Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

کشمیر پر سازشوں کے جال

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہی نہیں، پاکستانیوں کی سوچ، جذبات اور دلوں میں خون کی طرح موجزن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی شہری بجلی کا ایک یونٹ کی قیمت 40سے 60روپے تک ادا کرتے ہیں مگر کشمیری بھائیوں کو تین روپے فی یونٹ بجلی مل رہی ہے اور کسی کو اعتراض نہیں۔ آزاد کشمیر کی اپنی سالانہ آمدن قریب 60 ارب ہے، اس کا بجٹ مگر 300 ارب سے زیادہ ہے، کسی نے سوچا یہ اضافی 240 ارب کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ وفاق دیتا ہے۔ یہ گرانٹس، سبسڈیز اور ترقیاتی فنڈز پاکستان کے عوام کی جیب سے نکلتے ہیں مگر کسی پاکستانی نے کبھی اس پر آواز نہیں اٹھائی، اعتراض نہیں کیا ،کیونکہ کشمیر ہمارا ہے، کشمیری ہمارے ہیں اور ہمیں دل وجان سے پیارے ہیں۔جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹیط نے تحریک شروع کی تو لاکھوں پاکستانیوں نے اسے حقوق کی آواز سمجھا اور حمایت کی۔ مگر وقت نے حقیقت کھول کر رکھ دی۔ یہ تحریک حقوق کے نام پر پاکستان دشمن عناصر کی آلہ کار بن چکی ہے جو کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہی ہے۔ ان کے بیانات، تقاریر، نعرے اور سوشل میڈیا دیکھ لیں — مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، ریپ، قتل و غارت اور آبادیاتی تبدیلی کے خلاف ایک لفظ نہیں ملے گا۔ مگر پاکستان اور پاک فوج کے خلاف زہر بھرا ہوا ہے۔قوم پرست جماعت جموں کشمیر لبریشن لیگ اور یوتھ عناصر نے اس کمیٹی کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ جلسوں میں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف سرعام نعرے لگتے ہیں۔ کمیٹی قیادت محتاط ردعمل دیتی ہے کہ کہیں ہینڈلر ناراض نہ ہو جائیں، سوال سیدھا سا ہے کہ اگر یہ سب غلط ہے محض الزام ہے تو ان کی آن گرائونڈ قیادت ایسے خبیثوں کی مذمت کیوں نہیں کرتی انہٰں شٹ اپ کال کیوں نہیں دیتی ؟جو پاکستان اور فوج کے خلاف زہر اگلتے ہیں، اس پر وہ آئیں بائیں شائیں کریں گے مگر کھل کر علیحدگی کا اعلان نہیں کریں گے۔پچھلی ہڑتال کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں ملوث 99 فیصد ملزمان انتشاری ٹولے سے تعلق رکھتے تھے۔ انتشاری یو ٹیوبرز بھارتی گودی میڈیااور ’’باہر والوں‘‘ کی ویڈیوز اس بات کی گواہی ہیں کہ یہ کمیٹی کہاں سے آپریٹ ہوتی ہےاور اس کے مقاصد کیاہیں، کھہل کر کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کو سبق سکھادو ۔بھارتی ٹی وی چینلز اور یوتھ سوشل میڈیا اس احتجاج کو بھرپور کوریج دیتے ہیں کیوں ؟
سوال یہ بھی ہے کہ جب بھی بھارتی ’’گودی میڈیا‘‘ یا راٹھ ناتھ جیسے آواز اٹھاتے ہیں تو یہ کمیٹی فوراً ایکشن میں آ جاتی ہے،کیوں ؟ اسے اتفاق کہیں یا ’’حسن اہتمام‘‘۔ اس کمیٹی نے 38 مطالبات پیش کیے35تسلیم کئے جا چکے ، مگر پھر بھی ’’بند مطلب بند‘‘ کا نعرہ، کیوں ؟ حقیقت یہ ہے کہ تحریک اب الیکشن سے پہلے انتشار کا ذریعہ بن چکی ہے، اس کے سوا کچھ نہیں،الیکشن لڑنے کا حوصلہ نہیں، کیونکہ الیکشن میں کام کرنا پڑتا ہے۔ م آسان ہےکہ جتھہ بنا کر ریاست پر ٹوٹ پڑو، یہی انہیں کہا گیا ہے اور یہی کیا جا رہا ہے ۔
سب سے خطرناک مطالبہ مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ ہے۔ آزاد جموں کشمیر اسمبلی میں کل 53نشستیں ہیں, 33 مقامی، 12 مہاجرین (6 جموں ڈویژن، 6 کشمیر ڈویژن)، 5 خواتین، ایک عالم، ایک ٹیکنوکریٹ اور ایک بیرون ملک کشمیری۔ یہ نشستیں کشمیر کے آئین کے Article 22 کے تحت ہیں۔ ان کا تعلق تحریک آزادی کشمیر، حق خود ارادیت اور اقوام متحدہ کی قرار ددوں سے ہے۔مہاجر انہیں تسلیم کیا جاتا ہے جو مقبوضہ کشمیر سے لٹ پٹ کر آئے اور پاکستان میں آکر بس رہے ، یعنی اصل کشمیری، یہ تحریک آزادی کے بانی اور ہیروز کی تسلیم کردہ اور تجویز کردہ سیٹیں ہیں ، جنہیں یہ کن ٹٹے ختم کروانے کے نعرے لگا رہے ہیں ۔ شہید مقبول بٹ نے بھی مہاجر نشست پر الیکشن لڑا تھا۔ 1948 کی پہلی کابینہ میں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے غلام دین وانی اور ثناء اللہ شامیم جیسے راہنما مہاجر وزیر تھے۔ ان نشستوں کا خاتمہ پاکستان کے کشمیر بیانیے کو کمزور کر دے گا۔ انڈیا آرٹیکل 370 ختم کر کے کہہ چکا ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا۔ اگر ہم مہاجرین کو الگ تھلگ کر دیں تو انڈیا کہے گا کہ پاکستان خود تقسیم قبول کر رہا ہے۔دوسری طرف مودی مقبوضہ کشمیر میں باہر سے لوگ لا کر مسلمانوں کی آبادی اور ووٹ کم کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ اور یہاں یہ کمیٹی پاکستان میں بسے کشمیریوں کو کشمیر سے الگ کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ دونوں کا مقصد ایک ہے: اگر کبھی اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل ہوا تو پاکستان میں لاکھوں کشمیریوں کا رائے دہی کا حق ختم ہو جائے۔ فائدہ صرف بھارت کو، نقصان کشمیر کا۔
ان کے جلسہ وجلوس میں جس طرح سے منظور پشتین اور ماہ رنگ لانگو کی حمائت کی جاتی ہے وہ یہ ثابت کرنے کو کافی ہے کہ یہ کن کےنقش قدم پر چل رہےہیں۔
مصنوعی شکایات، جذبات بھڑکانا اور ریاستی اختیار کمزور کرنا یہی ان کا طریقہ ہے۔ علیحدگی کے نعرے لگاتے ہوئے یہ حقیقت سے اندھے بھول جاتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول کے پار بھارتکیا کر رہا ہے۔ جس چیز نے ان کی آبکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے وہ بیرونی حمائت ہے ، جس کے اشارے ہی نہیں ثبوت بھی واضح ہیں ۔ اک جانب بھارتی میڈیا دوسری جانب غیر ملکی ڈائسپورا میں احتجاج، مشکوک فنڈنگ اور بھارتیوں اور انتشاریوں کی اکسانے والی ویڈیوز سب مل کر ایک تصویر بناتے ہیں کہ یہ محض عوامی تحریک نہیں، اسٹریٹجک طور پر اپنی ہی قوم کے خلاف استعمال ہونے والے آلہ کار ہیں ۔عوامی مسائل سے انکار نہیں،جائز ہیں، الیکشن میں دھاندلی اور جعلی ووٹوں کا سدباب بھی لازم ہے، بجلی، ٹیکس، اخراجات میں کمی درست مطالبہ ہو سکتا ہے، اس پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ مگر پولرائزیشن، ہڑتالیں، کاروبار بند کرنا اور پاکستان مخالف نعرے،یہ سب کشمیر اور کشمیریوں کے خلاف سازش ہے۔آج تک پاکستان میں کسی نے کشمیریوں پر شک نہیں کیاگیا۔ پاکستانیوں نے ہمیشہ کشمیریوں کو اپنا حصہ سمجھالیکن یہ تحریک پاکستانیوں اور کشمیریوں کے رشتے میں زہر گھولنے کی کوشش ہے، جسے نہ کشمیری قبول کریں گے، نہ پاکستانی۔
ریاست کو اب فیصلہ کرنا ہوگا ، نرمی اور برداشت بہت ہو چکی ، اب اس طرح کے تخریبی نیٹ ورکس کو ناکام بنانا کلازم ہو چکا ہے،عوام کو اس دھوکے سے اور ان کے فنڈز کے سورسز سے آگاہ کرینا لازم ہے،ورنہ شائد بہت دیر نہ ہوجائے۔پاکستان لاکھوں شہدا کی قربانی پر بنا قلعہ ہے،کشمیر ہمارا اسٹریٹجک تاج ہے، مقبوضہ کشمیر کے بہشت ہائے شہداء میں ہزاروں پاکستانیوں کی قبریں پاکستان اور کشمیر کے تعلق کی گواہ ہیں،چند کوتاہ نظر عناصر کو محبت والفت کے اس رشتے کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، کسی قیمت پر بھی نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں