محنت انسانی عظمت کا ایک ایسا عنوان اور اجتماعیت کا ایک ایسا محور ہے جس کے گرد انسانی معاشرہ کی چکی گھومتی ہے اور جس کے بغیر نوع انسانی کی معاشرت اور اجتماعیت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کے خالق و مالک نے انسانی معاشرہ کے لیے جو فطری نظامِ زندگی نازل فرمایا اس میں محنت کی عظمت کا نہ صرف اعتراف کیا گیا ہے بلکہ دینِ خداوندی کو پیش کرنے والے عظیم المرتبت انبیاء علیہم السلام کو ’’محنت کشوں‘‘ کی صف میں کھڑا کر کے خداوندِ عالم نے محنت کو پیغمبری وصف کا درجہ عطا فرمایا۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق:
آدم علیہ السلام نے کاشت کاری کی، سوت کاتا۔نوح علیہ السلام نے لکڑی کا کام کیا اور اپنی محنت سے کھاتے تھے۔ادریس علیہ السلام درزی تھے۔شیث علیہ السلام سوت کاتتے تھے۔داؤد علیہ السلام بادشاہ ہونے کے باوجود لوہے کی زرہیں بناتے اور ان کی کمائی کھاتے تھے۔خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت کو اپنا شعار بنایا، بیت اللہ کی تعمیر نو، مسجد کی نبویؐ کی تعمیر اور مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے خندق کھودتے وقت آپؐ نے ’’محنت کش‘‘ کا جو عظیم کردار دنیا کے سامنے پیش کیا وہ محنت کشوں کے لیے مشعلِ راہ ہے:
حضرت جابر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ ہم غزوۂ احزاب کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک سخت چٹان آڑے آگئی۔ آنحضرتؐ کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا تو آپؐ اس حالت میں کہ تین دن سے کچھ نہیں کھایا تھا اور بھوک کی شدت کے باعث پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا، تشریف لائے، کدال اٹھائی اور چٹان کو ریزہ ریزہ کر دیا ۔ (بخاری ص ۸۸ ج ۲)
حضرت براء بن عاذبؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ خندق کی کھدائی کے موقع پر اپنے ہاتھوں سے مٹی اٹھا اٹھا کر باہر پھینکتے تھے۔ (بخاری ص ۵۸۹ ج ۲)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اکثر محنت کش تھے۔ بخاری ص ۲۷۸ ج ۱ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ اور ابوداؤد ص ۵۱ ج ۱ میں حضرت عکرمہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرامؓ ’’عمال انفسہم‘‘ (اپنے کام کاج خود کرنے والے) محنت کش تھے اور موٹا جھوٹا پہنتے تھے جس کی وجہ سے جمعہ کے اجتماع کے موقع پر ان کے پسینہ کی بو پھیلتی تھی۔ اسی بنا پر آنحضرتؐ نے جمعہ کے دن غسل کا حکم دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’محنت کش‘‘ کی کمائی کو سب سے اچھی کمائی قرار دیا۔ بخاری ص ۲۷۸ ج ۲ میں حضرت مقدام بن معدی کربؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ اس سے اچھی کمائی کوئی نہیں کہ انسان اپنے ہاتھ کی محنت سے کھائے۔
اس کے ساتھ ہی جناب رسول اللہؐ نے محنت کشوں کو معاشرہ میں ان کا صحیح مقام دلانے کے لیے جو ہدایات فرمائیں اور قرآن و حدیث میں محنت کشوں کے معاشرتی مقام کا جو نقشہ کھینچا دنیا کا کوئی نظام بھی اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا۔ آنحضرتؐ کی بعثت سے قبل محنت کشوں، غلاموں اور نچلے طبقے کے لوگوں کو معاشرہ میں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، نام نہاد بڑے لوگ ان کے ساتھ بیٹھنا توہین سمجھتے تھے اور انہیں وہ حقوق حاصل نہ تھے جو انسانی معاشرہ میں حاصل ہونے چاہئیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت کشوں کو ان کے صحیح مقام و مرتبہ سے سرفراز فرمایا۔ محنت کشوں سے ’’وڈیروں‘‘ کی نفرت کا اندازہ اس واقعہ سے کیا جا سکتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں جناب نبی اکرمؐ کی مجلس میں حضرت بلالؓ، حضرت خبابؓ، حضرت عمارؓ اور حضرت زیدؓ جیسے حضرات بھی تھے۔ اتنے میں چند کافر سردار آئے کہ ہم آپ کی بات سننا چاہتے ہیں اور شاید سمجھ کر مان بھی لیں لیکن ’’ضعفاء‘‘ کے ساتھ بیٹھنا ہماری توہین ہے، آپ ہمیں الگ مجلس میں اپنی بات سمجھائیں۔ سرداروں اور وڈیروں کی یہ فرمائش اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان الفاظ کے ساتھ رد فرمائی ہے کہ:
’’اے حبیبؐ! (ان کافروں وڈیروں کی وجہ سے ) ان لوگوں کو دور نہ ہٹائیں جو صبح شام اپنے رب کو اس کی رضا کے لیے یاد کرتے ہیں، نہ ان کے حساب کی آپ پر ذمہ داری ہے اور نہ آپ کے حساب کی ان پر ذمہ داری ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ ان کو (اپنی مجلس سے) ہٹا دیں تو آپ کا شمار نا انصافوں میں ہو جائے‘‘۔ (سورہ الانعام)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کے بارے میں، جو محنت کشوں کا سب سے نچلا درجہ اور کمزور طبقہ شمار ہوتا تھا، حسن سلوک کی بار بار نصیحت فرمائی، حتیٰ کہ آپ کی آخری وصیت (الصلاۃ وما ملکت ایمانکم) بھی نماز کی پابندی اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی دو ہدایات پر مشتمل تھی۔ آپؐ نے غلاموں کو معاشرہ میں معیارِ زندگی کے لحاظ سے دوسرے لوگوں کے مساوی درجہ عطا فرمایا اور واضح طور پر ہدایت فرمائی کہ:
’’یہ غلام تمہارے ہی بھائی اور ساتھی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے۔ پس تم میں سے کسی شخص کے تحت اس کا بھائی ہو تو اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے، وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے اور ایسا کوئی کام اس کے ذمہ نہ لگائے جو اس کے بس سے باہر ہو۔‘‘ (بخاری ص ۹ ج ۱)
جناب رسول اللہؐ کے اس واضح ارشاد سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہے کہ جب مالک اور اس کے خرید کردہ غلام کے درمیان معیارِ زندگی کی برابری اسلامی نظام کا بنیادی تقاضا ہے تو آج کارخانہ دار اور مزدور کے درمیان بھی معیار زندگی کی برابری قائم کر کے ہی اسلامی نظام کو صحیح طور پر روبہ عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ آنحضرتؐ کے اس ارشاد پر صحابہ کرامؓ نے انفرادی اور اجتماعی طور پر جس طرح عمل کیا اور خلافتِ راشدہ کی صورت میں اسلامی نظام کا جو مثالی معاشرہ دنیا کے سامنے پیش کیا، دنیا کی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
انفرادی طور پر:حضرت عثمانؓ اپنے غلاموں کو خود اپنے معیار کا کھانا اور لباس مہیا فرماتے۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اپنی لڑکیوں اور لونڈیوں کو ایک جیسا زیور پہناتے۔حضرت ابوذر غفاریؓ اپنا اور اپنے غلام کا لباس ایک ہی کپڑے سے سلواتے۔
اور اجتماعی طور پر:اس معاشرہ میں جہاں بڑے اور چھوٹے طبقوں کی واضح تقسیم موجود تھی، اسلام نے خلافتِ راشدہ کی صورت میں ایسے معاشرہ کی بنیاد ڈالی جس میں بڑے چھوٹے اور متوسط طبقوں کا وجود باقی نہیں رہا تھا۔ معاشرہ میں امیر المؤمنین، صوبوں کے گورنر اور عمّال کا طبقہ بھی موجود تھا اور اس حکمران طبقہ کا معیارِ زندگی وہی تھا جو ایک عام آدمی کا تھا۔
حضرت ابوبکرؓ کے لیے بیت المال سے وظیفہ کے تعین کے لیے مشورہ ہو رہا تھا تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ آپ کی اور آپ کے اہل و عیال کی ضروریات کو معروف طریقہ سے (عام آدمی کی طرح) پورا کرنے کے لیے جتنا وظیفہ ضروری ہو وہی آپ کا ہے۔ اصحابِ شوریٰ نے حضرت علیؓ کے قول کو پسند کیا اور اسی پر فیصلہ ہوگیا (طبری ص ۱۶۴ ج ۴) ۔ جبکہ حضرت عمرؓ نے بھی اپنا اور اپنے گورنروں اور عمّال کا وظیفہ عام آدمی کے گزارے کے مطابق مقرر فرمایا۔
(جاری ہے)