرف معروف یعنی جائز کام میں ہے ۔( بخاری: کتاب الجہاد والسیر، حدیث نمبر 7145) اور “لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق” یعنی خالق کی معصیت ( نافرمانی) میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں (مشکاۃ المصابیح 3696 ) دونوں احادیث مبارکہ نے ایک اصول دے دیا ہےکہ اللہ اور رسول کے سوا کسی دوسری اطاعت کامل نہیں ہوگی،اس کا مدار ”معروف“ ہے، نہ کہ منصب؛ اس کا تعلق حق سے ہے، نہ کہ قوت سے اور یہ شریعت کی اطاعت ہے شخصیت کی نہیں ۔ بات صاف ہےکہ دونوں احادیث ایک ہی اسلامی اصول کی وضاحت کرتی ہیں کہ حاکم، والدین، شوہر یا کسی بھی مخلوق کی اطاعت مطلق نہیں بلکہ شرط کے ساتھ ہےجب تک وہ اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے خلاف نہ ہو۔اگر کوئی شخص معصیت (گناہ) کا حکم دے تو اس کی اطاعت نہیں کرنی چاہیے۔ اس لئے اسے اللہ اورا س کے رسولﷺ کی طرح کامل اطاعت نہیں کہا جا سکتااور نہ ہی حکم عدولی کو اللہ اور رسولﷺ کی حکم عدولی کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے ۔
جو شخص آیتِ مذکورہ سے یہ نتیجہ اخذ کرے کہ ”میری اطاعت تم پر واجبِ مطلق ہے“، وہ دراصل اپنی جہالت کا اعلان کر رہا ہےاور اقوالِ سلف کے تنوع سے صرفِ نظرکر رہا ہے،آیت کے اسلوبِ بلاغت کو نظراندازکر رہا ہےاور نصوصِ حدیثیہ کی صریح تحدید کو پسِ پشت ڈال رہا ہے۔ یہ شخص توہین کا مرتکب ہے یا نہیں ، یہ فیصلہ تو علما کریں گےالبتہ طاقت کا حریص اور جاہ پسند ضرور ہے ۔
خلاصہ یہ کہ: اولی الامر ہونا،اطاعت کا سبب تو ہےمگر مطلق اطاعت کاجواز نہیں؛اور امیر ہونا، احترام کامقتضیٰ تو ہے مگر شریعت پرحاکم ہونے کا پروانہ نہیں۔یہی وہ میزان ہے جس میں ہر دعویٰ تولاجائے گاجو اس پر پورا اترے گا وہ حق ہوگا اور جو اس سے ہٹ جائے گا وہ محض دعویٰ رہے گا، دلیل نہ بن سکے گا۔
یہاں ایک سوال یہ بھی ہےکہ اللہ اور رسول کی اطاعت کے معاملہ میں شرعی ا ور غیر شرعی اک جواز ہی نہیں ، ان کی ہر بات تسلیم کرنی ہے ، سمجھ میں آئے تب بھی ، نہ سمجھ آئے تب بھی لیکن اولی الامرسےمراد اگربالفرض محال حکمران بھی لےلیاجائے جیسے کہ ملا ہیبت اللہ کی منشا ہے تو پھر سیدناابوبکر ؓ نے یہ کیوں فرمایا اور باربار فرمایا کہ ’’ اگر میں حق پرہوں تو اطاعت کرنا ، ورنہ نہیں ۔ ‘‘ سیدنا عمر ؓ کو صحابیؓ نے کیوں کہا کہ تم نے کجی اختیار کی تو اپنی تلوار سے سیدھا کردیں گے ،‘‘ کیا وہ قرآن نہیں سمجھتے تھے؟یا ہیبت اللہ کو کوئی زیادہ سمجھ آگئی ہے ۔ ملا ہیبت اللہ کا اپنے احکامات کو اللہ ورسولﷺ کےمثل قراردےرہے ہیں تو یہ فیصلہ کب ہوا؟کس نےکیا ؟ کہ وہ الی الامر ہیں ، اگر حکمران ہوناہی اولی الامرکی دلیل ہےتو اشرف غنی اور حامد کرزئی بھی تو افغانستان کے حکمران تھے، ان کے خلاف ملا ہیبت اللہ اور طالبان کی جدوجہد تو پھر حرام قرارپائے گی؟ ویسے وہ دونوں منتخب ہوکر آئےتھےملا ہیبت اللہ کاتو جائز حکمران ہونا بھی ثابت نہیں ، مسئلہ صرف اتنا ہے کہ وہ دینی اصطلاحات کو استعمال کرکےاپنی شخصی حکومت کے استبداد میں اضافہ چاہتے ہیں تاکہ کوئی چیلنج نہ کر سکےلیکن سوال یہ بھی ہےکہ پھر چھپتے کیوں ہیں ، وزارت اطلا عات کی جانب سے شائع کردہ تقریر میں یہ جملے ہذف کیوں کئے گئے ۔ طالبان کے اہل علم ذمہ داران کو سوچنا ہوگا کہ وہ کس کو مسند پر لے آئے ہیں ؟

یہ بھی پڑھیں