اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات
(گزشتہ سے پیوستہ) گویا اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق کسی مجرم کو دی جانے والی سزا کا تشدد اور تذلیل کی آمیزش سے خالی ہونا ضروری ہے اور جس سزا میں ان میں سے کسی کوئی عنصر موجود ہوگا
(گزشتہ سے پیوستہ) گویا اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق کسی مجرم کو دی جانے والی سزا کا تشدد اور تذلیل کی آمیزش سے خالی ہونا ضروری ہے اور جس سزا میں ان میں سے کسی کوئی عنصر موجود ہوگا
(گزشتہ سے پیوستہ) سیکولرازم کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ یورپ میں بادشاہ، کلیسا اور جاگیردار کے اتحاد ثلاثہ نے جب غریب عوام پر زندگی کا دائرہ تنگ کر دیا اور بادشاہت اور جاگیرداری کے خلاف بے بس عوام
(گزشتہ سےپیوستہ) معاشرہ میں حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ اور حضرت عثمان جیسے مالدار تاجر بھی تھے مگر ان کا رہن سہن اور کھانا پینا معاشرہ کے عام آدمی کی طرح تھا۔ اور ان کی دولت
محنت انسانی عظمت کا ایک ایسا عنوان اور اجتماعیت کا ایک ایسا محور ہے جس کے گرد انسانی معاشرہ کی چکی گھومتی ہے اور جس کے بغیر نوع انسانی کی معاشرت اور اجتماعیت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
(گزشتہ سے پیوستہ) یہ ترتیب نزولی نہیں ہے یعنی اس ترتیب پر قرآن کریم نازل نہیں ہوا۔ یہ ترتیب توقیفی ہے جو بعد میں بنی اور اسے بنانے والے حضورؐ ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے حضورؐ کی قائم کردہ ترتیب پر
(گزشتہ سے پیوستہ) میں یہ عرض کر رہا تھا کہ قرآن کریم کے لکھنے میں حضرت زید بن ثابتؓ کا سورس اور ماخذ کیا تھا، انہوں نے یہ قرآن کریم کہاں سے لکھا؟ ظاہر ہے صحابہ کرامؓ سے۔ ہر آیت
(گزشتہ سے پیوستہ) ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اقرأ باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرأ و ربک الاکرم۔ الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔ ‘‘ یہ قرآن کریم کی پانچ آیتیں ہیں جو سب سے پہلے نازل
امریکی ریاست ورجینیا کے دو دینی اداروں دارالہدیٰ اور مدینۃ العلوم میں منعقدہ سلسلۂ محاضرات کا ایک حصہ نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے کہ اس نے زندگی میں ایک بار
گزشتہ روز ایوانِ اقبالؒ لاہور میں شاعرِ اسلام الحاج سید سلمان گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں منعقد ہونے والے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی جس کا اہتمام جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے کیا تھا اور
(گزشتہ سے پیوستہ) ضابطۂ اخلاق کے مطابق روٹی سالن ہم نے پورا لا کر جمع کروانا ہے، اور اگر نقد چار پیسے مل گئے تو وہ ہمارے حق ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہم کسی بڑے گھر میں روٹی