Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

قرآن کریم کا متن اور حدیثِ نبویؐ

(گزشتہ سے پیوستہ)
میں یہ عرض کر رہا تھا کہ قرآن کریم کے لکھنے میں حضرت زید بن ثابتؓ کا سورس اور ماخذ کیا تھا، انہوں نے یہ قرآن کریم کہاں سے لکھا؟ ظاہر ہے صحابہ کرامؓ سے۔ ہر آیت کے متعلق کسی صحابیؓ سے پوچھا کہ آپ نے یہ آیت سنی ہے؟ جواب ملا، جی سنی ہے۔ پوچھا، حضورؐ نے یوں ہی پڑھی تھی؟ صحابیؓ نے تصدیق کی، جی بالکل یوں ہی پڑھی تھی۔ پوچھا، میں حضورؐ کے ارشاد کے مطابق ٹھیک پڑھ رہا ہوں؟ جواب ملا، جی بالکل ٹھیک پڑھ رہے ہیں۔ اور پھر صحابیؓ کا یہ بتانا کہ میں نے حضورؐ سے یہ آیت فلاں سورت میں فلاں جگہ پر سنی تھی۔ اب یہ ساری باتیں کیا کہلاتی ہیں؟ اسے حدیث کہتے ہیں۔ یہی قرآن کریم کا سورس اور ماخذ ہے۔
اور قرآن کریم کی آیات کا جو ایک ذخیرہ جمع کیا گیا، وہ کیا تھیں؟ وہ صحابہ کرامؓ کی روایات تھیں۔ یعنی کسی صحابی کا یہ کہنا کہ میں نے حضورؐ سے فلاں سورت یوں سنی تھی اور لکھ لی تھی۔ کسی نے کہا میں نے حضورؐ سے فلاں آیات فلاں سورت میں اِس طرح سنی تھی اور لکھ لی تھی۔ سوال یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘ سے لے کر ’’من الجنۃ والناس‘‘ تک جو قرآن کریم لکھا، اگر یہ حدیث ذریعہ نہ ہو، تو کیا قرآن کریم کے کسی جملے تک پہنچنا ممکن ہے؟
ایک صاحب سے گفتگو ہوئی، پرانی بات ہے۔ ان صاحب نے کہا، حدیث ماننا ضروری نہیں ہے، بس قرآن کریم کو ماننا ضروری ہے۔ میں نے کہا بھئی بات سنو، میرا آپ سے ایک سوال ہے: کیا ’’انا اعطیناک الکوثر‘‘ قرآن کریم کی سورت ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں ہے۔ میں نے پوچھا، اس کی دلیل کیا ہے؟ آپ کیسے ثابت کریں گے کہ یہ قرآن کریم کی سورت ہے۔ کہتے ہیں، رسول اللہؐ نے بتایا کہ یہ قرآن کی سورت ہے۔ میں نے پوچھا، ’’رسول اللہؐ نے یہ سورت قرآن میں شامل کی‘‘ یہ بات کیا کہلاتی ہے؟ جب ہم یہ کہیں گے کہ فلاں آیت حضورؐ نے قرآن کی آیت قرار دی اور ایک صحابیؓ نے نقل کر کے ہم تک پہنچائی۔ یہ بات کیا کہلاتی ہے؟ یہی بات تو حدیث کہلاتی ہے۔ پھر دوسری بات یہ کہ حضورؐ کی اس بات پر ایمان لائے بغیر سورۃ الکوثر کے قرآن کریم کی سورت ہونے پر ایمان آخر ممکن کیسے ہوگا؟
سورۃ الکوثر قرآن کریم کی سب سے مختصر سورت ہے۔
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ انا اعطیناک الکوثر۔ فصل لربک وانحر۔ ان شانئک ہو الابتر۔‘‘
یہ قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورت ہے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی انکار کرتا ہے کہ یہ قرآن کریم کی سورت نہیں ہے۔ جبکہ میں اس سے اس بات کا اقرار کروانا چاہتا ہوں کہ یہ قرآن کریم کی سورت ہے، تو میرے پاس اس کی دلیل کیا ہے؟ کس نے کہا کہ یہ قرآن کریم کی سورت ہے۔ کس کے کہنے پر یہ تین آیتیں قرآن کریم میں شامل کی گئی ہیں؟ ظاہر ہے جناب نبی کریمؐ کے کہنے پر، کہ رات کو یہ تین آیتیں مجھ پر نازل ہوئیں، اس کا نام الکوثر ہے اور یہ قرآن کریم کی سورت ہے۔ اور پھر صحابہ کرامؓ نے یہ بات آگے امت تک پہنچائی۔ اب حضورؐ کی بات صحابہ کرامؓ کے ذریعے امت تک پہنچی، یہ بات کیا کہلاتی ہے؟ حدیث دراصل اسی کا نام ہے۔
ہم میں سے تقریباً‌ ہر کوئی یہ جانتا ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے کہ قرآن کریم کی جو سب سے پہلی سورت نازل ہوئی وہ سورۃ العلق تھی: ’’اقرأ باسم ربک الذی خلق۔‘‘ پھر دیگر آیتیں اور سورتیں نازل ہوتی رہیں۔ آخری سورتوں میں ایک سورۃ النصر ہے: ’’اذا جاء نصر اللہ والفتح۔‘‘ اور آخری نازل ہونے والی آیت ہے ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔‘‘
لیکن ہم قرآن کریم کس ترتیب سے پڑھتے ہیں؟ کیا ہم پہلے سورۃ العلق اور آخر میں سورۃ النصر پڑھتے ہیں؟ ہم یقیناً‌ اس ترتیب سے نہیں پڑھتے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم جس ترتیب سے نازل ہوا، وہ ترتیب کس نے بدلی؟ کون اتھارٹی ہے اس پر؟ جب ہم یہ مانتے ہیں کہ قرآن کریم کی پہلی پانچ آیتیں سورۃ العلق کی نازل ہوئی تھیں، تو ہم پہلے وہ کیوں نہیں پڑھتے؟ ہمارے پاس جو مصحف ہے، سورۃ العلق اس کی آخری سورتوں میں سے ہے۔ اور پھر جسے قرآن کریم کی آخری آیت کہا جاتا ہے ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ یہ قرآن کریم کی پانچویں سورۃ میں ہے۔ اب ظاہر ہے یہ ترتیب کسی اتھارٹی نے بدلی ہے اور وہ اتھارٹی جناب نبی اکرمؐ کی ذاتِ گرامی ہے۔ ہم قرآن کریم کو نازل ہونے والی ترتیب کے ساتھ نہیں بلکہ حضورؐ کی قائم کردہ ترتیب سے پڑھتے ہیں۔
یہ سوال کہ قرآن کریم کی پہلی سورۃ الفاتحہ ہے، دوسری البقرۃ ہے، تیسری آل عمران ہے، چوتھی النساء ہے، پانچویں المائدۃ ہے، ایک سو تیرہویں الفلق ہے، ایک سو چودھویں الناس ہے۔ یہ ترتیب کس نے قائم کی اور ہمیں اس کے متعلق کس نے بتایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضورؐ نے قرآن کریم کی یہ ترتیب قائم کی اور صحابہؓ نے آگے امت تک قرآن کریم اسی ترتیب کے ساتھ پہنچایا۔
حضرت زید بن ثابتؓ جو قرآن کریم کے سب سے بڑے کاتب تھے، فرماتے ہیں کہ جب قرآن کریم کی آیت نازل ہوتی تھی تو حضورؐ مجھے بلاتے تھے، اور فرماتے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی ہے، اسے فلاں سورۃ میں فلاں آیت سے پہلے اور فلاں آیت کے بعد لکھو۔ آپؐ نازل ہونے والی آیت بتاتے تھے، جس سورۃ میں درج کرنی ہوتی وہ بھی بتاتے، اور اس کے درج کرنے کی جگہ بھی بتاتے تھے۔ یہ جو ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘ سے لے کر ’’من الجنۃ والناس‘‘ تک قرآن کریم تک جو ترتیب چلی آرہی ہے، جس ترتیب سے ہم آج تک پڑھتے چلے آرہے ہیں، اور قیامت تک اسی ترتیب سے پڑھتے رہیں گے۔ (جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں