(گزشتہ سے پیوستہ)
ضابطۂ اخلاق کے مطابق روٹی سالن ہم نے پورا لا کر جمع کروانا ہے، اور اگر نقد چار پیسے مل گئے تو وہ ہمارے حق ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہم کسی بڑے گھر میں روٹی لینے کے لیے جا رہے ہوتے تو دعا کرتے جاتے تھے، یا اللہ اس گھر میں روٹی نہ پکی ہو۔
خیر، یہ مدرسہ ہم نے سنبھالا ہے۔ اب بات ہو رہی ہے مضامین کو اکٹھا کرنے کی کہ دونوں کو اکٹھا کرو۔ ہم نے کہا، ٹھیک ہے کر لیتے ہیں۔ جو سبجیکٹ تم نے تعلیمی نصاب سے نکالے تھے وہ واپس لے لو تو اکٹھا ہو جائے گا۔ تبدیلی ہم نے تو نہیں کی۔ مضامین ہم نے نکالے تھے یا تم نے نکالے تھے؟ ہم تو اکٹھا پڑھاتے تھے، ریاضی بھی پڑھاتے تھے، سائنس بھی پڑھاتے تھے۔ اصطلاح کا فرق ہے۔ ہم سائنس پڑھاتے تھے فلکیات کے نام سے، تم فلکیات پڑھاتے ہو سائنس کے نام سے۔ ہم میڈیکل پڑھاتے تھے طب کے نام سے، تم طب پڑھاتے ہو میڈیکل کے نام سے۔ جو مضامین تم نے نکالے تھے وہ واپس لے لو تو بات ختم ہو جائے گی۔ وہ تو تم واپس نہیں لے رہے، تم تو ترجمہ قرآن پاک کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں ہو، ہم سے کیا مطالبے کر رہے ہو؟
میں نے اسلام آباد کے ایک سیمینار میں کہا کہ کیا کالج ترجمہ قرآن پاک پڑھنے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے؟ اگر اکٹھا کرنا ہے تو درسِ نظامی پہ واپس آجاؤ۔ وہ درسِ نظامی جو ملا نظام الدین نے دیا تھا۔ تمہارا فارمولا ہم سمجھتے ہیں کہ کیا ہے، وہی جو ہم نے بہاولپور یونیورسٹی میں تجربہ کر لیا ہے۔ میں تفصیل نہیں دہراؤں گا۔ تمہارا فارمولا یہ ہے کہ ایک امریکی ریسٹورنٹ کے دروازے پہ لکھا تھا کہ یہاں گھوڑے اور خرگوش کا گوشت مکس پکایا جاتا ہے۔ لوگ آتے تھے اور کھاتے تھے۔ کوئی ہمارے جیسا سرپھرا بھی چلا گیا، کاؤنٹر پہ جا کر پوچھا، یہاں گھوڑا بھی پکتا ہے اور خرگوش بھی؟ کہا، جی۔ کیا فارمولا ہے آپ کا؟ جی، برابر برابر، ایک گھوڑا اور ایک خرگوش۔ اس نے کہا، یہ تو نہیں چلے گا۔
ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ فارمولا ان شاء اللہ نہیں چلے گا۔ برابر کرنا ہے تو ۱۸۵۷ء سے پہلے کی پوزیشن پر واپس آجاؤ، ہم حاضر ہیں۔ لیکن ایک گھوڑا اور ایک خرگوش کا فارمولا نہیں چلے گا اور نہیں چلنے دیں گے ان شاء اللہ۔
(۳) ایک بات تم نے اور کی تھی۔ قرآن پاک نے شیطان کی ایک صفت بیان کی ہے ’’یا بنی اٰدم لا یفتننکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنۃ ینزع عنھما لباسھما لیریھما سواٰتھما‘‘ (الاعراف ۲۷)۔ لباس اتروانا کس کا کام تھا؟ شیطان کا۔ تم نے ہمارا لباس تبدیل کرنا چاہا، ہم آج بھی شلوار قمیص میں کھڑے ہیں، پونے دو سو سال کے بعد ہم اسی لباس میں کھڑے ہیں، تم ہمارا لباس نہیں اتروا سکے۔ یہ تہذیب کی جنگ ہے، ثقافت کی جنگ ہے۔ بڑی جنگ ہوئی ہے ثقافت کے نام پر، سولائزیشن کے نام پر۔ الحمد للہ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ امریکہ بھی جاتا رہا ہوں، برطانیہ بھی جاتا رہا ہوں، ہانگ کانگ بھی گیا ہوں، اسی لباس میں گھوما پھرا ہوں۔ ہماری تہذیب نہیں بدل سکے، پورا زور لگا لیا تم نے لیکن ہماری ثقافت نہیں بدل سکے، ہم اسی لباس میں کھڑے ہیں جس میں ۱۷۵۷ء میں تھے۔
(۴) ایک بات اور کہ تم نے ملک کا قانون تبدیل کر دیا تھا۔ ۱۸۵۷ء سے پہلے ملک کا قانون کیا تھا؟ شریعتِ اسلامیہ تھی، فتاویٰ عالمگیری کی صورت میں۔ فتاویٰ عالمگیری کیا تھا؟ شریعتِ اسلامیہ کی احناف کی تعبیر تھی۔ ملک میں قانون کس کا نافذ تھا؟ شریعت کا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں بھی شریعت کا قانون نافذ تھا۔ تم وہ قانون منسوخ کر کے برٹش لاء لے کر آئے۔ ہم نے فیصلہ تو پاکستان بننے کے بعد ہی کر لیا تھا کہ یہ برٹش لاء نہیں چلے گا اور شریعت آئے گی۔ تم رکاوٹیں ڈال رہے ہو۔ ہم وہیں کھڑے ہیں شریعت پر اور قرآن و سنت پر۔ ہم نے برٹش لاء کو کل بھی نہیں مانا تھا، آج بھی نہیں مانیں گے۔
(۵) اور پانچواں، عقیدے کے حوالے سے بھی ہم وہیں کھڑے ہیں۔ ۱۸۵۴ء والے مناظرۃ الکبریٰ کے ماحول ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر رہا تھا، عقائد کے اعتبار سے اور عقائد کی تعبیرات کے حوالے سے۔ آج جدید فکر و فلسفہ کے نام سے بہت کچھ ہو رہا ہے لیکن کیا امت نے قبول کیا ہے، عقائد بدلے ہیں، تعبیرات بدلی ہیں؟
یہ پانچ باتیں میں دہرا دیتا ہوں: (۱) معاشی آزادی اور سیاسی آزادی کے حوالے سے ہم ۱۸۵۷ء میں کھڑے ہیں (۲) تعلیمی نظام کے حوالے سے بھی ہم ۱۸۵۷ء میں کھڑے ہیں (۳) تہذیب و ثقافت کے حوالے سے بھی ہم وہیں ۱۸۵۷ء میں کھڑے ہیں (۴) نظام اور قانون کے حوالے سے بھی ۱۸۵۷ء میں کھڑے ہیں (۵) اور عقائد اور تعبیرات کے حوالے سے بھی ہم وہیں کھڑے ہیں۔
اِس سیمینار کا آج کی دنیا کو پیغام یہ ہے کہ جو کرنا ہے کر لو، ہم وہیں کھڑے ہیں اور وہیں کھڑے رہیں گے، تمہیں واپس جانا ہو گا، ہم آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔