سماجی ارتقا اور آسمانی تعلیمات
انسانی سماج لمحہ بہ لمحہ تغیر پذیر ہے اور اس میں ہر پیش رفت کو ارتقا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ تغیر اور پیش رفت سوسائٹی کے مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر ہوتی ہے اس لیے ہر
انسانی سماج لمحہ بہ لمحہ تغیر پذیر ہے اور اس میں ہر پیش رفت کو ارتقا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ تغیر اور پیش رفت سوسائٹی کے مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر ہوتی ہے اس لیے ہر
(گزشتہ سے پیوستہ) مغرب نے آزادیٔ رائے اور حکومت کی غلط پالیسی پر اسے ٹوکنے کو فرائض کے زمرہ سے نکال کر حقوق کے دائرہ میں شامل کر لیا۔ اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ یہ ایک اختیاری
جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو مخاطب کی زبان میں اس کی ذہنی سطح اور نفسیات کے مطابق پیش کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کے قریشی سردار جب جناب رسول
آج کا موضوع ہے ’’سیرۃ النبیؐ اور قیدیوں کے حقوق‘‘ کہ حضورؐ قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا کرتے تھے۔ قیدی اس زمانے میں مختلف قسموں کے ہوتے تھے۔ ایک تو جنگی قیدی ہوتے تھے۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ کے بزرگوں بالخصوص حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری کا شکرگزار ہوں کہ وہ مجھے میرے پرانے گھر میں کبھی کبھی یاد کر لیتے ہیں، حاضری ہو جاتی ہے، نسبت و تعلق میں
سود کو تمام آسمانی شریعتوں میں مشترکہ طور پر حرام اور ناجائز کی حیثیت حاصل رہی ہے اور جس طرح قرآن کریم نے سود کے لین دین سے منع کیا ہے بائبل میں بھی اس کی ممانعت موجود ہے۔ چنانچہ
محرم الحرام اسلامی ہجری سن کا پہلا مہینہ ہے اور یہ ہر سال اپنے ساتھ امت مسلمہ کے دو عظیم سانحوں کی یاد لے کر آتا ہے۔ یکم محرم الحرام امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظمؓ کا یوم شہادت ہے
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کے جو حقوق بیان فرمائے وہ اس طرح ہیں کہ ان کی خوشی غمی میں شریک ہوا جائے، ان کی بیمار پرسی کی جائے، حال احوال کی خبر رکھی جائے، ان
(گزشتہ سے پیوستہ) (۱) آپ بتوں کو توڑ رہے ہیں، ہمارا بنو ثقیف کا بت ’’لات‘‘ ہے، ہم اس کی عبادت نہیں کریں گے لیکن آپ اسے نہیں توڑیں گے اور وہ قائم رہے گا، اس لیے کہ وہ ہمارا
میں سراجا ً ‘ منیرا ً سیرت انسٹیٹیوٹ ڈھاکہ کی انتظامیہ بالخصوص مولانا ابو صابر عبد اللہ کا شکر گزار ہوں کہ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے منعقدہ اس آن لائن سیمینار