Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

فقہ اسلامی کاایک اصول اپنی سادگی میں بڑاگہرا ہے کہ غلام کی گواہی معتبر نہیں۔ اس کی علت صاف ہے۔ جس کی روٹی،جس کا رزق،جس کاجینا مرناکسی اورکی مرضی کے تابع ہو، اس سے بےلاگ حق گوئی کی کیاتوقع کی جاسکتی ہے۔ انسان کمزور ہوتا ہے۔ مفاد، خوف اورضرورت اس کےقدم ڈگمگا دیتے ہیں۔ یہی مجبوری بھارتی مولانا سلمان حسینی ندوی کی بھی دکھائی دیتی ہے( یہ مقبول زمانہ کتاب سیرت النبی ﷺ کےمصنف نہیں ) انہیں بہرحال بھارت میں رہنا ہے،مگر ان کا مسئلہ صرف زندہ رہنا نہیں، وہ دلی سرکار کی قربت میں رہنے کے خواہاں بھی ہیں،جس کے سبب وہ بھارتی مسلمانوں کے درمیان بھی رسوا ہوتےرہتے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ قابل احترام اور بڑے خانوادے سے نسبت رکھنے کے باوجود ان کی فکری قامت چھوٹی اورذہن غلامانہ ہے،اوپر سے سوشل میڈیا پروائرل ہونےکا شوق اور اقتدار کے ایوانوں میں آمدورفت کا ذوق بھی ہے۔ اسی چسکے کے باعث وہ وقفے وقفے سے ایسی درفنطنی چھوڑتےہیں جوان کی عزت کی دھجیاں بےشک اڑادے لیکن نئی بحث کا مرکز ضرور بنا دیتی ہے، یہی ان کا مطمع نظر بھی ہے ۔ ایسے لوگوں کے لیے ہی کہا گیا تھا:
ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
موصوف کی ایک ویڈیو وائرل ہے،جس میں وہ پاکستان کو اسلامی قراردیتےہوئےبودی دلیل اور کمزور بیانیےکےساتھ طالبان کی وکالت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، تاریخ گواہ ہےکہ حسن بن صباح کی حشیشین کو بھی عبدالملک بن عطاش اورابونجم سراج جیسے خلیفہ المنتصرباللہ کےدرباری مفتوں کی تائیدحاصل رہی تھی۔ ہردور کے حشیشین کو کچھ نہ کچھ اہل قلم اور اہل منبر میسر آہی جاتے ہیں۔ جدید دور کے حشاشین کے لیےمودی کے درباری سلمان ندوی دستیاب ہیں تو حیرت کیسی؟ ان کی علمی حیثیت کا حال یہ ہےکہ دنیابھر کےاہل سنت انہیں گستاخِ صحابہ کے لقب سےجانتے ہیں۔ ان کی دریدہ دہنی سے جماعت صحابہؓ جیسی مقدس اورمطہرہستیاں محفوظ نہ رہ سکیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے لے کر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر اکابر صحابہ ؓکے بارے میں ان کی تقاریر اور تحریروں میں جو غلیظ زبان اور ننگی گالیاں استعمال ہوئی، وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ جو شخص اسلام کی مقدس شخصیات کے بارےمیں اس درجے کی یاوہ گوئی کرے،اس سے پاکستان کےبارےمیں منصفانہ بات کی توقع کیسےرکھی جا سکتی ہے۔ جس زبان سےصحابہؓ نہ بچ سکے، اس زبان سے ریاست پاکستان کےحق میں کیاخیر نکلے گی۔
یہ پہلاموقع نہیں کہ وہ کسی متنازع اورخون آلودخوارگروہ کےوکیل بن کر سامنے آئے ہوں۔ اس سے پہلے وہ داعش کے بانی ابوبکرالبغدادی کی تعریف میں رطب اللسان رہے، اسے خلیفۃ المسلمین قراردیا،مبارکباد کےخطوط لکھے،بیعت کااظہارکیا۔ یہاں سوال یہ ہےکہ ایک ایسا شخص جوخود کو عالم دین کہتا ہواور عالمی دہشت گرد تنظیم کےسربراہ کومبارکبادبھی دے،وہ بھارت جیسے ملک میں کس انجام سےدوچارہوناچاہیے؟جہاں بےگناہ مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزامات میں ماردیاجاتاہےمگر انہیں نہ صرف سرکاری پروٹوکول میسرہےبلکہ مال ودولت کی فراوانی بھی ۔ اس کےسوا اورکیا مطلب لیاجائے کہ ’’قوم فروختند چہ ارزاں فروختند‘‘۔ ان کا ماضی اس قدر متنازع ہے کہ خود بھارتی مسلمان بھی دو کوڑی کی اہمیت نہیں دیتے،بوجھ سمجھتے ہیں۔ اس پس منظر میں جب وہ پاکستان اوراس کے علما پر انگلی اٹھاتےہیں تو بات محض ایک بیان نہیں رہتی،ایک بڑے سیاسی سیاق کاحصہ بن جاتی ہے ایسے ہی لوگ،جو کفارکی خوشنودی کےلئےدین تک بیچ ڈالیں یہی وہ لوگ ہیں جو قرآن کی اس وعید کامصداق ہیں۔اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖؕ -اِنَّهُمْ سَآءَ مَاكَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(9) ، ترجمہ ـ:انہوں نے اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پربیچ دیاپھر (لوگوں کو) اللہ کی راہ سےروک دیا۔ یہ بہت برا کر رے ہیں،مگر انہیں معلوم نہیں ۔) یہ آیت ایسے مواقع پر غیرمعمولی طور پرمعنی خیز ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خبردی تھی کہ ایک زمانہ آئےگاجب گمراہ علما پیدا ہوں گے۔ وہ علم کو دنیا کے بدلے بیچ دیں گے۔ آج جب ہم ایسے بیانات سنتے ہیں جن میں مذہب کو سیاسی مصلحت کے تابع کیاجارہا ہو، تو یہ تنبیہ یاد آتی ہے۔
سلمان ندوی کا تعلق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈسے بھی رہا ہے۔ 2018میں بابری مسجد کا معامللہ عدالت سے بالا بالا طے کرنے یعنی مسلمانوں کی اجتماعی محنت کو بیچ ڈالنے کی کوشش کرتےپکڑےگئے، سری روی شنکر سمیت مسلم دشمن ہندو رہنماؤں سے شیر شکر ہوتے پائےگئے،جس پر بورڈ سے نکال دئے گئے ۔ ندوۃ پر تاحال قابض ہیں، اور وہاں بھی تنازعات کے سبب اس عظیم الشان علمی مرکز کی عزت ووقار کو داغدارکرنے کےسوا ان کے پاس کچھ بھی نہیں کیونکہ اس کا ہر قدم قرآن وسنت کے بجائے بھارتی را کی پیروی اورہندوتوا اور مودی کی خوشنودی کے لئے اٹھتا ہے ۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ بھارتی خفیہ ادارے بعض مذہبی شخصیات کو اپنے مکروہ مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں، اجیت ڈوول اپنے خطابات میں سب کچھ بیان کرچکا ہے، ملا متقی کی بھارت میں پذیرائی اور دارلعلوم دیوبند میں اسکا پروٹول اسی سلسلہ کی کڑی تھے اور اب مولانا ندوی کا یہ موقف بھی اسی شیطانی اسٹریٹجک فریم ورک کاحصہ ہے۔ ایک ایسا شخص جو ماضی میں داعش کے سربراہ کی مدح سرائی کر چکا ہو، آج طالبان کے حق میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتا ہے تویہ اس کی سادہ لوحی نہیں بلکہ ہندوتوا کے استعماری اور مسلم دشمن ایجنڈے کے لئے دین سے غداری ہے ۔
پاکستان کے علماءنےتاریخی طور پر برصغیر ہی نہیں پوری دنیا کے دینی حلقوں کو متاثر کیا اوراپنامقام بنایاہے، افغانستان اور دنیا بھر کےلاکھوں تشنگان علم نے یہیں سے علم کی پیاس بجھائی ہے ۔ ندوۃ العلماء کے قابل احترام سپوت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ عرف علی میاں ندویؒ پاکستان کو عالم اسلام کااہم مرکز اوردنیا کے لئے مشعل راہ قرار دیتے تھے۔ان کے نزدیک پاکستان دنیا کے لئے ایک اسلامی ماڈل اورمدارس کو امت کی بقا کا ضامن قرار دیتے تھے ، 1964ء، 1978ء، 1986ء اور آخری دورہ 1998ء میں ان لیکچرز کے مجموعے احادیث پاکستان” اور “تحفہ پاکستان” کے نام سے شائع ہوچکے ہیں ۔ انہی مدارس سے ہندوستان اور افغانستان کے ہزاروں طلبہ نے تعلیم پائی۔ ایسے ملک اور اس کے علما کو غیر اسلامی قرار دینا کوئی علمی فتوی نہیں بلکہ ہندوتوا کی چاکری ہے ، خاص طور پر جب عالمی سطح پر مسلمہ شخصیات، جیسے مفتی تقی عثمانی، اپنی علمی خدمات کے باعث پورے عالم اسلام میں معتبر سمجھی جاتی ہیں۔علامہ اقبالؒ نے ایسے ہی بندگان اقتدار کے لئے کہا تھا:
مُلّا کو جو ہے ہِند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
یہ شعر آج بھی سوال بن کر کھڑا ہے۔ اگر کسی عالم کو اقتدار کے سائے میں سانس لینے کی سہولت مل جائے تو کیا وہ واقعی آزاد ہے۔2021 کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ معاشی روابط، انسانی امداد اور سفارتی سطح پر تعاون کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے ٹی ٹی پی کی بڑھتی کارروائیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سرحد پار دہشت گردی کسی ذمہ دارریاست کےلیےقابل قبول نہیں ہوسکتی۔ دفاعی اقدامات کو جارحیت کہنا علمی بددیانتی ہے ۔ بھارتی شہری کی حیثیت سے سلمان ندوی کے بیانات کو نئی دہلی کی علاقائی سازشوں سےالگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ فقہ کا وہ اصول پھر یاد آتا ہے۔ غلام کی گواہی معتبر نہیں۔ جو شخص اپنے ماحول، اپنے مفاد، اپنی سلامتی اور اپنے سیاسی سرپرستوں کا اسیر ہو، اس سے غیرجانبدارفیصلہ اور بےلاگ رائے کی امید رکھنا سادہ لوحی ہے۔ مسئلہ شخصیات کا نہیں،اصول کا ہے۔ دین کو سیاست کا آلہ بنانے والے ہمیشہ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اہل نظر انہیں پہچانتے ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں