(گزشتہ سے پیوستہ)
سیکولرازم کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ یورپ میں بادشاہ، کلیسا اور جاگیردار کے اتحاد ثلاثہ نے جب غریب عوام پر زندگی کا دائرہ تنگ کر دیا اور بادشاہت اور جاگیرداری کے خلاف بے بس عوام کی بغاوت میں کلیسا اور پادری نے عوام کا ساتھ دینے کی بجائے بادشاہ اور جاگیردار کا ساتھ دیا تو عوامی انقلاب نے بادشاہت اور جاگیرداری کے ساتھ کلیسا اور پادر کی بساط اقتدار بھی الٹ کر رکھ دی اور مذہب کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کر کے اس کا دائرہ کار کلیسا کی چار دیواری کے اندر محدود کر دیا۔ لیکن اس تاریخی پس منظر کے پہلو بہ پہلو ایک اعتقادی اور فکری بنیاد بھی ہے جو سیکولرازم اور مغربی جمہوریت کو نظریاتی قوت فراہم کر رہی ہے۔
مغرب کے مادہ پرستانہ فلسفے کی بنیاد نظریہ ارتقاء پر ہے جس کا خاکہ کچھ اس طرح ہے کہ اس دنیا میں جو کسی پیدا کرنے والے اور چلانے والے خدا کے بغیر خود بخود وجود میں آگئی ہے، انسانی نسل حیوانی ارتقاء کا نتیجہ ہے جو کیچڑ سے جنم لینے والے کیڑے سے شروع ہو کر مختلف زمانوں میں شکلیں بدلتا ہوا انسان کی صورت اختیار کر گیا ہے اور یہ اس کی آخری اور حتمی شکل ہے۔ اسی طرح انسانی معاشرہ بھی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے جو جنگلوں اور غاروں سے شروع ہوا اور مختلف شکلیں بدلتا ہوا اور معاشرت کے مختلف طریقے، قوانین اور نظام آزماتا ہوا جمہوریت، سیکولرازم اور ویسٹرن سولائزیشن کی موجودہ شکل اختیار کر گیا ہے اور یہ انسانی معاشرت کی آخری اور مکمل شکل ہے جس میں اب مزید بہتری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ گویا جس طرح نسلی اعتبار سے انسان آخری منزل میں ہے اور اب اس کے نئی کئی شکل اختیار کرنے کا امکان نہیں ہے، اسی طرح معاشرتی لحاظ سے بھی ویسٹرن سولائزیشن آخری منزل ہے اور اب اس سے بہتر کوئی معاشرتی ڈھانچہ سامنے آنے کا امکان نہیں ہے۔ اسے ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور مغربی دانشور اب ارتقاء کے عمل کے مزید آگے بڑھنے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے مکمل تباہی کو انسانی زندگی کی اگلی منزل قرار دے رہے ہیں۔
اس طرح جب موجودہ انسانی معاشرہ نہ صرف انسانیت بلکہ پوری کائنات ارضی کی آخری، مکمل اور ترقی یافتہ شکل قرار پاتا ہے اور یہی کائنات وجود کا حاصل ہے تو خیر و شر کا آخری معیار بھی یہی ہے۔ اس لیے جسے یہ انسانی معاشرہ خیر قرار دے دے وہی خیر ہے اور جو اس معاشرہ کے نزدیک شر قرار پائے وہی شر ہے۔ اس کے علاوہ خیر اور شر کو ماپنے اور جانچنے کا کوئی اور پیمانہ موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر کسی چیز یاکام کے خیر یا شر ہونے کا فیصلہ کیا جا سکے۔مگر اسلام اس تصور کو سرے سے قبول نہیں کرتا بلکہ اس کے برعکس قرآن و سنت پر یقین رکھنے والے ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ یہ کائنات کسی حادثہ کی پیداوار نہیں ہے بلکہ اسے کائنات کے مالک و خالق اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور وہی اسے ایک نظم کے ساتھ چلا رہا ہے۔ اسی طرح انسانی نسل کسی ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک مستقل مخلوق کے طور پر پیدا کیا ہے اور اشرف المخلوقات ٹھہرایا ہے۔ پھر انسانی زندگی کا ایک معاشرہ کی شکل اختیار کر جانا بھی خودرو ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کے مطابق نسل انسانی کا پہلا فرد ’’حضرت آدم علیہ السلام‘‘ علم، قانون، شرم و حیا، لباس اور مکان کی سہولتوں سے بہرہ ور تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہر باشعور مسلمان یہ عقیدہ بھی رکھتا ہے کہ نسل انسانی اس دنیاوی زندگی میں آسمانی ہدایات کی پابند ہے جو اس کے پاس اس کے خالق و مالک کی طرف سے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعہ آئی ہیں اور ان ہدایات کی آخری اور مکمل شکل جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں جن پر عملدرآمد زندگی کے اگلے اور آخری مرحلہ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات میں انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہے لیکن اس تفصیل کے ساتھ کہ اس کے لیے ’’احسن تقویم‘‘ کا خطاب بھی استعمال کیا گیا ہے اور اسے ’’اسفل سافلین‘‘ کے مقام کا مستحق بھی قرار دیا گیا ہے۔
گویا انسان اور انسانی معاشرہ کی موجودہ شکل آخری اور حتمی نہیں ہے، یہ امتحانی گزرگاہ ہے جس سے گزر کر اگلی زندگی میں اسے ’’احسن تقویم‘‘ یا ’’اسفل سافلین‘‘ کی منزل سے ہمکنار ہونا ہے اور وہی اس کا ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ ہوگا۔ اس لیے موجودہ انسانی معاشرہ جب آخری اور حتمی منزل نہیں ہے تو اس کی سوچ اور عقل بھی خیر اور شر کا آخری معیار نہیں ہے بلکہ خیر اور شر کا حتمی معیار آسمانی وحی ہے جس کی مکمل شکل جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی صورت میں موجود ہے۔
معزز شرکائے محفل! یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی پہلی دفعہ میں تمام انسانوں کو آزادی اور حقوق کے ساتھ ساتھ تکریم میں بھی برابر قرار دیا گیا ہے جبکہ اسلام تمام انسانوں کو تکریم کا یکساں مستحق تسلیم نہیں کرتا۔ اس کا اصول ’’ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم‘‘ ہے کہ جو اچھے کردار کا حامل ہے وہ تکریم کا مستحق ہے اور جس کا کردار انسانی اخلاق کے مطابق نہیں ہے وہ تکریم کا حقدار نہیں ہے۔
اس پس منظر میں چارٹر کی دفعہ ۵ کا جائزہ لیا جائے تو جرائم کی اسلامی سزاؤں کو غیر انسانی قرار دینے کی وجہ بھی سمجھ میں آجاتی ہے۔ دفعہ نمبر ۵ کا عنوان ہے ’’تشدد کا خاتمہ‘‘ اور اس میں کہا گیا ہے کہ:
’’کسی شخص کو تشدد اور ظلم کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور کسی شخص کے ساتھ غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک نہیں کیا جائے گا یا ایسی سزا نہیں دی جائے گی۔‘‘
( جاری ہے )