(گزشتہ سے پیوستہ)
(۱) آپ بتوں کو توڑ رہے ہیں، ہمارا بنو ثقیف کا بت ’’لات‘‘ ہے، ہم اس کی عبادت نہیں کریں گے لیکن آپ اسے نہیں توڑیں گے اور وہ قائم رہے گا، اس لیے کہ وہ ہمارا ثقافتی ورثہ اور یادگار ہے۔
(۲) دوسری شرط یہ ہے کہ آپ پانچ نمازوں کا حکم دیتے ہیں، ہمیں انکار نہیں ہے مگر ان کے اوقات ہم اپنی مرضی سے اپنی مصروفیات اور سہولت کے مطابق طے کریں گے۔
(۳) تیسری شرط یہ ہے کہ آپ نے شراب کو حرام قرار دیا ہے، ہمارا علاقہ انگور کی پیداوار کا ہے جس سے شراب بنتی ہے، ہم کچا انگور مارکیٹ میں لے جاتے ہیں تو خرچہ پورا نہیں ہوتا، اور اگر نچوڑ کر شراب بنا کر بیچیں تو سارے خرچے نکل آتے ہیں۔ یہ ہماری معیشت کا مسئلہ ہے، ہم شراب نہیں چھوڑیں گے۔
(۴) چوتھی بات یہ ہے کہ آپ نے سود کو حرام قرار دیا ہے، دوسری اقوام کے ساتھ ہماری تجارت سود کی بنیاد پر ہوتی ہے، اس کے بغیر کاروبار نہیں چل سکتا، اس لیے ہم سود نہیں چھوڑیں گے۔
(۵) جبکہ پانچویں شرط یہ ہے کہ آپ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے اور اس سے منع کرتے ہیں، ہمارے ہاں شادی دیر سے کرنے کا رواج ہے تو گزارہ نہیں ہوتا، اس لیے ہم زنا بھی نہیں چھوڑ سکیں گے۔
یہ ہماری شرائط ہیں، اگر قبول ہیں تو کلمہ پڑھا دیں، ہم مسلمان ہونے کے لیے تیار ہیں۔ میں اپنی زبان میں ترجمہ یوں کیا کرتا ہوں کہ یہ پانچ کام تو ہم نہیں کریں گے، اگر اس کے بعد کلمہ میں کچھ باقی رہ گیا ہے تو ہمیں کلمہ پڑھا دیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرائط قبول کرنے سے انکار فرما دیا۔ وہ رات اپنے خیموں میں واپس چلے گئے، باہمی مشورہ کیا تو یہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی کہ یہ شرائط قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔ جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مکہ مکرمہ کا اسلام ساٹھ ستر میل کے فاصلے پر طائف کے اسلام سے مختلف ہو۔
جبکہ میں اس حوالے سے یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ مکہ مکرمہ کے اسلام سے طائف کا اسلام مختلف ہو جاتا تو پاکستان اور بنگلہ دیش کا اسلام تو بالکل ہی مختلف ہوتا۔ یہ سوچ کر انہوں نے شرائط سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا اور اگلے روز جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر غیر مشروط طور پر کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔
آج کی دنیا میں امت مسلمہ کو تیسرا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ کم و بیش سبھی مسلم حکومتیں بہت سے بین الاقوامی معاہدات میں شریک ہیں۔ سب سے بڑا معاہدہ انسانی حقوق کے چارٹر کا ہے، پھر عورتوں کے بارے میں، بچوں کے بارے میں، غلاموں کے بارے میں، قوموں کے بارے میں بہت سے معاہدات ہیں جن کی تعداد یورپی یونین کے ایک اعلان کے مطابق دو درجن سے زائد بیان کی جاتی ہے۔ ان معاہدات کی پابندی کریں تو ہمیں اپنے بہت سے شرعی احکام و قوانین اور تہذیبی و ثقافتی روایات سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
اس حوالہ سے میری گزارش یہ ہوتی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوسری اقوام سے معاہدے کیے تھے، معاہدات نبھائے بھی تھے، ختم بھی کیے تھے، نظرثانی کا ماحول بھی پیدا کیا تھا اور کچھ معاہدات کی بعض شقوں پر نظرثانی ہوئی تھی۔ جبکہ ایک مرحلہ میں ایسے معاہدات سے عمومی براءت کا اعلان بھی فرما دیا تھا ’’برآءۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عاہدتم من المشرکین‘‘۔ میری دو گزارشات ہیں:
ایک مسلم حکمرانوں سے کہ وہ سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پہلو کا غور سے مطالعہ کریں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کیسے کیے تھے، کیسے نبھائے تھے، بعض معاہدات میں نظرثانی کے حالات کیسے پیدا کیے تھے، اور بہت سے معاہدوں سے براءت کا اعلان کیسے فرمایا تھا؟ مسلم حکمرانوں کو اس کی روشنی میں بین الاقوامی معاہدات کے حوالے سے طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔
اور دوسری گزارش علماء امت سے ہے کہ وہ آج کی عالمی صورت حال، عالمی تقاضوں اور معاہدات کا مطالعہ کریں اور اجتماعی دینی موقف واضح کریں کہ ان حالات میں قرآن و سنت کی تعلیمات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ و سیرت کی روشنی میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ یہ ہماری ذمہ داری اور امت مسلمہ کی ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔